نومبر 22, 2019

1113 حملوں کے متاثرین

1113 حملوں کے متاثرین

آج کی بات

امریکی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس نے ماہ ستمبر میں افغانستان میں 1113 حملے کیے ، کابل انتظامیہ نے افغان سرزمین پر مذکورہ حملوں کا خیرمقدم کیا اور حملہ آوروں پر بھی زور دیا کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح کے حملے جاری رکھیں ۔

اگرچہ حملہ آوروں نے ایک مہینے میں ایک ہزار سے زیادہ بار افغانستان پر حملے کئے، لیکن اللہ کی مدد سے انہوں نے اتنے ظلم و درندگی کے باوجود ملک کے کسی حصے میں مجاہدین کے زیر کنٹرول علاقے پر قبضہ کیا ہے اور نہ ہی اپنے مراکز کا تحفظ کیا ہے اس کے برعکس امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے ملک کے مختلف حصوں میں دشمن کے زیر قبضہ بہت سے علاقوں کو فتح کیا اور مظلوم قوم کی سلامتی اور حقوق کو محفوظ کیا ۔

سوال یہ ہے کہ ان حملوں کا اصل شکار کون ہیں ؟

حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں کا شکار 95 فیصد عام شہری ہیں !! یہ محض الزام اور دعوی نہیں ہے بلکہ عینی شاہدین اور ٹھوس شواہد کے مطابق حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فورسز کے فضائی حملوں ، چھاپوں اور بھاری توپ خانے کے حملوں کا سب سے زیادہ متاثرین عام شہری ہیں ، خاص طور پر خواتین اور بچے ان کا نشانہ ہیں ۔

وطن عزیز پر قابض قوتوں کے حملے آزاد افغان کے لئے ہرگز ناقابل قبول نہیں ہیں ، وہ لوگ جو قابض افواج سے ایسے حملوں کی حمایت کرتے ہیں اور مزید حملوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ اگرچہ بظاہر افغانی ہیں لیکن ان کا ضمیر مر چکا ہے ، ان کا برین واش ہوا ہے اور ان کی افغانیت مسخ ہوگئی ہے ۔

تاریخ دہرائی جارہی ہے اور اس تکرار کا ایک حصہ یہ ہے کہ آج بھی شاہ شجاع اور ببرک کارمل بڑے فخر اور خلوص نیت سے افغانستان کی تباہی اور افغان عوام کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اگر وہ آج اقتدار کے نشت کی لت میں مدہوش ہیں، قابض امریکی آقاؤں کو افغان عوام کے قتل عام اور ان کے گھروں کو تباہ کرنے کے لئے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن جلد ہی انہیں بھی اپنے پیش رو کی طرح کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، مظلوم عوام کا بدلہ ان سے ضرور لیا جائے گا ذلت اور شکست ان کا مقدر ہے ۔

امارت اسلامیہ وطن عزیز پر حملہ آوروں کے مذکورہ حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے، انہیں ریاستی دہشت گردی قرار دیتی ہے اور ایک آزاد اور خودمختار ملک اور قوم کو محکوم بنانے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے ۔

افغانستان کی مظلوم قوم عالمی برادری اور پڑوسی ممالک سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ قابض قوتوں کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت کی حمایت کریں گے تاکہ ناجائز قبضہ کے خاتمے کے بعد وہ اس ملک کے عوام کے ساتھ تعاون کریں ۔

Related posts