نومبر 22, 2019

ہسکہ مینہ میں کابل انتظامیہ داعش کی شکست چھپا رہی ہے

ہسکہ مینہ میں کابل انتظامیہ داعش کی شکست چھپا رہی ہے

آج کی بات

گزشتہ دنوں صوبہ ننگرہار کے ضلع ہسکہ مینہ کے علاقے جودرہ گاؤں میں واقع حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر دھماکہ ہوا، جس میں 70 سے زائد نمازی شہید اور درجنوں شہری زخمی ہوئے.

اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو حملہ آوروں اور ان کے بے ضمیر غلاموں نے ہمیشہ واضح اور خفیہ طور پر عوامی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ جن میں جنازے، مساجد، شادیوں کی تقریبات، مدارس، صحت کے مراکز اور پبلک مقامات پر ڈرون حملوں یا داعش کے ذریعے تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے. ھسکہ مینہ مسجد کا حالیہ دھماکہ ایک واضح مثال ہے. یہ واقعہ بلاشبہ کابل انتظامیہ کا منصوبہ ہے۔

حالیہ ہفتوں میں امارت اسلامیہ کے غیور مجاہدین نے ننگرہار کے متعدد اضلاع خوگیانی، شیرزادو، پچیرگام، تورہ بورا اور دیگر علاقوں سے ​​داعش کے شرپسند عناصر کو شکست دی۔ ان عناصر کو واضح طور پر قابض امریکا اور کابل انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے۔ طالبان نے حملے میں داعش کو کابل انتظامیہ کے زیرکنٹرول علاقے شنواری کی طرف پسپا کر دیا گیا.

کابل انتظامیہ داعشی دہشت گرد گروہ کی شکست چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسے ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ داعش کے نام پر عوامی مقامات’ مذہبی اور سویلین اجتماعات پر ہسکہ مینہ جسیے حملے کر رہی ہے۔

اب عوام اور دنیا جان چکی ہے کہ اس طرح کے حملوں کے پیچھے بلیک واٹر کے اجرتی قاتلوں اور کابل انتظامیہ کے کارندوں کی سازش کارفرما ہے۔ ایسا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور اصل صورت حال سے ان کی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف عنوانوں کے تحت بزدلانہ حملے کیے جاتے ییں

امارت اسلامیہ نے پچھلے اٹھارہ سالوں کے دوران جس جواں مردی سے اپنی اسلامی اور قومی اقدار کا دفاع کیا ہے، اسی طرح آئندہ بھی ایسے عناصر اور ان کی سازشوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ!

Related posts