اکتوبر 20, 2019

اشرف غنی کا خوفناک انجام

اشرف غنی کا خوفناک انجام

احمد مختار

روس پسند سابق افغان صدر ببرک کارمل کو روس سے بے انتہا محبت تھی۔ حتی کہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کا ‘روسی’ رکھا تھا۔ ببرک کارمل کے ٹھیک 40 سال بعد کابل حکومت ایک ایسے کٹھ پتلی کو دی گئی ہے، جو غلامی اور کاسہ لیسی میں کارمل سے بھی دو قدم آگے ہے۔ کٹھ پتلی صدر اشرف غنی کے پاس امریکی شہریت ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے چالیس سال امریکا میں بسر کیے ہیں۔ وہ بھی دیگر امریکی مہروں کی طرح امریکی جارحیت پسندوں کے ساتھ کابل لائے گئے ہیں۔ انہیں پہلے کرزئی کی حکومت میں وزارت خزانہ سونپی گئی، مگر ان کی بداخلاقی کی وجہ سے وہاں نبھاہ نہ ہو سکا۔ بعدازاں انہیں کابل یونیورسٹی بھیجا گیا۔ وہاں بھی نہ چل سکے۔ بالآخر 2009 میں کرزئی کے ساتھ الیکشن میں کھڑے ہوگئے، مگر کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ 2014 میں دوسری بار صدارتی الیکشن کے لیے امیدوار بنے، مگر اس بار شمالی اتحاد کے ڈاکٹر عبداللہ سے دست و گریبان ہوگئے۔ بالآخر امریکا کے سابق وزیر خارجہ جان کیری کی ثالثی سے مشترکہ کمپنی بنا لی اور افغانستان کی تمام اقدار نیلام کر دیں۔

اشرف غنی کے پانچ سالہ دور میں کابل فوج اور پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ ہے۔ جب کہ نیٹو کے ہاتھوں مارے جانے والے روزانہ اوسطا تین سو تک ہیں۔  افغان عوام کے قتل عام کے علاوہ بدامنی، کرپشن، جبری نقل مکانی، بیروزگاری، اخلاقی بے راہ روی اور انسانی حقوق کی پامالی اس پانچ سالہ دور کی مزید ‘کامیابیاں’ ہیں۔  اشرف غنی اور ببرک کارمل میں بہت سی مشترک قدریں ہیں، مگر افغان عوام کے قتل عام میں اشرف غنی ببرک کارمل سے کہیں آگے ہیں۔ موصوف نے حکومت حاصل کرنے کے بعد دوسرے ہی دن سکیورٹی معاہدے کے نام پر افغانستان امریکا کے حوالے کرنے کی دستاویز پر دستخط کر دیے۔ اس تحریری اجازت کی بنیاد پر امریکا دس سال تک افغان عوام کے خلاف ہر طرح کے جرائم کا ارتکا ب کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ اس معاہدے کے رُو سے ہی امریکا نے افغانستان میں مساجد اور مدارس پر بمباری کی۔ ہسپتال تباہ کر دیے۔ سیکڑوں اُن فوجیوں کو بھی مارا، جو امریکی فوج کی حفاظت کر رہے تھے۔ اشرف غنی کی ان تمام خدمات کی بنیاد پر وہ افغان عوام میں قابل نفرت شخص بن گئے۔ مزید یہ کہ خود امریکا بھی ان سے شدید نفرت کرنے لگا۔ صدر ٹرمپ ایک لمحے کے لیے بھی اشرف غنی کو ملاقات کا موقع دینے کو تیار نہیں ہیں۔

اشرف غنی اور اس کرپٹ انتظامیہ کے تمام ارکان امریکی ویزہ حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ امریکا ان کو اپنی سرزمین پر برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ببرک کارمل نے بھی لاکھوں افغانوں کو اپنے آقا کے ہاتھوں ہلاک کروایا، مگر روس نے اپنے اس وفادار مزدور کو اتنی بھی مہلت نہیں دی کہ اس کی آخری سانسیں سوویت سرزمین پر نکلیں۔ اسے حالتِ نزع میں ہی ملک بدر کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ افغانستان اور ازبکستان کی سرحد پر ‘حیرتان بندرگاہ’ کے شہر میں انتہائی حسرت و افسوس کے ساتھ مر گئے۔ اشرف غنی پر بھی یہ دن آنے والے ہیں۔ انہیں پوری طرح کٹھ پتلی ہونے کے باوجود اپنے قبلے وہائٹ ہاؤس سے دور رکھا گیا ہے۔ یہی حال افغانستان میں تمام کٹھ پتلی مزدورں کا ہے۔

Related posts