دسمبر 12, 2019

اشرف غنی جنگ کے تسلسل کی تلاش میں

اشرف غنی جنگ کے تسلسل کی تلاش میں

تحریر: شاہد غزنیوال

چین کی میزبانی میں 28 اکتوبر کو بیجنگ میں بین الافغان کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ ہوا تھا لیکن اس کانفرنس سے ایک روز قبل کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے اعلان کیا کہ انہوں نے قیام امن کے لئے سات نکات پر مشتمل امن پلان تیار کیا ہے جس میں ملک کے تنازعہ کو حل کرنے، امریکہ کے ساتھ مذاکرات سمیت تمام ضروری امور شامل ہیں ۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اشرف غنی نے امن کے نام پر جنگی منصوبہ تیار پیش کیا بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسے مواقع پر انہوں نے امن کوششوں کو سپوتاژ کرنے کے لئے امن کے نام پر عوام اور دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے وہ بظاہر امن کے خوشنما نعرے لگاتے ہیں لیکن حقیقت میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ خود ہیں ۔

کابل انتظامیہ کے کٹھ پتلی صدر نے دو سال قبل بھی اسی طرح ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس میں امریکہ کی حمایت بھی حاصل کی تھی انہوں نے سعودی عرب کے مکہ مکرمہ اور جدہ میں اور اسی طرح انڈونیشیا میں بھی مذہبی کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا جن میں نام نہاد روحانی رہنماوں کو جمع کیا گیا اور ان کی جانب سے جہاد اور مجاہدین کے نام پر جعلی فتویٰ جاری کیا گیا تاہم اشرف غنی کے اس منصوبے پر اگرچہ متعدد سرکاری اور درباری روحانی رہنماوں نے تائید کا مہر ثبت کیا لیکن ملک میں جنگ ختم ہونے کے بجائے اس میں مزید شدت آئی، جب ٹرمپ نے نئی جنگی حکمت عملی کا اعلان کیا تو جنگ کی لپیٹ میں ہزاروں نہتے شہری آ گئے اور ملک بھر میں قابض امریکی اور افغان اجرتی فورسز کی جانب سے موت کا رقص ہنوز بھی جاری ہے ۔

اشرف غنی نے موجودہ منصوبے کا اعلان بھی ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب افغان کمیونٹی کے سیاست دان بیجنگ میں افغان تنازع کے حل کے لئے اجلاس میں شرکت کی تیاری کر رہے تھے تاکہ سیاسی ڈائیلاگ، مذاکرات اور افہام و تفہیم سے افغان تنازعہ کے حل کے موضوع پر تبادلہ خیال کریں ۔

اشرف غنی ایک دن کے لئے بھی افغانستان میں جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے، کیوں کہ ان کی حکومت کی بقا کا انحصار بھی جنگ کے تسلسل پر قائم ہے، جب ملک میں حقیقی امن قائم ہوگا تو مغرب سے آئے ہوئے زہنی مریض کو مسند اقتدار پر کون برداشت کرے گا ۔

اگر آج یہ جنگ ختم ہوگئی تو پھر یہ کرپٹ اور بدنام حکومت خود بخود گر جائے گی، اس لئے ان کی تمام تر کوششیں افغانستان میں جنگ بڑھانے پر مرکوز ہیں ۔ اگر وہ اپنی طرف سے کوئی نیا منصوبہ بناتے ہیں تو اس کا مقصد بھی جنگ جاری رکھنا ہے اور اگر وہ اپنے آقاؤں کی اسکیموں کو عملی جامہ پہناتے ہیں تو اس کا مقصد افغان عوام کو تنگ کرنا اور اسے تباہ کرنا ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ اشرف غنی کی حکومت کی بنیاد جنگ پر رکھی گئی ہے، اس کی بقا بھی جنگ میں ہے ۔

اگرچہ یہ نئے منصوبے امن کے نام پر پیش کیے جاتے ہیں لیکن در حقیقت یہ امن کوششوں کو روکنے اور جنگ کو طول دینے کا وہ فارمولہ ہے جس میں پینٹاگون اور سی آئی اے کے متحارب جرنیل بھی شامل ہیں ۔

Related posts