دسمبر 12, 2019

نمازیوں کا کیا گناہ تھا ؟

نمازیوں کا کیا گناہ تھا ؟

آج کی بات

 

ہفتہ کی شام صوبہ فراہ ضلع پشت رود کے علاقے گجگین میں حملہ آوروں کے ڈرون حملے میں 9 نمازی شہید اور 8 افراد زخمی ہوگئے، ڈرون حملے کے بعد قابض امریکی فوجیوں اور افغان اجرتی فورسز نے علاقہ گھیرے میں لے لیا اور مقامی لوگوں کو ہراساں کیا گیا ۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب لوگ مغرب کی نماز میں نماز پڑھ رہے تھے ، اس وقت وہاں مجاہدین موجود تھے اور نہ ہی کسی نے دشمن پر فائرنگ کی، صرف افغان عوام اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف تھے ، جس کی وجہ سے حملہ آوروں اور کٹھ پتلیوں کو غصہ آیا اور اسی جرم کی پاداش میں ان مظلوم نمازیوں پر حملہ کر کے متعدد افراد کو شہید اور زخمی کر دیا ۔

قابض مغربی قوتیں ہمیشہ انسانی حقوق کے تحفظ اور دفاع کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہیں اور مذہبی تقاریب اور مقدس مقامات کے تحفظ کے حوالے سے پروپیگنڈہ کرتی ہیں لیکن عملی طور پر انہوں نے نہ صرف بار بار کسی قانون اور انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کی ہے بلکہ مسلسل اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہیں ، افغانستان میں حملہ آوروں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر مساجد ، مدارس ، اسپتالوں ، بازاروں اور دیگر عوامی افادیت کے حامل مقامات کو تباہ کیا جاتا ہے، طلبہ، علماء اور عام شہریوں کو شہید، گرفتار اور ہراساں کیا جاتا ہے، لیکن انسانی حقوق کے نام نہاد علم بردار اتنے تنگ نظر ہیں کہ نہ صرف ان واقعات پر خاموش ہیں بلکہ میڈیا پر ان المناک واقعات کی اشاعت کو بھی برداشت نہیں کرسکتے ہیں، جن لوگوں کے ساتھ ان کا فکری اور نظریاتی اختلاف موجود ہے یا وہ ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، آزادی اظہار رائے کے علمبرداروں میں اظہار رائے برداشت کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے، اس لئے ان کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے لئے زندگی کی نعمت سے محروم کرتے ہیں ۔

مغربی قوتوں خاص طور پر امریکہ اور افغان کٹھ پتلی انتظامیہ کے گمراہ کن نعروں اور وعدوں پر لوگ کان نہ دہریں، انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بربریت ، جبر ، جہالت ، دوغلی پالیسی اور انسانیت دشمنی کی مثال اور عملی تصویر ہیں ، ان کے نزدیک جہادی مورشہ، مسجد ، مدرسہ ، نماز جنازہ اور قبرستان ایک جیسے ہوتے ہیں اسی طرح اسلحہ بردار مجاہد ، ایک معصوم بچہ ، خاتون ، بزرگ اور نوجوان سب کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں، ان کو نشانہ بنانا اپنے لئے ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہیں اور میڈیا میں اسٹریٹجک ترقی قرار دیتے ہیں ۔

چونکہ سفاک دشمن مسلسل مساجد اور نمازیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ بہت بڑا جرم اور دشمن کی بزدلی کی علامت ہے، عبادت گاہوں کو تباہ کرنا کسی آسمانی مذہب میں جائز نہیں ہے، حملہ آوروں اور ان کے اجرتی دشمنوں نے ان بزدلانہ کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، وہ ان ظالمانہ اقدامات کے ذریعے اپنے مذموم عزائم ، بدترین اخلاق اور اسلام سے دشمنی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔

Related posts