اکتوبر 20, 2019

آزادی کے گمنام ہیرو

آزادی کے گمنام ہیرو

عابد مجاہد

امریکی ناجائز قبضے کے خلاف انقلابی جدوجہد بالآخر اس مقام پر پہنچ گئی ہے، جہاں کامیابی سو فیصد یقینی ہے۔ آخر کار اس دھرتی کے دشمنوں نے افغانستان کی آزادی کو تسلیم کر لیا ہے۔ امریکی فوج کے مغرور کمانڈرز اور جرنیل ذلت کے ساتھ یہ ملک چھوڑ کر نکلیں گے۔ یہ سرفروش مجاہدین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ جنہوں نے 19 برس لازوال قربانیاں دے کر سفاک دشمن کو افغانستان سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ غیور مجاہدین کی مسلح جدوجہد کا مثبت نتیجہ اور جہاد کی برکت ہے۔ اللہ تعالی نے مجاہدین کی مدد کی اور انہیں غاصب کفریہ قوتوں کے خلاف تاریخی معرکے میں سرخ رُو کر کے کامیابی عطا فرمائی۔

یہ ایسی کامیابی ہے، جس سے اس ملک کی تاریخ میں ایک نئے سنہری باب کا اضافہ ہوگا۔ جیسا کہ آج ہم مغربی قوتوں سے آزادیکا جشن مناتے ہیں اور ہمارے اسلاف نے سو سال پہلے فرنگی سامراج سے آزادی حاصل کی تھی، آج ہم ان کی قربانیوں اور کارناموں پر فخر کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح آئندہ دور میں نئی نسلیں ہماری جدوجہد پر فخر کریں گی۔ ہمارے کارناموں کو یاد کریں گی۔ فرنگی سامراج اور سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کی طرح امریکی استعمار سے بھی ملک آزاد کرانے کا جشن منائیں گی۔ یہ کامیابی اس ملک تک محدود نہیں ہے، جس طرح اپنے وقت کی عظیم طاقت سوویت یونین کو افغانستان میں تاریخی شکست ہوئی اور اس کے نتیجے میں وہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوا۔ جس سے درجن بھر ممالک اس کی غلامی کے چنگل سے آزاد ہوئے، اسی طرح دنیا دیکھے گی کہ امریکی طاغوت کے شر سے بہت سے مظلوم و محکوم ممالک اور درماندہ اقوام آزادی حاصل کریں گی۔

یہ صرف افغانستان کی سطح پر ایک کارنامہ نہیں ہے، بلکہ دنیا کی سطح پر افغانستان اور افغان عوام سرخ رُو رہیں گے۔ اب دوست اور دشمن سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ کی مدد اور قوم کی مکمل حمایت کے بغیر اتنی لمبی اور پیچیدہ جنگ جیتنا ناممکن ہے۔ لہذا اس قوم کو امریکی جارحیت اور درآمد شدہ غیراسلامی نظام حکومت بھی ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ جب امن ہوگا تو سیاسی استحکام بھی ہوگا۔ جنگ ، بمباری اور بدامنی نہیں ہوگی۔ خوف اور انتشار نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے آبادی، ترقی اور خوش حالی کا نیا دور شروع ہوگا۔ ملک کی تعمیرِنو کے حوالے سے ایک چھوٹا سا اقدام اٹھانا بھی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

گزشتہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہےکہ آزادی کے لیے ہمیشہ ان مخلص اور گمنام لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، جن کے نام سے لوگ واقف نہیں ہوں گے۔ البتہ تاریخ میں ان کے کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ آج بھی افغانستان میں ایسے مخلص لوگ موجود ہیں، جن کی قربانیوں کی بدولت ہم آزادی کی منزل پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ دن دور نہیں، جب ہم خودمختار اور آزاد ملک میں اسلامی نظام کے زیرسایہ پُرامن زندگی بسر کریں گے۔ یہ شہداء کے لہو کا نتیجہ ہے۔ ان لوگوں کی قربانیوں کے ثمرات ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ لوگ ان کے نام نہیں جانتے، لیکن ان کے اخلاص اور لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہم جشن آزادی منانے والے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کارناموں پر تاریخ ہمیشہ ناز کرے گی۔ آئندہ نسلیں بھی ان کی قربانیوں اور کارناموں کی تعریف کریں گی۔ اللہ تعالی ان کی قربانیاں قبول فرمائے۔ آمین

Related posts