دسمبر 14, 2019

دعوت و حملے،کمانڈر وآفسر سمیت 16 ہلاک، 17 سرندڑ

دعوت و حملے،کمانڈر وآفسر سمیت 16 ہلاک، 17 سرندڑ

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے ننگرہار، لوگر،پکتیا اور خوست صوبوں میں اعلی حکام اور کمانڈروں کو نشانہ بنایا، جب کہ بلخ، پکتیا اور پکتیکا صوبوں میں سیکورٹی اہلکار سرنڈر ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب صوبہ ننگرہار ضلع بٹی کوٹ کے فارم دو کے علاقے میں مجاہدین نے چوکی پر حملہ کیا،جس کے نتیجے میں چوکی کمانڈر ضمین سمیت 3 ہلاک جب کہ 4 زخمی ہوئے اور تازہ دم اہلکاروں کا ٹینک بارودی سرنگ کا نشانہ بن کرتباہ ہوا اور اس میں سوار 4 اہلکار لقمہ اجل بن گئے۔

دوسری جانب عشاء کے وقت صدرمقام جلال آباد شہر کے کابل دوسرکہ کے علاقے میں مجاہدین نے کمانڈو ونگ (صفر دو ) کے فوجی آفسر رحیم اللہ ولد شمس الحق کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دریں اثناء عشاء کے وقت صوبہ لوگر کے صدرمقام پل عالم شہر کے خضر کے علاقے میں بم دھماکہ سے فوجی ٹینک تباہ اور اس میں سوار 5 اہلکار ہلاک ہوئے اور سہ پہر کے وقت بیات کے علاقے میں مجاہدین نے فوجی ٹینکر پر حملہ کیا،جس میں ایک فوجی مارا گیا۔

اسی طرح پیر کےروز مغرب کے وقت صوبہ پکتیا کے صدرمقام گردیز شہر کے ابراہیم خیل کے علاقے میں مجاہدین کے حملے میں ایک جنگجو ہلاک ہوا اور منگل کےروز صبح کے وقت صوببہ خوست ضلع قلندر کے دومندہ کے مقام پر گشتی پارٹی پر ہونے والے حملے میں 2 فوجی قتل ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ تین روز کے دوران صوبہ بلخ کے زارع، کشندہ اور خاص بلخ اضلاع میں 10 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہو‏ئے مخالفت سے دستبردار ہوئے،جن میں عبدالرؤف ولد داراب، دوست محمد ولد حاجی احمد، حبیب اللہ ولد نورمحمد، افتخار ولد محمدمیر، غلام فاروق ولد مؤمن، محمد صابر ولد محمدحسن، سمیع اللہ ولدامرالدین، عبدالمحمد ولد گل محمد، مزی الدین ولد عبدالرؤف  اور نعمت اللہ ولد جمعہ الدین شامل ہیں۔

دوسری جانب صوبہ پکتیکا ضلع شگین کے رڈان گاؤں کے باشندوں 6 پولیس اہلکار خانو ولد بازخان، زاہد ولد نواب خان، جانوخان ولد امرالدین، غلام جان ولد اخترجان نیک محمد ولد خوژ اور شرالدین ولد تانی نے مجاہدین کی دعوت کو لبیک کہہ کر ان سے آملے اور صوبہ پکتیا ضلعاحمدآباد کے تانغڑک کے رہائشی افغان فوجی  نے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوا۔

Related posts