دسمبر 14, 2019

کابل انتظامیہ نے داعش ملیشا کے آخری گروہ بھی نجات دلایا

کابل انتظامیہ نے داعش ملیشا کے آخری گروہ بھی نجات دلایا

معمول کے مطابق جمعرات اورجمعہ کی درمیانی شب ایک بارپھر کابل انتظامیہ کی افواج نے صوبہ ننگرہار ضلع اچین کے تختہ کے علاقے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے شدید محاصرے کی حالت میں داعش ملیشا کے آخری کے گروہ کو بھی نجات دلایا۔

اس واقعہ میں 229 داعش کے مسلح  افراد اور ان کے خاندانوں کو ان گاڑیوں میں جلال آباد منتقل کیے گئے، جن کی فضائی نگرانی ہیلی کاپٹروں سے کی جا رہی تھی۔

کابل انتظامیہ کی جانب سے داعش ملیشا کیساتھ ہمدردی کے دوران گذشتہ ایک ہفتے میں 542 مسلح داعش جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو کابل انتظامیہ اور باالعموم امریکی  استعمار کی جانب سے نجات دلایا جاچکا ہے۔

صوبہ ننگرہار میں داعش جنگجوؤں کےبیخ کنی خلاف امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی کاروائی آخری مراحل میں ہے،جس کی تفصیل، آغاز،صورتحال اور اختتام جلد ہی امارت اسلامیہ کی جانب سے اعلان ہوگی۔ ان شاءاللہ تعالی

کابل انتظامیہ کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے داعش کے خلاف آپریشن کے دعوے من گھڑت اوربےبنیاد ہے، وہ داعش کے علاقوں میں اس لیے داخل ہوئے  تھے کہ  جنگ میں پھنسے ہوئے داعش جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو مجاہدین سے نجات دلا دیں  اوربعد میں ملک کے کسی دوسرے علاقے میں ان سے ناجائز فائدہ اٹھائے۔

یہ اس حال میں ہےکہ کابل انتظامیہ کی سیکورٹی فورسز ملک کے مختلف علاقوں میں ہفتوں ہفتوں تک محاصرے میں رہتے ہیں،یہاں تک کہ اگر سب ہی قتل ہوئے، تو ان کی رہائی کا  کسی کو پروا نہیں ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

18 بیع الاول 1441ھ بمطابق 15 نومبر 2019 ء

Related posts