اکتوبر 20, 2019

جمہوریت ، جارحیت اور انتخابات

جمہوریت ، جارحیت اور انتخابات

تحریر: فاتح افغان
افغانستان پر امریکی جارحیت کے بعد جن عناصر نے دشمن کی صف میں شامل ہو کر اسلام اور ملک کے ساتھ غداری کی اور اقتدار کی ہوس میں اپنے ہی عوام کے خلاف برسرپیکار ہوئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے ذاتی مفادات کے حصول کے علاوہ ملک و قوم کو کیا دیا؟ وہ عناصر کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا کارنامہ ملک میں جمہوری نظام لانا ہے، انہیں "جمہوریت” پر فخر ہے ، یہی وجہ ہے کہ نام نہاد افغان حملہ آوروں کی صف میں شامل اور جمہوریت کے گیت گاتے ہیں ۔
لیکن ہم نے دیکھا کہ مغرب سے وارد شدہ جمہوریت کی آڑ میں قوم پر ایسے سفاک اور انسانیت سے عاری قاتل مسلط کئے گئے ہیں جو ملک پر ناجائز بیرونی جارحیت کو مستحکم کرنے اور حملہ آوروں کے جرائم کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، ایسے مہرے قابض افواج کے فضائی حملوں اور چھاپوں کے نتیجے میں نشانہ بننے والے نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی خود قبول کرتے ہیں اور قابض افواج کو قانونی جواز بھی فراہم کرتے ہیں ۔
مقبوضہ ممالک میں وہی دوسری جمہوریت چلتی ہے اور عوام کی رائے اور جذبات کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ لعنت ہو ایسی جمہوریت پر جس کی وجہ سے آئے روز ہمارے گھروں میں ماتم ہوتی ہے، افغان عوام خوف و ہراس میں زندگی بسر کر رہے ہیں، چھاپوں اور فضائی حملوں کی زد میں ہیں اور روزانہ متعدد افراد مغربی قوتوں کی جمہوریت کی بھینٹ چڑھتے ہیں ۔
جمہوریت کی بھی اپنی شرائط ہیں جن میں اہم شرط یہ ہے کہ منتخب ذمہ داران قوم کو جواب دہ ہوں گے لیکن جارحیت کے زیر سایہ نام نہاد جموریت میں مسلط شدہ حکمران حملہ آوروں کے اشاروں پر چلتے ہیں اور ملک کے اندر نسلی ، لسانی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں ۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہی کٹھ پتلی عناصر افغان عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بدعنوانی ، منافقت اور ظلم و ستم کی بیعت کریں اور چوروں ، قاتلوں اور غلاموں کو ووٹ دیں ۔امریکی جارحیت کے پہلے دن سے ہی یہی چند کمونسٹ اور سیکولر عناصر ہیں جو بدلتے رہتے ہیں اور ان کا مکمل انحصار صلیبی ہتھیاروں پر ہے، یہ عناصر اپنے اقتدار کی بقا کے لئے قابض افواج کو سر جھکاتے ہیں اور ان کی آشیرباد سے اپنی قوم کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔
حقیقی امن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے امن کے جھوٹے نعرے لگاتے ہیں ۔ یہی عناصر ایک بار پھر امریکہ کی آشیرباد سے اقتدار میں آنے کے لئے جعل سازی کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ پانچ سال تک مزید افغان عوام کی جان، مال اور عزت سے کھیلیں ۔
لیکن اللہ کے فضل سے دیگر معاملات کی طرح حملہ آوروں کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہوا اور نام نہاد انتخابات سے عوام کے بائیکاٹ نے ثابت کر دیا کہ یہ خالص مغربی منصوبہ ہے، قوم کو پہلے سے پتہ تھا کہ انتخابات برائے نام ہوں گے درحقیقت وہ عناصر اقتدار میں آئیں گے جو امریکہ کے وفادار ہیں ۔
کیا اس بات کا امکان ہے کہ امریکی جارحیت کے مخالف سیاستدان انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں اور انہیں کامیابی کا موقع مل سکتا ہے؟
قانونی اور شرعی لحاظ سے بھی ان انتخابات کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ یہ انتخابات اس حکومت کے زیر انتظام ہوئے جس نے بین الاقوامی سطح پر بد انتظامی اور مالی بدعنوانی میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے اور صلیبی جنگ اس کے لئے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے ۔
ان انتخابات کے عدم جواز کی وجوہات درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرمائیں ۔
۔ تمام سرکاری اداروں پر قابض افواج کا اختیار اور کنٹرول ۔
۔ انتخابات سے اکثریتی افغان مسلم عوام کا بائیکاٹ ۔
۔ نامزد امیدواروں کا اپنے وطن کے بجائے بیرونی ممالک سے وفاداری ۔
۔ الیکشن کمیشن کی جانبداری اور باہر سے کنٹرول ۔
۔ انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر دھاندلی، دھوکہ دہی ، بدعنوانی اور فراڈ ۔
۔ کچھ امیدواروں کو جدید ترین آلات ، سرکاری مشینری، میڈیا اور عملے کی فراہمی ۔
مختصر یہ کہ ہم اس الیکشن سے کیا توقع کریں گے جو مالی اعانت ، رائے شماری سے لیکر انتخابی نتائج تک سب کچھ امریکی حملہ آوروں کے کنٹرول میں ہے ۔

Related posts