دسمبر 12, 2019

اندرابی کی کامیابی کیا ہے؟

اندرابی کی کامیابی کیا ہے؟

آج کی بات

کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے ایک وزیر مسعود اندرابی نے اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے غیر ملکی اتحادیوں کی فضائی اور زمینی مدد سے گزشتہ چند ماہ کے دوران بہت ساری کامیابیاں حاصل کیں ، طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضہ کیا اور ان کے الفتح کے نام سے سالانہ آپریشن کو ناکام بنایا لہذا طالبان کو ان کی حکومت کے ساتھ صلح کرنا چاہئے بصورت دیگر ان پر مزید دباو لایا جائے گا ۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے حکام اس طرح کے اظہار خیال کرتے ہیں جو زمینی حقائق کے بر خلاف ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ کٹھ پتلی حکام اور ان کے غیر ملکی حمایتی کامیابی کس چیز کو کہتے ہیں؟

اگر وہ کامیابی اس کو کہتے ہیں کہ ایک مہینے میں 1100 فضائی حملے کرنا، جس سے سیکڑوں شہری شہید ہوگئے ، موسم سرما میں صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے علاقے ملی خیل گاؤں میں غریب لوگوں کے 80 مکانات مسمار کرنا، انہیں کھلے آسمان تلے چھوڑنا، رات کو ڈاکو جیسے قابض امریکی فوج کی مدد سے عام لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارنا، لوگوں کے گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانا اور قیمتی چیزوں کو لوٹنا، خواتین اور بچوں کو شہید کرنا، ننگرہار میں کسانوں پر بمباری کرنا اور 70 افراد کو شہید کرنا، مساجد ، مدارس ، اسپتالوں اور عوامی املاک کو تباہ کرنا اور دیگر انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کرنا )بین الاقوامی فوجداری عدالت کی حالیہ رپورٹ اس کا واضح ثبوت ہے) اگر وہ ان کارروائیوں کو کامیابی سمجھتے ہیں تو بلا شبہ انہوں نے وسیع پیمانے پر یہ کارروائیاں کی ہیں اور یہ کامیابی حاصل کی ہے ۔

اور اگر کامیابی یہ ہے کہ چار مہینوں میں کابل انتظامیہ کے 419 کمانڈروں سمیت ہزاروں فوجی ہلاک ہوئے، سیگار کی رپورٹ کے مطابق تین ماہ کے دوران 18605 اہل کار لاپتہ ہوئے، رواں سال کے الفتح آپریشن کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں 28 اضلاع کو مجاہدین نے فتح کیا ہے، 100 سے زائد فوجی اڈوں اور ٹھکانوں پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول حاصل کیا ہے، ہزاروں سرکاری فوجیوں نے ہتھیار ڈال کر مجاہدین کے سامنے سرنڈر ہونے کا اعلان کیا، مشرق میں داعش کو شکست دے دی گئی، کابل انتظامیہ داعش جنگجو کو مجاہدین سے بچانے کے لئے ہتھیار ڈالنے کا نام دیا جاتا ہے اور 300 کے قریب داعشی اہل کاروں کو کابل منتقل کیا گیا ۔

لہذا اگر وہ ان کارروائیوں کو فتح کہتے ہیں تو یہ ایک حقیقت ہے، اور یہ کامیابی بھی انہیں ملی ہے، یہ ایسی کامیابی ہے اگر وہ مجاہدین کو دھمکیاں دیتے ہیں اور امن کی طرف بلاتے ہیں تو یہ کابل انتظامیہ کی امن کوششیں بھی ان کی خیالی کامیابی کی طرح نام نہاد کوششیں ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔

Related posts