نومبر 22, 2019

نیٹو رکن ممالک حقائق کو تسلیم کریں

نیٹو رکن ممالک حقائق کو تسلیم کریں

ہفتہ وار تبصرہ

اٹھارہ برس بیت چکے ہیں کہ امریکا کے ہمراہ نیٹو اتحادی رکن ممالک بھی افغانستان کی جارحیت میں مصروف ہیں۔ افغان تنازع ان کے لیے ایک عظیم سردرد بنا ہوا ہے، ہر سال کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں، افغان مسئلے پر گفتگو کی جا رہی ہیں۔تاکہ اس ملک میں اپنی جارحیت کی کامیابی کے لیے نسخہ تلاش کریں۔

انہی بار بار اوربےنتیجہ کانفرنسوں کےسلسلے میں رواں سال 26/اکتوبر کو نیٹو رکن ممالک کے وزراء دفاع  ایک بار پھر بلجیم کے صدر مقام بروکسل میں اکھٹے ہوئے تھے۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں اپنی کامیابی کے امکانات کو دہراتے ہوئے  بےنتیجہ بحثوں کا جائزہ لیا اور آخر میں ان باتوں کو ایک مرتبہ میڈیا کے سامنے پیش کیا، جو گذشتہ اٹھارہ برسوں میں بار بار ابلاغ  کی جاچکی ہیں،مگر عملی میدان میں کوئی تاثر نظر نہیں آرہا۔

یہ کہ اٹھارہ برسوں میں ہمارے ملک میں نیٹو کی فوجی مداخلت ناکامی سے رو بر رہا اور ناکامی کا الزالہ کرنے کی خاطر ان کی تمام پالیسیاں، کانفرنسیں اور وعدے بےنتیجہ اور بےمعنی نکلے ہیں، اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ نیٹو رکن ممالک کب تک ناکام تجربات کو دہراتے رہینگے اور افغانستان میں فوجی مداخلت کے حوالے سے اپنی اپنی عوام کو جھوٹ بولتے رہینگے ؟

طویل ترین تجربات کے اب  اہل عقل ودانش اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان میں بیرونی افواج کی کامیابی ناممکن ہے،کیونکہ ان کے خلاف افغان ملت کمربستہ ہے، وہ ملت جس نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی بیرونی جارحیت کو تسلیم نہیں کیا ، تو اسی لیے بہتر یہ ہے کہ استعماری فریق اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیں اور فوجی برتری کے سوچ کو ذہن سے نکال دیں۔

اگر نیٹو رکن ممالک چاہتا ہے کہ اس اٹھارہ سالہ سردردی اور تنازع سے خود فارغ کریں، تو اس عمل کو جسے کل انجام دینا چاہیے، تو بہتر ہے اسے آج ہی عملی کریں۔ مگر یہ مسلم حقیقت ہے کہ افغانستان میں وہ دائمی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی۔ لہذا افغانستان میں اپنے شہریوں کی زندگی اور مالی ذرائع کے نقصان کا روک تھام کریں، تو انہیں ابھی سے اس ملک میں مداخلت سے دستبردار ہونا چاہیے اور افغان حریت پسند ملت کو چھوڑ دیں، کہ اپنی قسمت کا انتخاب خود ہی کریں۔امارت اسلامیہ نیٹو آرگنائزیشن کے رکن ممالک کو بتلاتی ہے کہ افغانستان کی صورتحال کا گہرے طور پر مطالعہ کرکے حقائق کو سرخم ہوجائیں۔ اس تنازع کا حل بار بار کانفرنسوں کے انعقاد سے تلاش نہیں کیا جاسکتا، بلکہ حقائق پر مبنی رویہ اور اٹھارہ سالہ برسوں کے تجربات سے عبرت حاصل کرنا واحد طریقہ ہے۔

کابل کٹھ پتلی انتظامیہ کے حکام جو نیٹو آرگنائزیشن کی تعاون کے وعدوں کو اپنی کامیابی کی ضمانت سمجھتی ہے، انہیں بتانا چاہیے ،کہ اس ملک میں کسی نے بھی اجنبی کےبل بوتے پر کامیابی اور عزت حاصل نہیں کی ہے۔ یہاں ایک زمانے میں شاہ شجاع کے پیچھے برطانیہ کی عظیم کھڑی تھی اور ببرک کارمل کے ساتھ وارسا معاہدہ ہمراہ تھا۔مگرآخرکار شاہ شجاع اور ببرک کارمل دونوں کا انجام ناکامی اور شرمندگی ہوا۔ لہذا تمہیں بھی  اجنبی قوت پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔

Related posts