اکتوبر 20, 2019

ناکام انتخابات اور عوام کا شاہکار فیصلہ

ناکام انتخابات اور عوام کا شاہکار فیصلہ

آج کی بات

28ستمبر کو کابل انتظامیہ نے ذلت آمیز اور شرمناک صدارتی انتخابات کا ڈرامہ رچایا لیکن اس غیور قوم پر ہزار بار آفرین ہو جس نے ایمانی جذبے اور افغانی غرور کے ساتھ عالمی استعمار کے فرسودہ منصوبہ سے بائیکاٹ کیا ۔

افغان قوم نے اسلامی اور افغانی شہامت کی اعلی مثال قائم کی کہ امریکہ اور مغربی دنیا کی تمام تر کوششوں، مالی امداد، پروپیگنڈوں، ہتھکنڈوں اور دباؤ کے باوجود 40 ملین لوگوں میں سے محض ڈیڑھ لاکھ افراد نے اسلام اور افغان مخالف کھیل میں حصہ لیا یا تو سرکاری ملازمین تھے یا ورغلائے گئے تھے ۔

امارت اسلامیہ نے گذشتہ ہفتے کے دوران مختلف اعلامیوں کے ذریعے محب وطن شہریوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جارحیت کو دوام بخشنے اور جنگ کو طوالت دینے والے منصوبہ میں شرکت نہ لیں ۔

ہماری مسلم اور مجاہد قوم جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہر طاقتور اور ان کے بے ضمیر غلاموں کو منہ پر زناٹے دار تھپر رسید کیا ہے اس بار بھی امارت اسلامیہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نام نہاد اور جعلی الیکشن سے بائیکاٹ کیا ۔

نام نہاد الیکشن میں عوام کی عدم شرکت سے مندرجہ ذیل نکات واضح ہوگئے :

1 ۔ قوم کی اکثریت ملک میں جارحیت کا خاتمہ اور ایک مضبوط اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے ۔

2 ۔ کابل انتظامیہ میں شامل حکام کو چاہیے کہ وہ مزید غیر ملکیوں کی آشیرباد سے اپنی قوم کے اسلامی مطالبات کے ساتھ نہ کھیلیں اور اغیار کی غلامی سے باز آجائیں ۔

3 ۔ چونکہ غیر جانبدار میڈیا اور الیکشن کی نگرانی کرنے والی تنظیموں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ انتخابات میں ٹرن آوٹ بہت کم تھا جس سے ثابت ہوا کہ افغان عوام نے عدم شرکت کی صورت میں اپنا فیصلہ سنا دیا، لہذا قابض قوتوں کو احساس ہونا چاہیے کہ افغان عوام بیرونی جارحیت اور منصوبے قبول نہیں کریں گے ۔

4 ۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو چاہیے کہ وہ عوام کے اس عظیم کارنامے کی قدر کریں کیوں کہ اسی قوم نے جس ہمت اور جرات کے ساتھ دشمن کی سازش ناکام بنائی اور تمام تر کوششوں، ہتھکنڈوں، پیسوں اور سازشوں کے باوجود گھناونے کھیل سے دور رہی ۔

Related posts