اکتوبر 27, 2020

بین الافغان مذاکراتی ٹیم کے اراکین کا مختصر تعارف

جناب شیخ الحدیث مولوی عبدالحکیم

شیخ الحدیث مولوی عبدالحکیم 1957ء  کو صوبہ قندہار ضلع میوند کے بندتیمور گاؤں میں مرحوم مولوی خدائیداد کے گھر میں پیدا ہوئے۔

طالبان اسلامی تحریک کے آغاز سے مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کے ہمراہ تھے، انہوں نے تحریک کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔

امارت اسلامیہ کی دور حکومت میں قندہار جہادی مدرسہ میں پڑھانے کیساتھ ساتھ محکمہ تمیز اور مرکزی دارالافتاء میں بھی خدمات انجام دیں۔

ملک پر امریکی جارحیت کے بعد مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کے ہدایت کے مطابق عدالتوں کی موجودہ ساخت اور تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، جب موجودہ امیرالمؤمنین شیخ ہبۃاللہ اخوندزادہ حفظہ اللہ عدالت عالیہ کے سربراہ تھے، تو شیخ مولوی عبدالحکیم محکمہ تمیز کے انچارج تھے۔ جب شیخ مولوی ہبۃاللہ اخوندزادہ  کا بطور زعیم امارت اسلامیہ  انتخاب ہوا، تو  عدالت عالیہ کی سربراہی کے امور شیخ مولوی عبدالحکیم کو سونپ دیے گئے۔

اس وقت موصوف امارت اسلامیہ رہبری شوری  کے رکن اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیں۔

ترجمہ : ہارون بلخی

جناب شیر محمد عباس ستانکزئی

شیر محمد عباس ستانکزئی مرحوم حاجی بادشاہ خان کے فرزندہیں، 1959ء کو صوبہ لوگر ضلع برکی برک کے عباس گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مسجد اور کابل میں عمراخان اسکول سے حاصل کی اور کابل فوجی کالج سے فارغ ہوئے۔ سردار محمد داؤدخان نے دیگر طلبہ کے ہمراہ آپ کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بھارت روانہ کیا اور  1981ءمیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد روس کے خلاف جہادی صفوف کا  رخ کرلیا۔ انہوں نے جمعیت اسلامی اور اتحاد اسلامی جماعتوں میں فوجی استاد کی حیثیت سے فرائض منصبی انجام دی اور 1985ء کو اتحاد اسلامی حلقہ جنوب مغرب کے سربراہ مقرر ہوئے۔  انہوں نے قلات، قندہار ایئرپورٹ، لشکرگاہ وغیرہ بڑی بڑی کاروائیوں میں عملی طور پر حصہ لیا اور اسی وقت سے شہید ملا بورجان، شہید ملا مشر، مرحوم ملا محمد ربانی اور دیگر سابق جہادی قائدین  کیساتھ آشنا ہوئے۔ 1990ء کو حرکت انقلاب اسلامی کے جنرل فوجی ذمہ دار کے طور پر منتخب ہوئے اور نجیب حکومت کے سقوط تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ تنظیمی جنگوں (خانہ جنگی) کے دوران گھر پر رہے، جب تحریک طالبان کا قیام عمل میں آیا، تو اس میں شامل ہوگئے۔ طالبان کی حکومت میں پہلے قندہار کے نائب سیکریٹری خارجہ تھے، اس کے بعد کابل میں نائب وزیرخارجہ اور پھر نائب وزیر صحت کے عہدوں پر فائز رہے۔ ملک پر امریکی جارحیت کےبعد آپ نے  ایک بار پھر فوجی اور سیاسی جدوجہد شروع کی، ابتداء میں طالبان سیاسی کمیشن کے رکن، پھر نائب ،اگست 2015ء سےجنوری 2019ء  تک سیاسی دفتر کے سربراہ رہے۔ جناب ستانکزئی امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے منتظم تھے اوراس وقت رہبری شوری کا رکن، سیاسی دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے نائب ہیں۔

ترجمہ : ہارون بلخی

جناب ملا محمد فاضل مظلوم

ترجمہ : ہارون بلخی

ملا محمد فاضل مظلوم 1966ء کو صوبہ روزگان ضلع چارچینہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور دینی علوم ملک  کے اندر مختلف مدارس اور مساجد میں وقت کے مشہور علمائے کرام سے حاصل کی۔

انہوں نے گوانتانا مو عقوبت خانے میں قرآن کریم حفظ کرلیا۔

امارت اسلامیہ کے دوراقتدار میں نائب وزیر دفاع اور چیف آف آرمی اسٹاف تھے۔ افغانستان پر امریکی جارحیت کے ابتدائی دنوں میں آپ کو  شمال میں قیدی بنانے کے بعد  امریکا کے حوالے کردیا گیا۔آپ کو 11 جنوری 2002ء کو کیوبا گوانتامو عقوبت خانے منتقل کیا گیا، تقریبا 13 سال تک وہاں قید رہے۔ آخرکار یکم جون 2014ء کو امریکی قیدی بوئے برگڈال کے تبادلے میں 4 دیگر قائدین کے ہمراہ رہا اور مملکت قطر میں قیام پذیر ہوئے ۔  ملا محمد فاضل مظلوم 2018ء کو سیاسی دفتر اور امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے رکن مقرر ہوئے اوربعد میں مذاکراتی ٹیم کے نائب سربراہ کی ذمہ داری بھی  سونپ دی گئی۔ موصوف اس وقت امارت اسلامیہ افغانستان کے رہبری شوری، سیاسی دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہے۔

جناب مولوی عبدالسلام حنفی

ترجمہ : ہارون بلخی

جناب مولوی عبدالسلام حنفی نے 1969ء کو صوبہ جوزجان ضلع درزآب (درزآب ماضی میں صوبہ فاریاب کا حصہ رہا) کے گردن گاؤں میں جناب علی مردان کے گھر آنکھ کھولی۔

ابتدائی تعلیم شربیگ اسکول میں حاصل کی، جب روس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا، اپنے گاؤں میں دینی علوم کے سلسلے کو جاری رکھا۔ صرف، نحو اور فقہ کی ابتدائی کتب وہی پڑھیں۔اس کے بعد سرپل اور فاریاب صوبوں کے مختلف اضلاع میں مشہور علمائے کرام سے مختلف فنون یعنی نحو، منطق، حکمت، بلاغت، فقہ، قرائت اور تجوید کی کتابیں پڑھ لیے۔

تعلیم کی تکمیل کی غرض سے پاکستان ہجرت کی اور وہاں مارتونگ، ڈاگی اور پشاور میں اعلی منطق، ریاضی، اصول فقہ، ادب، مناظرہ، عقائد اور قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ لیا اور موقوف علیہ تک علم حاصل کرلی۔ اس کے بعد دورہ حدیث کی غرض سے کراچی کے مشہور علمی ادارے دارالعلوم کراچی تشریف لے گئے اور وہاں 1414ھ کو دورہ حدیث مکمل کرلی،اس کے بعد بہاولپور میں اصول افتاء، احادیث، تفاسیر اور فقہ کی کتب ایک مرتبہ پھر پڑھ لیے۔ بعد از آں جامعہ تفسیریہ رحیم یار خان میں فتوی نویسی اور میراث کے علوم حاصل کرلیے۔ موصوف دینی علوم کیساتھ ساتھ چھٹیوں کے دوران مختلف زبانیں، کمپیوٹر پروگرام، ہارڈویئر اور اکاونٹنگ بھی سیکھتے رہتے۔

فراغت کے بعد حنفی صاحب مختلف فنون، علوم موقوف علیہ ،ترمذی شریف اور میراث تک  پڑھاتے۔

موصوف تین سال تک کابل یونیورسٹی میں حقوق اور سیاسی علوم کے شعبہ میں اسلامی ثقافت کے  استاد رہے۔ اسی طرح مختلف ممالک میں سفارتی اور مذاکراتی عمل کے حوالے سے تعلیم حاصل کی ہے۔

حنفی صاحب کی مادری زبان ازبیک ہے، لیکن موصوف پشتو، فارسی، انگریزی، عربی، اردو، قرغیز، ترکمن اور ترکی زبانوں سے بھی واقف  ہیں۔

جب قندہار میں تحریک طالبان کا آغاز ہوا،حنفی صاحب اس وقت مدرس تھے ۔ اپنے شاگردوں اور فاریاب و دیگر صوبوں کے علماء کرائے اور طلباء کے ہمراہ تحریک اسلامی طالبان میں شامل ہوگئے۔

امارت اسلامیہ کے دور اقتدار میں انہوں نے پہلی ذمہ داری صوبہ فراہ میں تعلیم وتربیت کے ڈائریکٹر کے طور پر انجام دی اور پھر کابل میں ایک سال تک نگران وزیر تعلیم رہے اور بعد میں وزارت تعلیم میں نائب وزیر تدریس رہے۔

2001ء کو امریکی جارحیت کے بعد جناب حنفی صاحب کو امارت اسلامیہ نے صوبہ جوزجان کا گورنر مقرر کیا اور کچھ عرصہ کے بعد سیاسی کمیشن کے رکن اور مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد نوراللہ مرقدہ کی جانب سے رہبری شوری کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

اب سیاسی دفتر کے نائب اور مذاکرتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب ملا عبدالمنان عمری

ترجمہ : ہارون بلخی

جناب ملا عبدالمنان عمری صوبہ قندہار ضلع میوند کے رہائشی اور مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد نوراللہ مرقدہ کے بھائی ہیں۔ آپ نے افغانستان میں مختلف مشہور علمائے سے موقوف علیہ تک علوم حاصل کی ہیں۔ مختلف خدمات کیساتھ کمیشن برائے دعوت و ارشاد و بھرتی کے سربراہ اور اسی طرح کمیشن برائے روک تھام شہری نقصانات اور سمع شکایات کے سربراہ بھی رہے۔

موصوف اس وقت رہبری شوری اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب مولوی عبدالکبیر

ترجمہ : ہارون بلخی

صوبہ بغلان ضلع نہرین کے قریہ تنگی تبقان کے علاقے تنگی زدران گاؤں میں 1972ء کو محمد جان کے گھر میں پیدا ہوئے۔

مولوی عبدالکبیر علوم دینیہ سے فارغ التحصیل عالم دین اور قبائلی بااثر رہنما ہیں۔

امارت اسلامیہ کے دوراقتدار میں موصوف نے لوگر اور ننگرہار صوبوں کے گورنر، مشرقی زون کے ڈائریکٹر  اور ریاست الوزراء کے معاشی امور کے نائب کے طور پر خدمات انجام دیں۔

موصوف امارت اسلامیہ کے بااثر قائدین میں  سے ہیں۔ مولوی صاحب 2005 ء کے بعد دو سال تک سیاسی کمیشن کے سربراہ بھی رہے۔

موصوف اس وقت امارت اسلامیہ کے رہبری شوری اور مذاکراتی ٹیم کے رکن،جب کہ کمیشن برائے دعوت و ارشاد کے سربراہ بھی ہیں۔

مولوی امیرخان متقی

ترجمہ : ہارون بلخی

مولوی امیرخان متقی نے 25 فروری 1970ء کو صوبہ ہلمند ضلع نادعلی کے زرغون گاؤں میں مرحوم نادر خان کے گھر آنکھ کھولی۔

ابتدائی تعلیم گاؤں کے مسجد اور علاقے کے پرائمری اسکول  میں حاصل کی۔ ثور کمیونزم کودتا اور روسی جارحیت کی وجہ سے ہمارے اکثر اہل وطن ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ موصوف بھی 9 سال کی عمر میں تیسری جماعت کے طالب علم تھے، اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان مہاجر ہوئے۔

انہوں نے ہجرت کے زمانے میں دینی علوم کے حصول کے سلسلے کو جاری رکھا اور نوجوانی کے دہلیز پر قدم رکھتے ہی جہادی صف کی تشکیلات میں خدمت کا آغاز کیا۔ مولوی امیرخان متقی علوم دینیہ سے فارغ التحصیل ہیں ، موقوف علیہ اور دورہ حدیث کی کتب کابل پر امارت اسلامیہ کے اقتدار کے بعد پڑھی اور دینی علوم سے فراغت کی سند کو حاصل کرلیا۔

جب ملک میں 1994ء کو فساد اور انارشزم کے خلاف طالبان کی تحریک شروع ہوئی، موصوف تحریک میں شامل اور جہادی صف میں خدمت کا آغاز کیا۔

قندہار شہر پر طالبان کے قبضے کے بعد موصوف تحریک اسلامی طالبان سپریم کونسل رکن ہونے کیساتھ 1994ء میں ریڈیو صدائے شریغت قندہار کے سربراہ کے طور پر منتخب ہوئے۔ جولائی 1995ء کو صوبائی انفارمیشن ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہوئے اور کابل کی فتح تک اسی منصب پر رہے۔

جب 27 ستمبر 1996ء کو طالبان نے کابل کو فتح کرلیا، تو متقی صاحب انفارمیشن اینڈ کلچر(اطلاعات اور ثقافت) کے نگران وزیر منتخب ہوئے۔آپ کئی سال اسی عہدے پر فائز رہے ، امارت اسلامیہ کی ترجمانی  اور امارت اسلامیہ کے مؤقف سے میڈیا کو آگاہ کرتے رہتے۔

نومبر 1998ء کوانتظامی امور کے ڈائریکٹر جنرل اور مارچ 1999ء کو وزیر تعلیم مقررہوئے اور امریکی جارحیت تک اسی عہدے پر فائز رہے۔

آپ اس وفد کے سربراہ بھی رہے،جسے امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد نوراللہ مرقدہ نے  اپوزیشن سے گفتگو کی غرض سے تعین کیا تھا۔ آپ کی قیادت میں وفد نے مخالف دھڑوں سے تاشکند میں 6+2 ممالک سمیت اور پھر ترکمنستان کی دارالحکومت عشق آباد،اس کے بعد اسلامی کانفرنس کی ثالثی میں سعودی عرب کے جدہ شہر میں مذاکرات کیے۔

امریکی جارحیت کے خلاف جہاد کے مرحلے میں آپ کئی سال تک کمیشن برائے ثقافتی امور امارت اسلامیہ کے سربراہ رہے۔ آپ نے عقلمند ی سے دشمن کے وسیع میڈیا جارحیت کے خلاف جہادی نشرات کا ایک منظم نیٹ ورک کا قیام عمل میں لایا اور ایک سرگرم ثقافتی ٹیم کے ذریعے جہاد کے حوالے سے دشمن کے پروپیگنڈانہ قبضے کو ناکارہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

مولوی امیرخان متقی رہبری شوری کے رکن،29 رمضان المبارک 1439ھ کو عالی قدر امیرالمؤمنین کے دفتر کے سربراہ کے طور پر تعینات ہوئے اور دو سال اس عہدے پر فائز رہے ، نیز 12 فروری 2019ء کو امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکرات کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ آپ بین الافغان مذاکرات کے لیے امارت اسلامیہ کی تعین شدہ ٹیم کے رکن بھی ہیں۔

ملا نوراللہ نوری

ترجمہ : ہارون بلخی

ملا نوراللہ نوری 1971ء کو صوبہ زابل ضلع شاہ جوئے کے چشمہ بہرام خیل گاؤں میں مولوی غلام عمرالدین کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور اعلی تعلیم ملک کے مختلف مدارس اور مساجد میں حاصل کی۔

انہوں نے گوانتانامو عقوبت خانے میں قرآن کے 20 پارے حفظ کیے اور مادری زبان پشتو کے علاوہ فارسی اور عربی زبانوں میں بلاتکلف گفتگو کرسکتا ہے۔

انہوں نے کم عمر میں سابق سوویت یونین کی جارحیت کے دوران جہاد میں عملی طور پر حصہ لیا اور حرکت انقلاب اسلامی کی صف میں سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔

انہوں نے روسی غاصبوں کے انخلا کے ایک سال بعد 1989ء کو علاقے کے مدارس کے طلبہ کے ہمراہ اپنے علاقے کے نظم وضبط اور منکرات کی روک تھام کی غرض سے تنظیم طلبہ نامی اتحاد قائم کیا،جس کے نائب آپ ہی مقرر ہوئے۔

یہی اتحاد پانچ سال تک جاری رہا اور اس دوران چند اہم کاروائیاں بھی انجام دیے۔

جب قندہار میں مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد نوراللہ کی جانب سے تحریک کا آغاز ہوا اور بولدک پر طالبان نے قبضہ کرلیا، تو نوری صاحب نے ایک ماہ قبل زابل کے شاہ جوئے میں جدوجہد شروع کی تھی، مگر زابل میں کسی سے مسلح جنگ نہیں لڑی گئی، اپنے صوبے کے طلبہ کی  نمائندگی کرتے ہوئے ایک وفد کے ہمراہ قندہار گئے اور امیرالمؤمنین سے ملے، انہوں نے فورا نوری کو ذمہ داری سونپ دی اور اپنے طلبہ کیساتھ فوجی امور میں مصروف ہوئے۔

کابل کی فتح کے بعد آپ دو سال تک صوبہ لغمان کے گورنر رہے،اس کے بعد ایک سال تک بغلان کے گورنر  اور امارت اسلامیہ کی دور حکومت کے آخری سالوں میں بلخ کے گورنر اور شمال زون کے ڈائریکٹر رہے۔

ملک پر امریکی جارحیت کے دوران آپ شمال میں گرفتار ہوئے، 13 سال کئی ماہ تک گوانتانامو عقوبت خانے میں قید رہے۔

آخرکار یکم جون 2014ء کو طالبان اور امریکا کے درمیان ایک تبادلے کی صورت میں چار دیگر ساتھیوں کے ہمراہ رہا اور مملکت قطر کو منتقل ہوئے۔

آپ کو 2018ء میں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر  اورفروری 2019ء میں امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے رکن مقرر کیا گیا۔اس وقت رہبری شوری ، سیاسی دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب قاری دین محمد حنیف

ترجمہ : ہارون بلخی

صوبہ بدخشان ضلع یفتل سلفی کے سپین ارزنجی گاؤں میں مرحوم قاری محمد نذیر کے دیندار گھرانے میں 1965ء کو پیدا ہوئے۔

آپ نے 15 سال کی عمر میں قرآن کریم کا حفظ کرلیا اور اس کے بعد والد محترم سے ابتدائی کتب پڑھیں،ابتدائی تعلیم میں مشغول رہے  کہ ثور منحوس کودتا ہوا۔

جب کمیونسٹ عناصر برسراقتدار آئے اور ان کے خلاف مقدس جہاد اور مسلحانہ قیام شروع ہوا،انہی دین دشمن کمیونسٹوں نے مدارس دینیہ اور تعلیمی اداروں کو بند، تباہ کردیا  اور یا جنگوں کی وجہ سے نقصان سے روبرو ہوئے۔

آخرکار قاری حنیف نے 1984ء کو پاکستان ہجرت کی اور خیبر پشتونخوا کے مختلف مدارس میں اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا۔ موقوف علیہ سمیت تمام مروجہ فنون کو مکمل کرلیا اور جب دورہ حدیث کا ارادہ کرنے لگے، تو اسی وقت ملک کی سلامتی کی غرض سے تحریک اسلامی طالبان کا آغاز ہوا۔ آپ بدخشان کے سینکڑوں طلبہ کے ہمراہ تحریک کے کاروان میں شامل ہوگئے اور کابل کی فتح کے بعد امارت اسلامیہ کے مکمل حاکمیت کے اختتام تک   پلان اور عالی تحصیلات (ہائیرایجوکیشن) کے وزیر کے عہدے پر فائز رہے۔

امریکی جارحیت اور اس کے خلاف جہاد کے آغاز کے بعد 2003ء کو صوبہ بدخشان کے جہادی ذمہ دار اور 2004ء کو سیاسی کمیشن کے رکن مقرر ہوئے۔ اسی طرح عالی قدر امیرالمؤمنین مرحوم ملا محمد عمر مجاہد نوراللہ مرقدہ کے حکم کے مطابق رہبری شوری کے رکن منتخب ہوئے۔

قاری دین محمد حنیف اس وقت رہبری شوری اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں اور سیاسی دفتر میں مشرق وسطی ممالک سے رابطے کا منتظم اعلی ہے۔

جناب ملا عبداللطیف منصور

ترجمہ : ہارون بلخی

ملا عبداللطیف منصورالحاج شہید یار محمد کے فرزند 1967ء کو صوبہ پکتیا ضلع زرمت کے سہاک ہیبت خیل گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ نے پرائمری اور دورہ حدیث تک علم حاصل کی۔ سیاست میں زمانہ طالب عملی سے سرگرم رہے۔ آپ نے سیاسی زندگی کا آغاز تنظیم طلبہ حرکت انقلاب اسلامی افغانستان کی پلیٹ فارم سےدعوت تنظیم کے انچارج سے کیا۔ مجاہدین کی کامیابی کےبعد 1992ء کو جب جہادی قائد نصراللہ منصور شہید ہوئے، تو ان کے جانشین مقرر ہوئے اور صوبہ پکتیا کے گورنر منتخب ہوئے۔

منصورصاحب تحریک اسلامی طالبان کے ابتداء 1994ء میں شامل ہوئے اور مختلف عہدوں پر فائز رہے۔1994ء میں صوبہ ہلمند کے نائب گورنر، قلیل مدت تک قندہار شہر کے میئر رہے اور 1996ء میں وزیرزراعت مقرر ہوئے۔ ملک پر امریکی جارحیت کے بعد منصور صاحب 2002ء کو رہبری شوری کے رکن اور صوبہ پکتیا کے جہادی مسؤل مقرر ہوئے۔ آپ نے 9 سال تک اسی عہدے پر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ آپ ننگرہار اور لوگر صوبوں کے جہادی ذمہ دار بھی رہے۔ 2008ء کو مختصر مدت تک سیاسی کمیشن کے سربراہ بھی رہے۔ مذاکراتی ٹیم اور قطر جانے سے قبل آپ امیرالمؤمنین کے دفتر کے سربراہ  اور اس کے بعد کمیشن برائے زراعت  کے سربراہ تھے۔ فروری2019ء میں آپ امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے رکن مقرر  ہوئے اور اس وقت رہبری شوری اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب شیخ مولوی محمد قاسم راسخ

ترجمہ : ہارون بلخی

شیخ مولوی محمد قاسم راسخ ملا جمعہ نظر کے فرزند 1971ء کو صوبہ جوزجان ضلع فیض آباد کے ابپیکال گاؤں میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی عصری اور دینی علوم ملک میں اور اعلی تعلیم دیار ہجرت میں حاصل کرلی۔ آپ نے 1416ھ کو مظہرالعلوم دارالعلوم صوابی سے دورہ حدیث کا امتیاز حاصل کرلیا۔

آپ کو اپنی مادری زبان (ترکمنی) کے علاوہ پشتو، فارسی اور عربی زبانوں پر بھی دسترس حاصل ہے۔

آپ ترکمن قوم کے بااثر رہنما، جید عالم دین اور استاد حدیث ہیں۔

شیخ راسخ صاحب نے ملک کے مختلف مدارس دینیہ میں 15 سال تک شروح فنون اور عربی لغت کی تدریس کی ہے۔ اسی طرح دیار ہجرت میں 10 سال تک دارالحدیث کے شیخ اور مدرس رہے۔

آپ 2007ء سے 2016ءتک کمیشن برائے دعوت و ارشاد امارت اسلامیہ کے رکن اور صوبہ جوزجان کے صوبائی فوجی کمیشن کے سربراہ رہے۔

جناب شیخ صاحب 2016ء سے 2020ء تک مشرقی و شمالی 20 صوبوں کے فوجی کورٹ کے جج بھی رہے۔

آپ اس وقت امارت اسلامیہ کے رہبری شوری اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب مولوی فریدالدین محمود

ترجمہ : ہارون بلخی

جناب مولوی فریدالدین محمود نے صوبہ پکتیکا کے صدر مقام شرنہ شہر میں مرحوم مولوی محمد عالم صاحب کے دیندار گھرانے میں جنم لیا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم ملک میں اپنے مرحوم والد اور علمائےکرام سے ، دیگر علوم پاکستان کے کوہاٹ اور مردان کے مدارس میں حاصل کیں، جب کہ دورہ حدیث عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں 1396ھ میں مکمل کرلیا۔

داؤد خان کے دور اقتدار میں دیار ہجرت میں 1395ھ میں مرحوم مولوی جلال الدین حقانی اور شہید نصراللہ منصور سے واقف اور ان کے رفیق بنے، مجاہدین کی کامیابی کے بعد پکتیکا کے گورنر رہے۔

امارت اسلامیہ کے دوراقتدار میں کابل میں علوم اکیڈمی میں انسانی علوم کے نائب کے عہدے پر فائز رہے۔

ملک پر امریکی جارحیت کے بعد مولوی محمود صاحب تعلیم وتربیت کے شعبے اور  شرعی عدالت کے  قاضی رہے۔

آپ اس وقت مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب مولوی مطیع الحق خالص

ترجمہ : ہارون بلخی

جناب مولوی مطیع الحق خالص جہادی رہبر مولوی محمد یونس خالص رحمہ اللہ کے فرزند،ان کا تعلق نبی خیل قبیلے سے ہے اور 1961ء کو صوبہ ننگرہار ضلع خوگیانی کے نکڑخیل گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی دینی علوم اپنے والد رحمہ اللہ تعالی اور چچا مولوی محمد یوسف اور مولوی محمد اسحاق محق رحمہمااللہ تعالی سے پڑھیں، جب کہ ابتدائی و متوسط عصری تعلیم اپنے علاقے کے اسکول سے حاصل کی۔

کمیونزم کودتا کے بعد 1978ء کو ہمسائیہ ملک پاکستان ہجرت کی اور بقیہ علوم خیبر پشتونخوا کے مختلف مدارس میں پڑھیں۔ اسی طرح 1988ء کو اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ سے بیچلر تک دینی علوم اور پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔  جب کہ جامعہ امدادالعلوم پشاور سے 1991ء کو دورہ  حدیث کی سعادت سے بھی سرفراز ہوئے۔

آپ حافظ قرآن ہیں،اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو اور عربی بھی بول سکتے ہیں۔ مولوی مطیع الحق خالص 1408 ھ سے مدرسۃ الہجرۃ والجہاد میں استاد اور بعد میں اسلامی حزب کی تنظیم  میں تعلیم وتربیت کے سربراہ کی حیثیت سے بیرونی رفاہی اور امدادی اداروں سے رابطے کے انچارج رہے۔ روسی جارحیت اور کمیونسٹ نظام کے خاتمہ کے بعد 1412ھ سے برہان الدین ربانی کی حکومت اور اس کے بعد امارت اسلامیہ کے قیام کے دوران صوبہ ننگرہار کے تعلیم وتربیت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

امریکی جارحیت کےبعد آپ نے اپنے والد بزرگوار جہادی رہبر مولوی محمد یونس خالص رحمہ اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جہاد کے راستے کو اپنا لیا۔ مجاہدین کی رہنمائی اور عوام کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔ مولوی مطیع الحق خالص فروری 2019ء کو امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے رکن مقرر ہوئے اور اس وقت سیاسی دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب ملا خیراللہ خیرخواہ

ترجمہ : ہارون بلخی

صوبہ قندہار ضلع ارغستان کے گوہری گاؤں میں مرحوم سید ولی کے گھر پیدا ہوئے۔ کمیونزم کودتا کے بعد لڑکپن میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کی اور بلوچستان کے سرانا ن کیمپ، کوئٹہ شہر، جامعہ محمدیہ چراٹ اور کوہاٹ میں دینی علوم کو جاری رکھیں۔

ملا خیراللہ خیرخواہ حافظ قرآن ہیں، موصوف اپنی مادری زبان کے علاوہ فارسی، عربی، انگریزی اور اردو زبانوں میں بلاتکلف گفتگو کرسکتا ہے۔

روس کے خلاف جہاد میں عملی طور پر شرکت کی اور بعد میں تحریک اسلامی طالبان کے آغاز سے مرحوم امیرالمؤمنین محمد عمر مجاہد نوراللہ مرقدہ کی قیادت میں ملک سے فساد کے خاتمہ اور امن و امان کی برقراری میں بھرپور حصہ لیا۔ کابل کی فتح سے قبل طالبان کے ترجمان رہے۔

امارت اسلامیہ کے دوراقتدار میں وزیرداخلہ،اس کے بعد جنوب مغربی حلقہ کے سربراہ اور ہرات کے گورنر مقرر ہوئے۔

ملک پر امریکی جارحیت کے بعد آپ کو 2002ء میں پاکستان میں گرفتارکرنے کے بعد امریکا کے حوالے کردیا گیا۔ یکم مئی 2002ء کو کیوبا کے بدنام زمانہ گوانتانامو عقوبت خانے منتقل کیا گیا اور تقریبا 13 برس وہاں قید رہے۔

ملا خیراللہ خیرخواہ یکم جون 2014ء کو امریکی قیدی کے تبادلے کے نتیجے میں 4 دیگر طالبان رہنماؤں کے ہمراہ رہا اور مملکت قطر میں رہائش پذیر ہوئے۔

آپ 2018ء کو سیاسی دفتر اور امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے رکن کے طور پر مقرر ہوئے اور اس وقت سیاسی دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب شیخ مولوی شہاب الدین دلاور

ترجمہ : ہارون بلخی

شیخ شہاب الدین دلاور، مرحوم مولوی سید اکبر دلاور کے فرزند 1961 ء کو صوبہ لوگر کے صدر مقام پل عالم شہر میں پیدا ہوئے۔ دینی علوم اپنے والد اور لوگر کے مختلف مدارس میں حاصل کیں۔ کمیونزم کودتا کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ پشاور ہجرت کی۔ 1983ء میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ اور پشاور کے مختلف مدارس دینیہ میں تدریس شروع کی۔ طالبان حکومت کے دوران پشاور میں قونصل جنرل،پھر اسلاآباد اور اس کے بعد سعودی عرب میں سفیر رہے۔

اسی طرح آپ نےسپریم کورٹ کے نائب اور قندہار کے تمیز محکمہ میں خدمات انجام دیں۔ ملک پر امریکی جارحیت کے بعد آپ سیاسی کمیشن کے رکن منتخب ہوئے۔ مولوی شہاب الدین دلاور اس وقت سیاسی دفتر میں افغان فریق سے رابط کے انتظامی امور کے  انچارج اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب ملا عبدالحق وثیق

ترجمہ : ہارون بلخی

ملا عبدالحق وثیق صوبہ غزنی ضلع خوگیانی کے غریب قلعہ گاؤں میں ملا محمد نسیم کے گھر پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد اور دیگر دینی علوم ملک کے مختلف مدارس میں حاصل کیں، دورہ حدیث کی چند کتب ملک کی تاریخی پل خشتی مسجد میں عظیم معروف عالم دین کونڑ اخوندزادہ سے پڑھیں۔ آپ نے قرآن کریم حفظ کرلیا ہے اور عربی سمیت تین زبانوں میں بات چیت کرسکتے ہیں۔

آپ نے سیاسی زندگی کا آغاز تحریک اسلامی طالبان سے کیا اور تحریک کے ابتداء میں مرحوم ملا محمد عمر مجاہد نوراللہ مرقدہ کے رفیق بنے۔ آپ طالبان حکومت کے دور میں مختلف عہدے پر فائز رہے۔ ابتداء میں صوبہ نیمروز کے انفارمشین ڈائریکٹر، قندہار پولیس چیف، فتح کابل کے بعد اینٹلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے اسسٹنٹ اور نگران اور بعد میں قندہار اینٹلی جنس سروس ڈائریکٹر کی ذمہ داری بھی  دی گئی۔ آپ رئیس الوزراء کی نگرانی میں قائم ہونےوالے کابل سیکورٹی کمیشن کے رکن بھی رہے۔ ملک پر امریکی جارحیت کے بعد آپ کو امریکی افواج نے غزنی میں گرفتار کرلیا اور تقریبا 12 برس تک گوانتانامو قید رہے۔ یکم جون 2014ء کو طالبان اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی صورت میں 4 دیگر رہنماؤں کے ہمراہ رہا  اور قطر منتقل ہوئے۔ آپ 2018ء کو طالبان سیاسی دفتر کے رکن اور فروری 2019ء میں امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے رکن منتخب ہوئے۔اب سیاسی دفتر میں یورپی سیکشن تعلقات کے سربراہ اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب مولوی محمد نبی عمری

ترجمہ : ہارون بلخی

آپ نے صوبہ خوست ضلع اسماعیل کے شمس خیل گاؤں میں 1971ء کو حاجی محمد عمر کے گھر میں جنم لیا۔ ابتدائی علوم ملک میں حاصل کیں۔ سابق سوویت یونین کے قبضے کے بعد پاکستان مہاجر ہوئے اور دینی علوم پاکستان ہی میں مکمل کرلی۔  دینی علوم اور وفاق المدارس سے سند حاصل کرنے کے بعد 5 سال تک تدریس کی۔ آپ قرآن کریم کے حافظ اور اسی طرح پشتو، فارسی کیساتھ عربی زبان پر عبور رکھتے ہیں۔

آپ نے اپنی سیاسی اور فوجی زندگی کا آغاز جہادی رہنما جناب مولوی جلال الدین حقانی رحمہ اللہ کی قیادت میں کیا اور مختلف کاروائیوں میں پانچ مرتبہ زخمی بھی ہوئے۔ کمیونزم حکومت کے سقوط کے بعد سابق صدر برہان الدین ربانی کے دوراقتدار میں آپ اہل الحل والعقد شوری میں اپنے ضلع کے نمائندہ کے طور پر شریک ہوئے۔آپ مجاہدین کی دورحکومت 1992ء میں دو سال تک خوست کے نائب پولیس سربراہ رہے اور طالبان نے کابل پر قبضہ نہیں کیاتھاکہ آپ صوبہ زابل کے پولیس چیف مقرر ہوئے۔ فتح کابل کے بعد آپ افغان سرحدی فورس کے جنرل کمانڈر کے طور پر مقرر ہوئے۔ ملک پر امریکی جارحیت کے بعد ستمبر2002ء کو امریکی افواج نے آپ کو گرفتار کرلیا اور تقریبا 12 برس تک گوانتانامو میں قید رہے۔ آخرکار یکم جون 2014ء کو طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے تبادلے کی صورت میں 4 دیگر رہنماؤں کے ہمراہ آزاد اور قطر منتقل ہوئے۔ آپ 2018ء میں سیاسی دفتر کے رکن اور فروری 2019ء میں امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کے رکن مقرر ہوئے۔ عمری صاحب فی الحال سیاسی دفتر میں اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے رابطے کا انچارج اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب محمد سہیل شاہین

ترجمہ : ہارون بلخی

آپ مرحوم حاجی غلام محمد خان کے فرزند اور صوبہ پکتیا ضلع احمدآباد کے رہائشی ہیں۔

کابل یونیورسٹی انگلش ڈیپارٹمنٹ سے بیچلر اور صحافت کی ڈگری حاصل کی۔ دینی علوم موقوف علیہ تک  پڑھیں ۔

سوویت یونین کے قبضے کے زمانے قلمی جہاد میں اہم کردار ادا کیا اور متعدد رسالوں میں آپ کی تحریریں شائع ہوئیں۔ آپ اچھے لکھاری اور پشتو کیساتھ انگلش میں بھی کالم لکھتے ہیں، اسی طرح اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ فارسی، عربی، انگریزی اور اردو زبانیں بھی بول سکتے ہیں۔

سابق سوویت یونین کے خلاف جہاد کےوقت  آپ مولوی نصراللہ منصور کی تنظیم حرکت انقلاب اسلامی کے خدام الفرقان مجلے اور( Mujahid (TheVoice of کے ایڈیٹر انچیف اور اسی طرح مجاہدین کی سات تنظیموں کی جانب سے شائع ہونے والے انگریزی مجلے (The Jihad Rays)   کے مدیر بھی رہے۔ آپ نے مولوی نصراللہ منصور کی تنظیم حرکت انقلاب اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے نائب کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔

امارت اسلامیہ کے دور اقتدار میں آپ روزنامہ  (The Kabul times) کے ڈائریکٹر تھے اور پھر نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے امارت اسلامیہ افغانستان کے نمائندگی کے نائب اور بعد میں اسلام آباد میں نائب سفیر  مقرر ہوئے۔

ملک پر امریکی جارحیت کے بعد امارت اسلامیہ کے ثقافتی شعبے میں سرگرم رہے اور الامارہ ویب سائٹ انگلش سیکشن کے ایڈیٹر رہے۔

آپ نے سیاسی دفتر میں ترجمانی کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کی سربراہی کی ہے اور اس وقت سیاسی دفتر کے اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب ملا محمد انس حقانی

ترجمہ : ہارون بلخی

عظیم جہادی شخصت جناب مولوی جلال الدین حقانی رحمہ اللہ کے چھوٹے صاحبزاد صوبہ پکتیا ضلع گردہ سیڑئی کے کنڈو گاؤں کے رہائشی ہیں، جو 1994ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے عصری تعلیم کیساتھ موقوف علیہ تک دینی علوم بھی حاصل کیں ۔ اپنی مادری زبان کے علاوہ دو دیگر زبانیں بھی بول سکتے ہیں۔ سیاست اور کمپیوٹر  کے مختصر تربیتی کورس بھی پڑھ چکے ہیں، تعلیم کا سلسلہ ابھی پورا نہیں ہواتھا کہ امریکا نے  آپ کو اس حال میں گرفتار کرلیا،جب مملکت قطر میں ایک رشتہ دار سے ملاقات کے لیے گئے تھے، تقریبا 5 برس تک بگرام جیل میں قید رہے ، نومبر 2019ء کو دو بیرونی ٹیچروں کیساتھ تبادلے کی صورت میں دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آزاد ہوئے اورآپ کو  قطر منتقل کیا گیا۔ آپ کو فروری 2019ء میں امریکا کیساتھ ہونے والے مذاکراتی ٹیم کا رکن مقرر کیاگیا،جب کہ آپ اس وقت قید میں تھے۔انس حقانی فی الحال قطر میں سیاسی دفتر میڈیا ونگ اور مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں۔

جناب ڈاکٹر محمد نعیم

ترجمہ : ہارون بلخی

شہید ڈاکٹر آغاجان کے فرزند  ڈاکٹر محمد نعیم  نے 1974ء میں صوبہ میدان وردک ضلع چک کے عربان درہ کے بہادر خان گاؤں میں آنکھ کھولی ۔

جب 1980ء میں آپ کے والد کو روس اور کیمونسٹی غلاموں نے شہید کردیا، تو ابتدائی تعلیم اور فارسی نظم کی کتابیں اپنے چچا مرحوم ملا امیرجان سے پڑھی۔ ابتدائی عصری علوم کابل میں سپین گاؤں اسکول سے حاصل کی، بقیہ علوم اپنے علاقے عربان ہائی اسکول اور شہادت مدرسہ میں پڑھیں اور قرآن کریم کا حفظ بھی کرلیا۔

تعلیمی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے1995ء ہمسائیہ ملک پاکستان چلے گئے،2000ء کو  پشاورمیں عربی زبان اور اسلامی علوم ڈیپارٹمنٹ سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔

2004ء کو گولڈ مڈلسٹ حاصل کرنے سے مکمل کرلی۔

اسی سال آپ نے مذکورہ ڈیپارٹمنٹ میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا، 2005ء کو پڑھائی مکمل کرلی اور 2010ء کو ریسرچ مکمل کیا، البتہ ریسرچ کی پریزینٹیشن اب تک باقی ہے۔

بتدائی ہی سے عصری تعلیم کیساتھ ساتھ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دینی علوم کو بھی حاصل کرتے رہے،  باالخصوص چھٹیوں کے دوران اور 2006ء میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے دورہ حدیث مکمل کرکے دستار فضیلت کو اپنے سر پر سجایا، واضح رہےکہ دورہ حدیث میں تقریبا 900 فضلا میں پہلا مقام حاصل کرلیا۔

2008ء سے 2009ء تک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس کی اور 2009ء سے 2011ء تک پشاور میں عربی زبان اور اسلامی علوم کے ڈیپارٹمنٹ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔

امریکی جارحیت کے آغاز سے امارت اسلامیہ کی صفوف میں تعلیم کے ساتھ نظریاتی، جہادی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیاں شروع کیں اور اس راہ میں دشمن کی جانب سے قیدوبند کی مشقتیں اور تکالیف بھی جھیلنے پڑیں۔ آپ  2010ء سے امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر میں خدمات انجام دے رہا ہے۔