دسمبر 14, 2019

عوامی مکانات کو تباہ کرنا نیا ظلم ہے

عوامی مکانات کو تباہ کرنا نیا ظلم ہے

آج کی بات

کابل انتظامیہ کے درندہ صفت اہل کاروں نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے علاقے ملی خیل میں مظلوم شہریوں کے 80 مکانات تباہ کر دیے اور لوگوں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا۔

امریکی فوج اور کابل انتظامیہ نے میدان جنگ میں شکست کے بعد نہتے شہریوں کے قتل عام، ان پر تشدد اور ان کی املاک کو تباہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ ہر روز نہتے شہریوں پر ظلم و ستم کی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔

دشمن نے حال ہی میں انتہائی سفاکانہ سلوک شروع کیا ہے۔ شہریوں کی دکانوں، بازاروں، کلینس، اسکولز، مدارس اور مساجد کو تباہ کیا جاتا ہے۔ خواتین اور بچوں سمیت نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک منصوبے کے تحت عوامی افادیت کے حامل مقامات کو ٹارگٹ بنایا ہوا ہے۔

اگرچہ سید آباد کے علاقے ملی خیل میں شہریوں کے مکانات افغان اجرتی فورسز نے تباہ کیے، تاہم انہیں وہ انہیں تربیت، سازوسامان اور تنخواہیں حملہ آور مہیا کرتے ہیں۔ لہذا حملہ آور اور کٹھ پتلی انتظامیہ دونوں ہی افغان قوم کے قتل  کے جرم میں برابر شریک ہیں۔ انہوں نے پچھلے اٹھارہ سالوں سے اسی ظلم و سربریت کو برقرار رکھا ہے اور مختلف طریقوں سے جارحیت کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے۔

امارت اسلامیہ افغان عوام کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ اپنے مظلوم عوام کے مشترکہ دشمن سے انتقام لیا جائے گا۔ اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، جب تک ملک آزاد اور اسلامی نظام نافذ نہیں ہوتا۔

عام شہریوں کو نشانہ بنانا، مکانات تباہ کرنا اور شہری املاک کو لوٹنا ناقابل معافی جرائم ہیں۔ سفاک دشمن نے ان جرائم سے ثابت کیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی، اخلاقی اقدار اور جنگی قوانین کا احترام نہیں کرتا۔ اگرچہ وہ بظاہر انسان دوستی، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے دعوے کرتے ہیں، مگر عملی طور پر وہ اس کے برعکس ہیں۔

صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد کا مذکورہ جرم اس کی مثال ہے۔

Related posts