اکتوبر 20, 2019

صدارتی سلیکشن اور آنکھوں دیکھا حال

صدارتی سلیکشن اور آنکھوں دیکھا حال

تحریر: ابو عابد

افغانستان میں صدارتی سلکشن کے لئے آج ہفتہ کو صبح انتخابی عمل شروع ہوچکا ہے لیکن اب تک جن لوگوں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا ہے وہ انتخابات کو پچھلے تمام انتخابات کے مقابلے میں مبہم ، دھوکہ دہی اور شرمناک سمجھتے ہیں، اس تحریر میں حکومت کے حامی ان شخصیات کے خیالات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جنہوں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا ہے اور وہ چشم دید گواہ ہیں ان کے نزدیک انتخابی عمل ناکام اور شرمناک رہا ہے ۔ مزید تفصیل درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرمائیں ۔

گلبدین حکمت یار :

صدارتی امیدوار گلبدین حکمت یار نے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتخابات برائے نام ہو رہے ہیں دراصل دو مخصوص ٹیموں نے منظم دھاندلی کے انتظامات کیے ہیں، انتخابات کی حقیقت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حکمت یار اور ان کے اہل خانہ نے شناختی کارڈ پر اسٹیکر لگانے کے بغیر ووٹ کاسٹ کیا جو کہ غیر قانونی عمل ہے ۔

حشمت غنی احمد زئی :

ڈاکٹر اشرف غنی کے بھائی حشمت غنی احمد زئی کا کہنا ہے کہ انتخابی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے وہ اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرسکے، ان کا کہنا ہے کہ وہ صبح کابل کے حبیبیہ ہائی اسکول کے پولنگ اسٹیشن پہنچے لیکن بسیار تلاش کے باوجود ووٹر لسٹ میں ان کا نام نہیں ملا جس کے باعث وہ مایوس لوٹ گئے، انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ متعدد لوگوں کو ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حشمت غنی نے الیکشن کمیشن کے رہنماؤں کو بدانتظامی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان پر کرپشن کا الزام عائد کیا ۔

ہارون نجفی زادہ :

بی بی سی کے سابق مشہور رپورٹر ہارون نجفی زادہ جو ایران کے انٹرنیشنل ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ساتھ کام کرتے ہیں ، کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں عوام کی عدم دلچسپی سے واضح ہوتا ہے کہ ماضی کے انتخابات کے برعکس اب کی بار بہت کم تعداد میں ووٹر باہر نکلے ہیں ، انہوں نے لکھا ہے کہ کابل کے بیشتر پولنگ بوتھ خالی ہیں ۔

بلال سروری :

بی بی سی کے سابق رپورٹر بلال سروری نے ننگرہار کے رہائشیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلال آباد شہر کی عیدگاہ مسجد میں پولنگ اسٹیشن مسائل سے بھرا ہوا ہے ، بائیو میٹرک مشین کی خرابی اور ووٹر لسٹوں میں ووٹرز کے نام شامل نہ ہونے سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں، یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان جیسے مسائل بہت سارے علاقوں میں دیکھے گئے ہیں ۔

ذبیح سادات :

الیکشن کمیشن کے نائب ترجمان نے دوپہر بارہ بجے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں انتخابی مراکز بند پڑے ہیں یا ابھی تک وہاں انتخابی عملہ نہیں پہنچا ہے، انتخابی مراکز کی بندش کے علاوہ ایک اہم مسئلہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کئی علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو انتخابی مواد نہیں پہچایا گیا ہے ۔

جواد تیموری :

میڈیا رپورٹوں کے مطابق جعلی الیکشن میں عوام کی عدم شرکت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین تصویر لینے سے گریز کرتی ہیں جبکہ کابل انتظامیہ نے تصویر کو لازمی قرار دیا ہے، ہمارے لوگ اس معاملے میں بہت حساس ہیں، جھرلو الیکشن میں خواتین کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے، کابل شہر میں یک ٹیلی ویژن کے رپورٹر جواد تیموری کے مطابق کابل شہر کے اندر امانی ہائی اسکول پولنگ میں دوپہر بارہ بجے تک صرف 5 خواتین کے ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں ۔

صدیق اللہ افغان :

قندھار میں ایک رپورٹر اور سوشل میڈیا کارکن صدیق اللہ افغان کا کہنا ہے کہ اس صوبے میں الیکشن کمیشن کے عملے کی کارکردگی صفر ہے ، قندھار کے صوفی صاحب نسان ہائی اسکول میں دوپہر تک کسی نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا ہے، انتخابی عملہ غائب ہے، بائیو میٹرک مشین اور پرنٹر خراب ہے، ہر جگہ بدانتظامی کی وجہ سے لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں، ووٹر لسٹوں میں نام نہیں ہیں اور بائیو میٹرک عملہ سسٹم نہیں جانتا ہے ۔

محمد ذاکر تیموری :

غوربند کے رہائشی محمد ذاکر تیموری کا کہنا ہے کہ غوربند کے چار اضلاع ہیں لیکن آج صبح سے جنگ شروع ہے اور ان تمام علاقوں میں ووٹنگ کا عمل تعطل کا شکار ہے ۔

Related posts