دسمبر 14, 2019

سردی کی شدت ، فوجیوں کی ہلاکتیں اور مردہ احساس

سردی کی شدت ، فوجیوں کی ہلاکتیں اور مردہ احساس

تحریر: خالد رعد

کابل انتظامیہ کے سپاہی کیوں نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس مقصد کے لئے قربانی دیتے ہیں، اشرف غنی نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ ہماری فورسز نیویارک اور واشنگٹن کے تحفظ کے لئے قربانیاں دے رہی ہیں، کئی مہینوں تک انہیں تنخواہ نہیں ملتی، انہیں بتائے بغیر دور دراز علاقوں کو منتقل کیا جاتا ہے، جہاں پر وہ محصور رہتے ہیں اور گھر جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی، وہ سپاہی جنہیں کافر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے اسلام دشمن مقاصد کے لئے جنگ کی آگ میں ہلاک کیا جاتا ہے ۔

ہمارے ملک پر امریکی حملے کے 19 سالوں میں اپنی قوم کے ساتھ جنگ ​​میں کابل انتظامیہ کے ہزاروں فوجی امریکی مقاصد کے لئے مارے گئے ، ہزاروں کو قیدی بنایا گیا ، ہزاروں اہل کار معذور ہوئے، حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت کم فوجیوں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں غیر ملکیوں اور جارحیت پسندوں کی حفاظت اور مفادات کے لئے اپنی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔

کچھ عرصہ قبل سیگار نے اپنی سہ ماہی رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ رواں سال کے دوران کابل انتظامیہ کے 18 ہزار اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فرار ہوگئے ہیں یا مارے گئے ہیں یا مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے یا دوسرے ملکوں میں فرار ہوگئے ۔

الامارہ ویب سائٹ کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک ہفتے کے دوران ملک کے 29 صوبوں میں کابل انتظامیہ کی فورسز پر 269 حملے ہوئے ہیں جن میں 10 کمانڈروں سمیت 409 فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ، 4 کمانڈروں سمیت 178 اہل کار زخمی ہوئے اور 66 فوجیوں کو گرفتار کیا گیا ۔

یہ رپورٹ کابل انتظامیہ کے مخالف فریق نے شائع کی ہے جو بہت سے لوگوں کے لئے قابل اعتبار نہیں ہوسکتا ہے لیکن اگر آپ سیگار کی رپورٹ پر نظر ڈالیں تو ہم ان اعداد و شمار کو قبول کرتے ہیں ۔

بہرحال افغان فوجیوں کو اپنے ساتھیوں کی بہت ساری ہلاکتوں کے بارے میں سوچنا چاہئے اور خود سے یہ پوچھنا چاہئے کہ واشنگٹن اور نیویارک کی سلامتی اور تحفظ کے لئے اتنی زیادہ قربانیاں دینی چاہیں؟ کیا اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی سیاسی اور مادی مفادات کے لئے غمزدہ کرنا چاہیے؟ کیا وہ مزید بھی امریکہ اور نیٹو کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہزاروں کی تعداد میں قربانی دینے کے متحمل ہو سکتے ہیں ؟

اس سرد موسم میں جو عام طور پر جنگ کی آگ کی شدت کم ہوتی ہے ، اتنے بڑے پیمانے پر افغان فورسز کی ہلاکتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ گرم موسم میں ان کی ہلاکتوں کی تعداد کتنی ہوگی ؟

اور اگر ہم اسے کسی اور زاویے سے دیکھیں تو الامارہ ویب سائٹ کی ہفتہ وار اور سیگار کی سہ ماہی رپورٹوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کابل انتظامیہ عوام سے لڑ رہی ہے ، کسی جماعت یا سیاسی تحریک کے ساتھ نہیں ۔

48 ممالک کی افواج کی موجودگی میں افغان فورسز کی مسلسل بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے ہماری دلیل کو تقویت ملتی ہے کہ وہ عوام کے خلاف لڑ رہی ہیں کسی گروہ یا تنظیم کے خلاف نہیں کیونکہ ایک تنظیم کا گروہ کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر مخالف فوجیوں کو قتل کریں ۔

کابل انتظامیہ کی فوج اور پولیس کو بھی یہ احساس رکھنا چاہئے کہ اعلی حکام کو ان کی ہلاکتوں کا کوئی احساس نہیں ہے اور نہ ہی انہیں ان پر افسوس ہوتا ہے بلکہ انہوں نے کبھی ہمدردی کا اظہار بھی نہیں کیا ہے، لہذا افغان فورسز کو خود سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک عالم کفر اور قابض افواج کے مفادات کے تحفظ کے لئے قربانی دیتے رہیں گی، اگر مستقبل میں فوجی جوانوں نے اس کا احساس نہیں کیا تو ان کی ہلاکتوں میں مزید غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے جن کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے ۔ جو دنیا اور آخرت کی ذلت اور تباہی کا سبب ہوگا ۔

Related posts