اکتوبر 20, 2019

کابل متزلزل انتظامیہ کا متزلزل موقف

کابل متزلزل انتظامیہ کا متزلزل موقف

آج کی بات

امارت اسلامیہ کے مقامی ممالک کے دوروں کے تسلسل کے سلسلے میں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ الحاج ملا عبدالغنی برادر اخوند کی سربراہی میں 12 رکنی وفد نے 2 اکتوبر کو سرکاری دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا ۔

وفد نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے امن و امان ، دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات ، پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور افغان تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔

امارت اسلامیہ دنیا اور خطے کے ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی پالیسی کے تحت دوستانہ تعلقات کی کوشش کرتی ہے اور وقتا فوقتا نمائندے مختلف ممالک کے دورے پر جاتے ہیں ، پاکستان کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

کابل انتظامیہ جس نے امارت اسلامیہ کے مقابلے میں فوجی اور سیاسی محاذ پر شکست کھائی ہے اور ایک شرمناک اور الجھن حالت کا شکار ہے، جس نے ہر وقت امارت اسلامیہ کے دوروں کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کو کامیابی نہیں ملی ہے ۔

انہوں نے امارت اسلامیہ کے وفد کے دورہ پاکستان کے موقع پر بھی متزلزل مؤقف اپنایا اور کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے اس دورے پر تنقید کی اور پاکستانی حکام کی جانب سے امارت اسلامیہ کے وفد کا پرتپاک استقبال کو سفارتی اداب کے خلاف عمل قرار دیا ۔

لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے اس دورے کا خیرمقدم کیا اور امریکیوں کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی توقع ظاہر کی ۔ تاہم ایوان صدر نے فورا اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے ۔

مذکورہ بالا دو متضاد بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کابل انتظامیہ کے اندر کتنا گہرا اختلاف موجود ہے جو ایک دورے کے بارے میں اتنے متضاد اور مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہیں، جس سے ثابت ہوا کہ اس کے پاس امارت اسلامیہ سے مذاکرات کے لئے ایک مضبوط اور بااختیار مذاکراتی ٹیم تشکیل دینے کی کتنی صلاحیت ہوگی ۔

دورہ پاکستان کے حوالے سے ایوان صدر اور وزارت خارجہ کے اختلافات نے امارت اسلامیہ کے اس موقف کو تقویت بخشی ہے جس نے ہمیشہ کہا ہے کہ کابل انتظامیہ مذاکرات کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی ہے ، سب سے پہلے امریکیوں کے ساتھ اس معاملے کو حل کریں گے اور پھر مختلف افغان حلقوں کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے ۔

Related posts