نومبر 16, 2019

امریکی سیاست ، ملکی اور بین الاقوامی دہشت گردی

امریکی سیاست ، ملکی اور بین الاقوامی دہشت گردی

تحریر : احرار ابدالی

ستمبر کی کانفرنس جو آپ نے سنی نہیں یا گیارہ ستمبر کی صورتحال کی وجہ سے آپ بھول گئے:

امریکی وزیر دفاع رمز فیلڈ نے 10 ستمبر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون سے 2 ٹریلین ڈالر گم ہو گئے ہیں، اس پریس کانفرنس کے 30 گھنٹے بعد پینٹاگون پر طیاروں کا حملہ ہوا اور اسی کمرے کو تباہ کر دیا جہاں 2 ٹریلین ڈالر کا ریکارڈ موجود تھا، اس واقعہ نے امریکی عوام کو الجھا کر رمزفیلڈ کی پریس کانفرنس کو بھلا دیا ۔

دنیا میں حکومتیں اور ممالک اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے ایسے اقدامات کرتے ہیں جن پر عام لوگ جلدی یقین کرتے ہیں وہ لوگوں کو ورغلانے کے لئے مختلف منصوبے بناتے ہیں اور پس پردہ جو کچھ کر رہے ہیں بظاہر عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے سازشوں کا سہارا لیتے ہیں ۔

سابق امریکی صدر ریگن کے دور حکومت میں وزارت خزانہ کے نائب جو انسٹی ٹیوشن، انڈی پینڈٹ انسٹی ٹیوٹ اداروں کے ممبر اور مشہور امریکی اخبار وال اسٹریٹ کے سربراہ، مشہور مصنف اور تجزیہ کار پال گریگ رابرٹسن نے بہت مضبوط دلائل کے ساتھ نائن الیون کا ڈرامہ مسترد کر دیا انہوں نے11 ستمبر کے واقعہ کے بارے میں اپنی کتاب کے آخر میں لکھا ہے:

کیا آپ کو معلوم ہے کہ نیویارک میں 11 ستمبر کو دو نہیں بلکہ تین تجارتی مراکز تباہ ہوئے؟ کیا یہ ثبوت موجود ہے کہ نائن الیون کا واقعہ مسلمانوں نے کیا ہے؟

کیا آپ کو تین بلڈنگ تباہ کرنے کا علم ہے یا ان کی تباہی کا منظر آپ نے خود دیکھا ہے؟

آپ کو یہ کیسے یقین ہوسکتا ہے کہ دو طیارے دو تجارتی مرکزوں کو تباہ کر کے زمین بوس کرتے ہیں لیکن تیسرا طیارہ پینٹاگون کی دیوار کو بھی نہیں گرا سکتا؟

کیا آپ اور دنیا اس پر اعتقاد رکھتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ امریکی حکومت نے آپ کو ٹیلی ویژن کی سکرین پر جو کچھ دکھائی وہ وہاں پہلے سے نصب شدہ کیمروں کا منظر ہے یا نہیں؟

کیا امریکی حکومت اور پہلے سے نصب شدہ کمروں نے آپ کو تیسری کمرشل عمارت دکھائی جو ایک ہی وقت میں دیگر دو تجارتی مراکز کے ساتھ منہدم ہوگئی؟

نہیں! آپ نے وہ تیسری عمارت کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی آپ کو معلوم تھا کہ ان دونوں کے ساتھ ایک اور تیسری عمارت گر گئی اور تباہ ہوئی کیونکہ آپ نے صرف دو طیارے اور دو عمارتیں دیکھی تھیں اور حکومت یہی چاہتی ہے ۔

حکومتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے لئے جھوٹ بولتی ہیں اور جب وہ اپنے مقاصد اور مفادات کے لئے جھوٹ بولتی ہیں تو پھر وہ جھوٹ بولتی ہیں کہ عام لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں اور سچ کی حیثیت سے اس کی تعظیم کرتے ہیں، سرکاری ایجنسیوں کے اعلی عہدیدار ہمیشہ اپنے ماتحت لوگوں سے کہتے ہیں:

اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے لوگوں کو اس طرح دھوکہ دیں کہ انہیں کچھ پتہ ہی نہیں چلے ۔

خیال رہے کہ نائن الیون کے واقعہ میں تین بلڈنگ کی تباہی کے بارے میں 5 فیصد امریکیوں کو بھی معلوم نہیں تھا یہاں تک کہ کئی سال گزر چکے تھے اور اس کے بعد سوالات اٹھ رہے ہیں ۔

 

Related posts