دسمبر 14, 2019

اینٹلی جنس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے امارت اسلامیہ پر قتل عام کے الزام پر ردعمل

اینٹلی جنس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے امارت اسلامیہ پر قتل عام کے الزام پر ردعمل

آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں  معیشت اور امن کے زیرعنوان ایک اینٹلی جنس انسٹی ٹیوٹ نے ایک مغرضانہ تحقیق میں امارت اسلامیہ کے  مجاہدین کو 2018ء  میں عالمی سطح پر قتل عام کا ذمہ دار ٹہرایا !!؟

اینٹلی جنس حلقے کے اس دعوے کے جس میں امن، معیشت اور انسٹی ٹیوٹ کےعناوین سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کوشش کی ہے کہ امریکی جارحیت کے خلاف افغان غیور ملت کے جائز مزاحمت اور جہاد کو دہشت گردی سے تعبیر کریں  اور عالمی ذہنیت کو فریب دے، ہم اس کی شدید مذمت اور تردید کرتے ہیں۔

بیرونی جارحیت سے اپنے ملک کے نجات اور آزادی ہر مظلوم اور مصیبت زدہ ملت کا جائز اور عالمی حق ہے،وہ اینٹلی جنس عناصر جو افغانوں کے اس جائز حق کے خلاف پروپیگنڈہ کررہا ہے،وہ امریکی جارحیت سے منسلک ہے،اس طرح افغانستان میں اپنی شکست کو جواز پیش کرنا چاہتا ہے۔

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کسی جگہ بھی شہریوں کو نشانہ بنایا اور نہ ہی قتل میں جان بوجھ کر ملوث ہے، البتہ امریکی غاصب افواج،ان کے غلاموں اور مخبروں کی ہلاکت ایک جائز ہدف ہے۔

اگر اس طرح انسٹی ٹیوٹ کو صدق دل سے انسانیت اور دہشت گردی  کا فکر لاحق ہوتا، سب سے عظیم عالمی اور سرکاری دہشت گردی امریکا کی جانب سے جاری ہے،جس نے ہمارےملک پر قبضہ کرلیا ہے، موجودہ جنگ اور شرارت میں اس کا اہم کردار ہے اور تمام مسائل کی جڑ امریکا ہی ہے، انسٹی ٹیوٹ کو چاہیے کہ امریکاکے جرائم کے محاسبے کو شائع کریں۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

24 ربیع الاول 1441ھ بمطابق  21 نومبر 2019ء

Related posts