دسمبر 14, 2019

داعش واپس اپنے مرجع کی طرف لوٹ گئی

داعش واپس اپنے مرجع کی طرف لوٹ گئی

آج کی بات

ننگرہار جسے داعش کی خراسان شاخ کا مرکز کہا جاتا تھا ، سے امارت اسلامیہ کے بہادر مجاہدین نے منظم اور کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں داعش فتنہ کا صفایا کر دیا، ننگرہار کے سات اضلاع میں داعش کا اثر و رسوخ تھا، داعش کی بربریت اور ظلم کی وجہ سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ چکے تھے لیکن اب داعش کی شکست کے بعد لوگ خوشی سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں ۔

داعش کے خلاف آپریشن میں اس گروہ کے سیکڑوں جنگجو مارے گئے ، بھاری مقدار اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جبکہ سیکڑوں داعش عسکریت پسندوں نے قابض امریکی فوج اور کابل انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیا ۔

کابل انتظامیہ بڑے فخر سے ننگرہار میں داعش گروہ کے اہل کاروں کی خبریں اور تصاویر شائع کرتی ہے اور داعش کو شکست دینے کا دعوی کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ داعش قابض قوتوں اور کابل انتظامیہ کا منصوبہ ہے ۔

کابل انتظامیہ کی صف میں اس سے قبل بھی داعش کے سیکڑوں عسکریت پسند شامل ہوچکے ہیں اور انتہائی معزز مہمان کی حیثیت سے ان کا خیرمقدم کیا گیا ہے ۔

کابل انتظامیہ کے حکام اور سول عہدیداروں نے بار بار کہا ہے کہ داعش حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کا مشترکہ منصوبہ ہے ، ہیلی کاپٹروں میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کیا جاتا ہے ، داعش اور طالبان کے مابین جنگ کے دوران قابض امریکی فوج طالبان کے مورچوں پر بمباری کرتی ہے، اور داعش کو پیشرفت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، گرفتار شدہ اور ہتھیار ڈالے ہوئے داعش کے بیشتر عسکریت پسندوں نے بھی حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی حمایت کا اعتراف کیا ہے ۔

پچھلے سال مجاہدین نے جوزجان اور کنڑ میں داعش کے سیکڑوں اہل کاروں کا گھیراؤ کیا تو حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ نے ایک ہیلی کاپٹر بھجوا کر انہیں مجاہدین سے بچایا اور کابل اور بلخ میں اپنے مہمان خانہ منتقل کر دیا ۔

تجزیہ کاروں کا بھی یہ خیال ہے کہ افغانستان میں داعش جنگ کو دوام بخشنے، مجاہدین کو کمزور کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے لئے بطور ایک منصوبہ پروان چڑھایا گیا ہے جس کی کوئی مذہبی یا افغانی بنیاد نہیں ہے ۔

داعش منصوبے نے سب سے پہلے عراق اور شام میں مذہبی تعصب پیدا کیا، حملہ آوروں کے خلاف اصلی مجاہدین کو کمزور کیا ، لوگوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا اور آخر کار تمام مقبوضہ علاقوں کو حملہ آوروں اور جابرانہ حکام کے حوالے کردیا ۔

افغانستان میں بھی دشمن نے ملک بھر میں داعش کو پھیلانے کے لئے بہت ساری کوششیں کیں لیکن عوام اور مجاہدین نے استعمار کا یہ منصوبہ ناکام بنایا ، زابل ، غور ، جوزجان ، لغمان اور ننگرہار میں اس منصوبہ کے خلاف ہمگامی اقدامات اٹھائے گئے اور جلد ہی پورے ملک سے داعش کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا ، ان شاء اللہ

داعش کے عسکریت پسند جو حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ تربیت دیتے ہیں اور جدید ہتھیاروں سے لیس کرتے ہیں، افغان عوام اور مجاہدین کے خوف سے واپس اپنے سرچشمہ (حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ) کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔ داعش کے اہل کاروں کا جوق در جوق کابل انتظامیہ کے سامنے سرنڈر ہونے، کابل انتظامیہ کی جانب سے داعش کے اہل کاروں کا والہانہ خیرمقدم کرنے اور ان کی پذیرائی کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ داعش ، قابض امریکی فوج اور کابل انتظامیہ کے درمیان کتنے گہرے تعلقات ہیں ۔

حال ہی میں نگرہار میں داعش کے جتنے اہل کاروں نے کابل انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیا، وہ سب امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے نشانے پر تھے، داعش کو بچانے کے لئے قابض امریکی فوج نے متعدد بار مجاہدین پر حملے کئے لیکن اس کے باوجود داعش کے سینکڑوں اہل کار مارے گئے، اور جو بچ گئے ان کو حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ نے بچایا اور انہیں جلال آباد شہر منتقل کر دیا ۔

Related posts