اکتوبر 20, 2019

جعلی الیکشن اور عوام کا واضح فیصلہ

جعلی الیکشن اور عوام کا واضح فیصلہ

تحریر: مولوی نعمت اللہ سابق

پوری دنیا اور افغانستان کے اندر کابل انتظامیہ سمیت تمام حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ ہر صوبے کے مرکزی شہر میں ووٹرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی، چند محدود اضلاع کے سوا باقی تمام اضلاع پر طالبان کا کنٹرول ہے اور باقی محاصرے کی حالت میں ہیں، جہاں سیکورٹی فورسز کے اہل کار چین سے بیٹھنے کا متحمل نہیں ہو سکتے ، وہاں بیلٹ بکس کس لئے رکھے جائیں گے ۔

الیکشن کمیشن نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ کابل میں 44 ہزار اور قندھار میں 25 ہزار افراد نے ووٹ استعمال کیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں ایک ووٹ دس کے حساب سے شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ اگر واقعی یہی تعداد ہوتی تو اب قندہار کے ووٹ کو ایک لاکھ سے زیادہ ظاہر کیا جاتا لیکن چونکہ انتخابی دستاویزات موجود نہیں ہیں اس لئے یہ تعداد بھی ان کے لئے بہت ہے ۔

آپ کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کی آبادی پر غور کریں اور ان علاقوں کے بارے میں سوچئے جہاں کابل انتظامیہ کا کنٹرول ہے اور یہاں سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے تھے جو بظاہر طالبان کے حملوں کا خوف بھی نہ تھا لیکن اس کے باوجود ٹرن آوٹ بہت کم تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام نے کیا فیصلہ کیا ؟ کابل کی آبادی ساڑھے چار ملین سے زیادہ ہے اور قندھار کی مجموعی آبادی تقریبا پانچ لاکھ 57 ہزار کے لگ بھگ ہے ، اس کا مطلب ہے کہ پچاس لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں میں سے صرف ستر ہزار افغانوں نے کابل انتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جو مغربی سازشوں کی واضح شکست اور افغانوں کے جذبہ حریت کی واضح دلیل ہے، افغان عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا کہ یہاں نام نہاد انتخابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے، یہ محض برائے نام ڈرامہ ہے جو افغان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے لیکن درحقیقت یہاں سب کچھ قابض قوتوں کی جانب سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور ایک بھیانک چہرہ اور بے ضمیر شخص قوم پر مسلط کیا جاتا ہے ۔

افغان عوام کی اکثریت نے کیوں انتخابی عمل سے بائیکاٹ کیا اس کی چند وجوہات ہیں :

پہلا: سیاسی میدان میں طالبان کی کامیابی اہم وجہ ہو سکتی ہے، ملک کے اندر کچھ سیاست دانوں نے انتخابی عمل کی کھلے عام مخالفت کی ہے اور افغان عوام کو بھی اس بات کی ترغیب دی کہ وہ امریکی سازش کو ناکام بنائے، کیوں کہ ملک میں دن رات قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے، فضائی حملوں اور چھاپوں میں لوگ بے دردی سے مارے جاتے ہیں اور یہاں واشنگٹن کی حکمرانی افغانوں کے ووٹوں سے زیادہ اہم ہے، ہمارے ملک کا اختیار قابض قوتوں کے پاس ہے وہ جس کو چاہیے یہاں پر بطور حکمران مسلط کریں گی، امن اور جنگ دونوں کا اختیار ان کے ہاتھ میں ہے، سیاست دانوں کے بائیکاٹ پر مبنی اس فیصلے میں قطر کے سیاسی دفتر کا اہم کردار ہے ۔

دوسرا: طالبان اس بار عسکری محاذ پر پہلے کی نسبت زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے ، طالبان ملٹری کمیشن سمیت کچھ کمیشنوں نے بار بار انتباہی بیانات جاری کیے اور عوام پر زور دیا کہ وہ انتخابات سے بائیکاٹ کریں، پولنگ اسٹیشنوں کے قریب جائیں اور نہ ہی غیر ملکیوں کی خاطر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالیں بلکہ اپنے گھروں میں آرام کریں، مجاہدین نے الیکشن کے دن تمام شاہراہوں اور راستوں کو بند کردیا اور شہروں تک آمد ورفت پر پابندی لگائی ۔

تیسرا: سوشل میڈیا پر طالبان اور عام افغانوں کی مہم نے بہت سارے لوگوں کو زہنی طور پر تیار کیا کہ وہ نام نہاد الیکشن سے بائیکاٹ کریں، کارکنوں نے عام افغانوں کو سمجھایا کہ یہاں ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ایک بار پھر کوئی نیا جان کیری آئے گا اور یہاں پر اپنی مرضی کا شخص مسلط کرے گا، یہاں تمام اخراجات امریکہ کر رہا ہے، تنخواہ ، ٹینک ، توپخانے ، اسلحہ ، انتخابی سامان اور سب کچھ امریکہ کی جانب سے درآمد ہوتا ہے لہذا انتخابات بھی اس کی مرضی سے ہوں گے، اس لئے افغان عوام کو چاہیے کہ وہ زیادہ کوشش نہ کریں اور نہ ہی مغربی قوتوں کو اس بہانہ کا موقع دیں کہ افغانستان کا مسلط کردہ حکمران افغان عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوا ہے ۔

چوتھا: حالیہ مہینوں میں سفاک دشمن کی جانب سے نہتے شہریوں کا قتل عام بھی انتخابات سے عوام کے بائیکاٹ کی اہم وجہ ہو سکتی ہے، ننگرہار ، ہلمند ، فاریاب ، لوگر ، فراہ اور کچھ دیگر صوبوں میں قابض افواج اور کابل انتظامیہ کے خصوصی دستوں کے جاری مظالم اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے افغان عوام مشتعل ہوگئے اور انہیں پتہ ہے کہ ان کے ووٹوں سے اگلا حکمران ان کا سوداگر ہے اور وہ بھی مغربی بموں سے انہیں مار ڈالیں گے ، مکانات ، بازار اور مساجد کو تباہ کردیں گے اور وہ اپنے علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہوں گے ۔

مظلوم قوم کا یہ غصہ اس کا باعث بنا کہ عوام نے جعلی انتخابات سے بائیکاٹ کیا تاکہ وہ امن کے لئے جدوجہد کریں، کیوں کہ افغان عوام کی پہلی ترجیح امن ہے، ملک کی ترقی بھی امن سے مشروط ہے، امن ہوگا تو خوشحالی آئے گی اور ملک ترقی کرے گا، امن نہ ہو تو ہزار بار انتخابات کریں کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ یہی تباہی اور بربادی ہوگی ۔

Related posts