اکتوبر 20, 2019

مجاہدین کے حملے، کمانڈروں سمیت 15 ہلاک، غنائم

مجاہدین کے حملے، کمانڈروں سمیت 15 ہلاک، غنائم

پولیس اہلکاروں، مقامی جنگجوؤں اور کٹھ پتلی فوجوں کو امارت اسلامیہ کے پکتیکا، ننگرہار، کاپیسا، جوزجان اور بلخ صوبوں میں نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز دوپہرکے وقت صوبہ پکتیکا ضلع خیرکوٹ کے محمدحسن گاؤں کے قریب حکمت عملی کے تحت ہونے والےدھماکہ سے پولیس کمانڈر شیخ محافظ سمیت ہلاک ہوا اور ایک کلاشنکوف، ایک ہینڈگرنیڈ اور دیگر فوجی سازوسامان مجاہدین نے قبضے میں لیا۔

دوسری جانب پیر اور منگل کی درمیانی شب صوبہ ننگرہار ضلع خوگیانی کے کژہ بازار کے قریب مجاہدین کے حملے میں 3 فوجی مارے گئے اور منگل کے روز دوپہر سے قبل ضلع بٹی کوٹ کے لاچپور کے علاقے میں شمشاد نامی چوکی کمانڈر کی گاڑی دھماکہ سے تباہ اور اس میں سوار کمانڈر نعیم 3 محافظوں سمیت موقع پر ہلاک جب کہ ایک زخمی ہوا۔

اسی طرح عشاء کے وقت صوبہ کاپیسا ضلع تگاب کے نوروزخیل کے مقام پر مجاہدین نے 2 جنگجوؤں کو مار ڈالے اور ان کے اسلحے کو  قبضے میں لیا۔

رپورٹ کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب صوبہ جوزجان ضلع فیض آباد کے کوکلداش کے علاقے میں واقع چوکی پر مجاہدین نے حملہ کرکے اللہ تعالی کی نصرت سے اس پر قابض ہوئے اور وہاں تعینات جنگجوؤں میں سے ایک ہلاک جب کہ دوسرا زخمی اور دیگر فرار ہوئے اور مجاہدین نے اسلحہ وغیرہ بھی قبضے میں لیا۔اسی طرح ضلع مردیان کے فتح آباد گاؤں کے رہائشی 2  افغان فوجیوں محمدعظیم ولد نیازبائی اور محمد اکبر ولد بازمحمد نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مجاہدین سے آملے۔

رپورٹ کے مطابق پیرکےروز صوبہ بلخ ضلع خاص بلخ کے عالم خیل کے علاقے میں فوجی بیس پر حملے کے دوران ایک فوجی ہلاک جب کہ ضلع چمتال کے آسیاگورگ کے مقام پر فوجی بیس پر حملے میں ایک فوجی ہلاک ہوا اور منگل کےروز صبح کے وقت ضلع چاربولک کے خان آباد کے علاقے میں فوجی بیس پر اسی نوعیت حملے میں ایک فوجی ہلاک ہوا۔

Related posts