دسمبر 12, 2019

سفید جھوٹ

سفید جھوٹ

آج کی بات

کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ گزشتہ روز ننگرہار گئے ، انہوں نے وہاں داعش کی شکست کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ داعش کے حامی افغان فورسز کا کارنامہ ہے ۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سفید جھوٹ ہے، جس کو بولنے سے معصوم بچہ بھی شرم محسوس کرتا ہے ، مگر اشرف غنی اور ان کے حکام مجاہدین کے ہاتھوں داعش کی شکست کی نسبت اپنی جانب کرتے ہیں اور ایک ہفتے سے یہی ڈنڈورا پیٹا جا رہا ہے، یہ وہی داعش ہے جس کی پرورش ، مالی اعانت اور نجات دینے کے عمل میں کابل انتظامیہ کی انتھک محنت شامل ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ مجاہدین نے دو مہینوں کے دوران داعش کے خلاف شدید کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں امریکی اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے مشترکہ منصوبے داعش کو شکست دے دی گئی اور ان علاقوں سے ان کا مکمل صفایا کر دیا گیا اور مجاہدین نے اپنا کنٹرول وہاں پر سنبھال لیا، اسلحہ ، گولہ بارود اور دیگر تمام فوجی ساز و سامان مجاہدین نے ضبط کر لیا، داعش کے مسلح اہل کاروں نے کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کی گود میں پناہ لے لی ۔

انہوں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے کابل انتظامیہ کے سامنے جوق در جوق سرنڈر ہونے کا اعلان کیا، جس نے طیاروں اور فوجی گاڑیوں میں اپنے فوجی اور انٹیلیجنس مراکز تک منتقل کر دیا ۔

کابل انتظامیہ نے اعلان کیا کہ داعش کے خلاف آپریشن اسی نے شروع کیا گیا تھا اور اب داعش کو شکست دے دی جس کے باعث داعش کے اہل کاروں نے ہتھیار ڈال دیئے ، کچھ دن قبل کابل انتظامیہ کے ایک وزیر مسعود اندرابی نے کابل سے ننگرہار سے آیا تھا اس موقع پر انہوں نے میڈیا کے سامنے سفید جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ داعش کو انہوں نے شکست دے دی اس لئے وہ ہتھیار ڈال رہے ہیں ۔

یہ ایک سفید جھوٹ ہےجس کو بولنے سے بچے بھی شرم محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ داعش کے خلاف کابل انتظامیہ کے کسی ایک اہل کار نے بھی کارروائی نہیں کی ہے بلکہ الٹا جب بھی مجاہدین نے داعش کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تو کابل انتظامیہ اور قابض امریکی فوج کے طیاروں نے داعش کو بچانے کے لئے مجاہدین کے ٹھکانوں پر حملے کئے ۔

لیکن کابل کے کٹھ پتلی حکمران شاید مجبور ہیں کہ وہ امریکی آقاؤں کے کہنے پر ہر قسم کی شرمناک حرکت کریں اور ہر قسم جھوٹ ان کی خاطر بولیں، داعش کو بچانے کے لئے دن دیہاڑے کاررؤائیاں کریں، پوری قوم نے دیکھا کہ کابل انتظامیہ نے داعش کو مجاہدین سے بچایا اور پھر جلال آباد سے دارالحکومت کابل منتقل کر دیا، تاکہ اس کو دوبارہ منظم کر کے ملک کے کسی اور کونے میں اتارے، اور پھر مجاہدین کے خلاف استعمال کرے ۔ لیکن اس کے امکانات تقریبا ختم ہوچکے ہیں اور پھر یہ کبھی بھی افغان عوام کو ہراساں کرنے اور مجاہدین کے خلاف رکاوٹ پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی ۔ ان شاء اللہ

 

Related posts