اکتوبر 20, 2019

عوام کی جانب سے الیکشن کا بائیکاب اور دلالتیں

عوام کی جانب سے الیکشن کا بائیکاب اور دلالتیں

ہفتہ وار تبصرہ

سنیچر کےروز 28 ستمبر 2019 ء کو افغانستان میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی جانب سے صدارتی الیکشن کے نام سے وہ عمل سرانجام ہوا،جس کے لیے کئی مہینوں سے پروپیگنڈے اور ترتیب جاری تھے۔ الیکشن ملک کے صرف ان  چند  شہروں میں منعقد کیاگیا،جہاں کٹھ پتلی انتظامیہ کی معمولی رٹ تھی۔ افغانستان کے رقبے کا 80 فیصد  حصہ شہروں، بندوبستی اور دیہی علاقوں پر مشتمل ہے اور وہاں مطلق کثیرآبادی موجود ہیں، انہی علاقوں میں اس لیے الیکشن عمل سرانجام نہیں ہوا، کہ وہاں امارت اسلامیہ کے مجاہدین کا کنٹرول ہے۔

بقیہ 20 فیصد رقبے  میں سینکڑوں مراکز مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے  بند پڑے رہے۔ لاجسٹک نقصانات، فنی مسائل، منصوبے کی پیچیدگیاں اور کارکنوں کی عدم شناسی وغیرہ وہ مسائل تھے،جس نے اس عمل کو شدید رکاوٹوں سے روبرو کیا۔ مگر وہ سبب،جس نے اس عمل کے جعلی ہونے اور عدم اعتبار کو واضح کردیا، وہ عوام کی جانب سے ملک گیر بائیکاٹ اور انتخابی عمل میں شمولیت سے انکار تھا۔

اس بات پر میڈیا، صحافیوں اور الیکشن کی نگرانی کرنے والی تنظمیوں کا  اتفاق ہے کہ حالیہ الیکشن افغانستان کے گذشتہ اٹھارہ سالوں میں ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ بےاعتبار اوراس میں عوام کی شرکت کم ہونے کی وجہ سے بےمثال تھے۔ شائع شدہ تصاویر اور ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ الیکشن کے دن اکثریت پولنگ مراکز خالی پڑے رہے۔جو لوگ چند مراکز میں نظر  آرہے تھے،وہ امیدواروں کے ایجنٹ اور نگران عملہ تھا، عوامی شرکت میں کمی اور ووٹنگ کی بے مثال قلت کی وجہ سے مسلط شدہ ڈیموکریسی کے  آفسرز مجبور ہوئےکہ اپنی ساکھ کے تحفظ کی خاطر صندوقوں کو جعلی ووٹوں سے بھر دیں۔

افغان عوام کی جانب سے الیکشن کے جھوٹے عمل سے بائیکاٹ ان تمام فریق کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے، جو ہماری مؤمن ملت پر زر، زور اور جعل کے ذریعے اپنے غلط نسخے لاگو اور استعمارانہ عمل کو قبول کرنا چاہتا ہے۔ اس ملک گیر عوامی بائیکاٹ کا پیغام استعمار کے لیے یہ ہے کہ وہ ایک بیدار، بااحساس اور باعزم ملت سے روبرو  ہے۔ وہ ملت جو صرف اور صرف اپنے اصول اور معیار کے تابع ہیں اور اس ملت کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے بروئےکار نہیں لاسکتا۔

عوام کی جانب سے الیکشن کے ملک گیر بائیکاٹ نے غلاموں کو بھی بتلا دیا کہ عوام ان کے غلامی کے اعمال سے تنگ آچکی ہے اور اس منصوبے کو نہیں مانتے،جو  جارحیت کے دوام کے لیے راہ ہموار کرتا ہو۔ عوام کو اس پر یقین ہے کہ استعمار کے زیرسایہ الیکشن کا کوئی معنی نہیں ہے۔کیونکہ آخری فیصلہ بھی اس ہی کی جانب سے ہوگا، جوالیکشن کے اخراجات مہیا کرتا ہو اور اس کے مقابلے میں آخری فیصلے کے حق کو بھی اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔

جیسا کہ امارت اسلامیہ  نے  ایک اعلامیہ جاری کرنے سے اپنی مؤمن اور وفادار ملت کا شکریہ ادا کیا ، اپنی ملت کے عظیم سیاسی شعور پر فخر کرتی ہے اور اسے استعمار اور ملکی غداروں کی ضروری شکست کی نشانی سمجھتی ہے۔

اسی طرح استعمار فریق کو بھی بتلاتی ہے کہ اس ملت کے خلاف مزید ورغلانے والی جدوجہد سے دستبردار ہوجاؤ،جیسا کہ گذشتہ اٹھارہ سالوں میں تمہارے تمام دھوکہ پر مبنی کوششوں پر پانی پھیر گئی ، تو مستقبل میں بھی کسی نتیجے کی امید نہ رکھو۔

Related posts