اکتوبر 20, 2019

الیکشن تمہارا اور سلیکشن امریکہ کی

الیکشن تمہارا اور سلیکشن امریکہ کی

جبیر افغان

انتخابات کے نام سے جعلی پراسیس اختتام پذیر ہوا. محدود افراد نے ووٹ کاسٹ کی. لوگوں نے ووٹنگ کے نام سے انگلیوں کو نیلا کردیا. ویسے مجموعی طور پر انگلیوں کو رنگنے کا یہ زبردست موقع تھا، جو لوگوں کو مل گیا. شاید ووٹ کاسٹ کرنے کے عنوان کے بغیر اس طرح اجتماعی طور پر لوگوں کو انگلیوں کے رنگنے کا موقع بمشکل مل جاتا. بعض خوشی سے پھول رہے تھے کہ اپنی پسند اور محب وطن امیدوار کو رائے دے دیا اوربعض نے پھر رنگے انگلیوں کو فیس بک کا سٹیٹس بنا کر لکھا تھا کہ:

” میں نے غنی بابا کو دیا؟! تم نے کس کو دیا؟”.

لیکن یہ لوگ زبردست غلط فہمی میں پڑھ چکے ہیں. نہ معلوم کہ اپنی زندگی کے تجربوں اور تاریخ کے واقعات سے یہ لوگ کیوں نہیں سیکھتے اور ماسبق کو آنے والے کل کیلئے بطور عبرت کیوں نہیں پکڑتے ؟

اگر یہ لوگ ذرا سوچ و بچار سے کام لے یا کوئی ان کے دماغوں  کے سست پڑ جانے والی نٹس کو فہم کے ہتھوڑے سے ذرا ٹھونک دے تو شاید انہیں ہوش آ جائے کہ ہم حج کی نیت سے چل پڑے تھے لیکن ایں راہ بترکستان می رود.

بھائیو! تم نے ووٹ کاسٹ کی، محنت کی، شاید تھک بھی چکے ہوں گے؛ گرمی بھی محسوس کی ہوگی؛ ممکن ہے ڈرامائی انتخاباتی پولنگ اسٹیشنز تک پیدل یا گاڑیوں کے چکر بھی کاٹے ہوں گے؛ اس کا بھی یقین ہے کہ انتظار بھی کافی کیا ہوگا؛ شاید دوپہر کا کھانا بھی بروقت نہ ملا ہو اور بڑے میاں صاحب! آپ کو تو شاید گالم گلوچ بھی گوش گزار کرائی گئی ہوگی جس سے کسر خاطر اور بےعزتی کا احساس ہوا ہو.

یہ سب کچھ اس لئے کرنا پڑا کہ شاید کوئی ہدف لے کر آئے تھے، امکان ہے کہ ایک ذمہ داری  پوری کرنے کے احساس نے یہاں تک کھینچ کر لایا ہو؛ ایک باطنی محرک نے اکسایا ہو. لیکن دل برداشتہ نہ ہونا، تم سب ایک زبردست اشتباہ میں پڑھ چکے ہو.

ووٹ تو تم نے اپنی پسند کے امیدوار کو دیا لیکن انتخاب امریکہ کی ہوگا. انتخاباتی جعلی عمل تم سے کروایا تاکہ دل مطمئن رہے کہ اپنی پسند کا بندہ حکمرانی کر رہا ہے اور آئندہ اگر کسی نام سے ذبح کیے جارہے ہو تو ہر کس و ناکس کی حجت تم پر تام ہوگی کہ کل جس کو ووٹ دے رہے تھے آج وہ جو کچھ بھی کر رہا ہے اور طالب یا دیگر دہشتگرد کے نام سے قتل کر رہا ہے، تو اس کو برداشت بھی کر لو. لیکن یاد رکھنا کہ اس بار بھی رہبری اور ملک کی صدارت وہی بندہ کرے گا جس کو وائٹ ہاؤس میں گول میز پر چنا گیا ہو اور وہی بندہ قیادت کی ڈور سنبھالے گا جس کو واشنگٹن اور امریکہ کی امن کا پڑا ہو.

گزشتہ دو قیادتیں تمہارے سامنے ہیں، حامد کرزئی کہاں سے آیا اور کس کی طرف سے چنا گیا؟ کن کے پلانوں کو عملی جامہ پہنا رہا تھا اور کس کے اشارے سے اپنی ملت کا قتل عام کر رہا تھا؟ مشترکہ حکومت کے نام سے تمام مفاسد کا یہ مجموعہ کس کی طرف سے وجود میں لایا گیا؟ کونسی دھاندلی اس میں کی گئی اور جان کیری کی چاہت سے کونسا ڈھانچہ صدارت کی کرسی پر نصب کیا گیا. امریکہ کو افغان ملت کے قتل عام کی اجازت کس نے دی اور افغانستان  کی حریم کو پامال کرنے اور اس میں ہر قسم کے نامشروع آپریشنز اور پلاننگ کرنے کے دستخط کس نے ان کو دیے؟!

ووٹ کاسٹ کرنے والے بھٹکے ہوئےنوجوانوں! ان تمام سوالات کے جوابات کا تمہیں مجھ سے زیادہ اور بخوبی پتہ ہے، لیکن اس کے باوجود بھی ووٹ کاسٹ کی، تو تمہاری رائے کی قدردانی کی جائیگی اور وہ اس طرح کہ ووٹ تمہارا اور انتخاب امریکہ کی. امریکہ کے لئے یہ بھی آسان تھا کہ واشنگٹن سے صدارت کے لئے ایک اور ریموٹ کنٹرول روبوٹ کو پیراشوٹ کرکے پھینکتے، لیکن اس کا یہ احسان تم بھی ماننا کہ اس نے ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی. وگرنہ تمہاری پسند کے امیدواروں اور لیڈرز میں سے کس کی اتنی جرأت اور غیرت کہ امریکہ سے انتصابی اور جعلی انتخابات کی پراسیس کو فسخ اور کالعدم قرار دینے کا پوچھ لے.

تو ایک بار پھر یاد دہانی کراتا ہوں کہ اے بھٹکی ہوئی قوم! الیکشن تمہارا اور سلیکشن امریکہ کی.

Related posts