نومبر 22, 2019

یوناما کی شہری نقصانات کی رپورٹ جانبدار اور امریکا کو  برأت دینے کی کوشش کی گئی ہے

یوناما کی شہری نقصانات کی رپورٹ جانبدار اور امریکا کو  برأت دینے کی کوشش کی گئی ہے

آج افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن یوناما نے سویلین نقصانات کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی، جس میں ایک بار پھر کوشش کی گئی، کہ شہریوں کو نشانہ بنانے اور سویلین میں مجاہدین  کے حصے کو زیادہ ظاہر کریں۔

ہم سویلین نقصانات کے حوالے سے  یوناما کی رپورٹ کو ناقص اور جانبدار سمجھتے ہیں اور اسے رد کرتے ہیں۔

ملک میں سویلین نقصانات کے جان بوجھ اور حقیقی فیکٹر امریکی استعماری افواج ہیں،جو روزانہ ملک میں شہریوں کے گھروں،بازار اور تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں،ان پر بمباری کرتے ہیں  اور عوام کی ذاتی حریم پر رات کے اندھیرے میں چھاپے مارتے ہیں۔

مغربی ذرائع کے مطابق گذشتہ ماہ امریکی طیاروں نے  افغانستان کے گاؤں ،بستیوں اور کثیرآبادی علاقوں پر 948 بم برسائے تھے اور اس سے   معلوم ہوتا ہے کہ ان بموں کے نتیجے میں عام شہریوں کو کیا کچھ نہیں ہوا ہو؟

لیکن اس وجہ سے یوناما پر امریکی دباؤ ہے،اس لیے کوشش کررہی ہے کہ شہری نقصانات کے معاملے میں غیرجانبداری کو  نظرانداز کریں اور امریکا کے روزانہ اور باربار جرائم پر پردہ پوشی کریں۔

بقول یوناما  کہ شہری نقصانات کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی فضائی حملے اور اور عوام کے گھروں پر چھاپوں میں تیزی لائی گئی ہے۔

ملک میں سویلین نقصانات کے پہلے درجے کا عامل امریکی جارحیت ہے، دوسرے میں کابل انتظامیہ کے صفریک، صفردو، کمانڈو، ضربتی وغیرہ فوجیں ہیں، جنہیں عوام کے قتل عام کے لیے وحشی طور پر تربیت دی گئی ہیں۔

اسی طرح کابل انتظامیہ کی فوجی، جنگجو اور پولیس اہلکار گاؤں اور گھروں کو میزائلوں کا نشانہ بناتے ہیں،جن سے عام شہری شہید اور زخمی ہورہے ہیں۔

بدقسمتی سے شہری نقصانات کے حوالے سے میڈیا بھی کوشش کر رہی ہے کہ امریکا اور کابل انتظامیہ کی جانب سے عوام کے قتل کے موضوع کماحقہ طور پر نشر نہ ہوجائے۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

18 صفرالمفظر 1441ھ بمطابق 17 اکتوبر 2019 ء

Related posts