نومبر 22, 2019

جارحیت کا خاتمہ امن کے برابر ہے

جارحیت کا خاتمہ امن کے برابر ہے

آج کی بات

کابل انتظامیہ کے سربراہ نے حال ہی میں ایک علاقائی کانفرنس کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں امن اور غیر ملکی افواج کی موجودگی کے درمیان تعلق ہے اور نہ ہی ان کو آپس میں جوڑنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ طالبان کی "شورش” ہے ۔

یہ اور اسی طرح کے تاثرات اشرافیہ اور بے احساس ذہنوں کی پیداوار ہیں ۔

افغانوں نے اپنے ملک کے دفاع کا کا فریضہ ہمیشہ احسن طریقے سے ادا کیا ہے اور انہوں نے کبھی غلامی قبول نہیں کی لیکن اس کے برعکس کچھ بے ضمیر حکمرانوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے اور عوام کے گلے میں غلامی کا طوق ڈال دیں، لیکن اللہ کے فضل سے انہوں نے اور ان کے غیرملکی کنٹرولر آقاوں کی یہ امیدیں خاک میں مل گئی ہیں ۔

پچھلے اٹھارہ سالوں سے افغان عوام ملک کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور ان مقاصد کے حصول تک یہ جدوجہد جاری رہے گی، ان شاء اللہ ۔ افغانستان کے مسلمان اور مجاہد قوم کی اس جدوجہد کو کوئی دوسرا نام دینا مظلوم عوام کی ان گنت قربانیوں کی توہین ہے جو صرف  قابض قوتوں کے غلام اور بے ضمیر لوگ ہی یہ توہین کرتے ہیں ۔

کابل انتظامیہ کے حکام نے وقتا فوقتا عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے امارت اسلامیہ کی قیادت میں افغان عوام کی جدوجہد کو شورش، بغاوت اور ناجائز جنگ قرار دیا ہے لیکن اگر وہ اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو انہیں پتہ چلے گا کہ بغاوت اور ناجائز جنگ انہوں نے شروع کی ہے، کیوں کہ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو انہوں نے زمینی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی قوم کے خلاف ایجنٹوں کا کردار ادا کیا، اسلامی نظام حکومت کے خلاف جنگ میں بطور ایندھن استعمال ہوئے اور اپنے عوام پر غیر ملکی ایجنڈے کو مسلط کرنے کے لئے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔

وہ امارت اسلامیہ کے جہاد اور مزاحمت کو غیر ملکی حملہ آوروں کی موجودگی کا جواز قرار دیتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ افغان عوام مزاحمت جاری رکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔

بیرونی جارحیت کے خاتمے کے ساتھ امن کا قیام منسلک نہ کرنا محض ایک مضحکہ خیز پروپیگنڈا ہے جو بے ضمیر حکمران عوام کو ورغلانے کے لئے کرتے ہیں، ملک پر ناجائز قبضہ اور امن، آگ اور پانی کی طرح دو متضاد چیزیں ہیں، جس طرح آگ اور پانی جمع نہیں ہو سکتے اسی طرح امن اور جارحیت کو اکٹھا نہیں کیا جاسکتا ۔

امارت اسلامیہ پرعزم ہے کہ ملک پر ناجائز "قبضے” کے خاتمے تک عوام کی حمایت سے عسکری اور سیاسی محاذ پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنے مظلوم عوام کی خوشحالی ، ترقی اور آزادی کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی رہے گی ۔ ان شاء اللہ تعالٰی

Related posts