دسمبر 12, 2019

ننگرہار میں کابل انتظامیہ کی جانب سے داعش ملیشا کے نجات کا سلسلہ جاری ہے

ننگرہار میں کابل انتظامیہ کی جانب سے داعش ملیشا کے نجات کا سلسلہ جاری ہے

بعد ازاں کہ صوبہ ننگرہار اور ہمسائیہ صوبوں میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے داعش فتنہ پرورہ گروہ کو محوہ کرنے کی خاطر آپریشن  آغاز  کیا،  تو اس وقت سے اب تک کابل انتظامیہ کے اینٹلی جنس عناصر کی جانب سے وقتافوقتا داعش ملیشیا کو نجات دلانے کا سلسلہ جاری ہے۔

حالیہ اوقات میں ایک روز قبل ایک بار پھر صوبہ ننگرہار ضلع اچین کے مربوطہ علاقوں سے داعش کے ان 121عناصر کو کابل انتظامیہ نے نجات دلایا، جو مجاہدین کے شدید محاصرے میں  قید یا ہلاکت کے خطرے سے روبرو تھے۔

ملک کے مشرق میں داعش کے خلاف امارت اسلامیہ کے فیصلہ کن آپریشن اور اسے شکست  دینے کے بعد گذشتہ کئی دنوں  کے دوران  300 سے زیادہ داعش ملیشا نے کابل انتظامیہ کے ہاں پناہ لی ہے۔

دشمن اس حال میں  داعش کا شدید حمایت کررہا ہے کہ  چند روز قبل کٹھ پتلی انتظامیہ کے وزیر داخلہ کے ننگرہار اور کنڑ صوبوں میں داعش کے خلاف کاذبانہ  کاروائی کا آغاز اور علاقوں پر قبضہ جمانے کے دعوے بھی میڈیا کی سرخیاں بنیں۔ کابل انتظامیہ کی جانب سے داعش ملیشا کیساتھ ہمدردی ماضی میں بھی جوزجان اور ملک کے دیگر علاقوں میں ثابت ہوئی ہے۔ اس حمایت اور ہمدردی سے ظاہر ہورہا ہے کہ داعش فتنہ پرور گروہ کے پیچھے کابل انتظامیہ اور خاص امریکی استعمار  کی حمایت کارفرما ہے۔

وہ (کابل انتظامیہ اور امریکا) داعش فتنہ پرور گروہ کو  نجات دینے سے علاقے میں ایک خطرے کے طور پر انہیں محفوظ رکھنا چاہتا ہے،تاکہ استعمار اور اس کے غلام داعش کی موجودگی سے وسیلے کے طور پر فائدہ اٹھائے۔

داعش ملیشا نے کابل اور دیگر صوبوں میں شہری مقامات، مساجد، امام بارگاہوں اورعام شہریوں کے اجتماعات پر دلخراش حملے انجام دیے،جن میں متعدد شہری،بچے اور خواتین شہید و زخمی ہوئیں۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

16 ربیع الاول 1441 ھ بمطابق 13 نومبر 2019 ء

Related posts