اکتوبر 20, 2019

ہفتم اکتوبر کی جارحیت، ایک عظیم غلطی

ہفتم اکتوبر کی جارحیت، ایک عظیم غلطی

ہفتہ وار تبصرہ

اب  سے اٹھارہ برس قبل07 اکتوبر 2001ء  ریاستہائے متحدہ امریکا کی فضائیہ نے افغانستان کے مقدس اور خودمختار سرزمین پر جارحیت کی،جس سے امریکی تاریخ کی طویل ترین اور ظالمانہ جنگ کا آغاز ہوا۔

افغانستان پر امریکی جارحیت نائن الیون حادثے کے چند ہفتوں کے بعد ہوئی۔ امریکا میں کیےجانے والے حملے امریکی ہی طیاروں کے ذریعے کیے گئے اور امریکی حکام اپنی ناکامی سمجھنے اور حقیقی عوامل اور اسباب تلاش کرنے بجائے،بلاتاخیر واقعات کی تمام ذمہ داری افغانستان پر ڈال دی۔اس حوالے سے امریکی حکام کا رویہ اتنی جلدی اور غیرسنجیدہ رہی،کہ آخری افشا شدہ معلومات کی رو سے حملوں کے آغاز سے پانچ گھنٹے نہیں گزرے تھے،کہ اس وقت امریکی سینٹرل ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ جورج ٹینٹ نے کہا کہ یہ حملے ان جنگجوؤں کی جانب سے ہوئے ہیں، جنہوں نے افغانستان میں تربیت پائی ہے۔

امریکی حکام رونما ہونے والے حادثے کے ابتدائی غیرمنطقی ردعمل کے طور پر ایسے ہی جذباتی رہ گئے، حادثہ کے بعد فورا امارت اسلامیہ کے خلاف جنگ کی دھمکیاں دینے لگیں اور ساتھ جنگی تیاریوں کا عمل شروع کردیا۔اس کے برعکس امارت اسلامیہ منطق اور افہام وتفہیم پر اصرار کررہا تھا۔امریکی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر تمہارا جو بھی دعوہ ہو،  گفتگو کے ذریعےاس کے  حل کرنیکی جستجو کی جائے۔مگر امریکی حکام نے عظیم غلطی کی اور وہ یہ کہ کسی محاسبے اور تحقیق کے بغیر  افغانستان پر فوجی جارحیت کی۔

امریکی جارحیت کے آغاز سے اٹھارہ برس گزرنےجانے کے بعد اب امریکی عوام کی اکثریت افغانستان پر جارحیت کو ایک غلطی سمجھتی ہے اور اس ملک سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کررہا ہے۔گذشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران افغانستان میں امریکا کے اربوں ڈالر ضائع ہوئے،ان کے اعتراف کے مطابق اس جنگ میں ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے اور ہزاروں زخمی، اپاہج اور ناقابل علاج ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔ اس طویل ترین جنگی تجربے کے بعد اب امریکا کا عام فیصلہ یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کے پرامن حل کی تجویز  درست اور افہام وتفہیم و مذاکرات کےذریعے جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

یہ کہ اب امریکی حکام کی اکثریت پرامن حل پر یقین رکھتا ہے، یہ ایک مثبت پیشرفت ہے،مگر دوسری جانب چند امریکی جنگ طلب جنرل اور سرمایہ دار جن کے مادی مفادات جنگ سے وابستہ ہے،وہ اب تک افغانستان میں جنگ جاری رکھنا چاہتی ہے اور لڑائی میں جانبین کے مزید خون بہایا جائے۔اسی وجہ سے وہ کبھی مذاکراتی عمل کے خلاف رکاوٹ ڈالتی ہے اور کبھی امارت اسلامیہ کے خلاف من گھڑت پروپیگنڈے اور غلط معلومات پھیلاتی ہے اور جارحیت کے بعد خودمختار افغانستان کو دنیا کے لیے خطرہ کے طور پر متعارف کروا رہا ہے۔

امریکی عوام، حکام، سیاسی طبقے اور تمام فریقین کو امارت اسلامیہ بتلاتی ہے کہ مزید اس کا وقت آں پہنچا ہے، تاکہ اس تاریخی غلطی کا اصلاح اور اس کا ازالہ کیا جائے،جو اٹھارہ برس قبل 07 اکتوبر اس وقت امریکی حکام نے کی تھی۔07 اکتوبر کی تاریخی غلطی کی اصلاح یہ ہے کہ افغانستان کے ناجائز اور ظالمانہ جارحیت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہماری ملت کو چھوڑ دیں،تاکہ دنیا کے دیگر اقوام کی طرح سکون اور خودمختار زندگی بسر کریں۔

Related posts