اکتوبر 20, 2019

الیکشن یا سلیکشن کی رسوائی کا تکرار

الیکشن یا سلیکشن کی رسوائی کا تکرار

ہفتہ وار تبصرہ

حالیہ دنوں میں کابل اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں مزدور رژیم کی جانب سے ایک بار پھر نام نہاد الیکشن عمل زوروں پر ہے اور میڈیا نے بھی اپنی تمام تر توجہ اسی جانب مرکوز کر رکھی ہے۔اس حال میں کہ گذشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات کی دھاندلی، بدعنوانی جعلی  اور مختلف النوع خلاف ورزیاں  عوام کے اذہان میں موجود ہیں  اور الیکشن کمیشن کے سابقہ تمام اعضاء دھاندلی کے الزام میں جیل  میں پڑے ہوئے ہیں۔ مزدور رژیم ایک مرتبہ پھر شدومد سے عوام کو شفاف الیکشن کے وعدے دے رہے ہیں اور اس بات کا پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ افغانستان کی قسمت اسی الیکشن کے ذریعے منتخب اوربدل جائیگی۔

اگر ماضی میں صرف امارت اسلامیہ استعمار کے زیرسایہ الیکشن کی مخالفت کرتی رہی اور اس عمل کو جارحیت اور جنگ جاری رکھنے کا سبب اور ملت کے آنکھوں میں خاک پاشی سمجھتی،اب مسلسل تجربات کے بعد ملک کے مختلف طبقات، عالمی تنظمیں اور یہاں تک کہ مزدور رژیم کے چند اعلی حکام بھی اس بات پر اعتراف کررہا ہے کہ ان شرائط میں الیکشن کا انعقاد صرف وقت کا ضیاع ہے اورعلاوہ ازیں کہ اقتدار کے چند لالچی اس طریقے سے اپنی آرزو پوری کریں،اس کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں ہے۔

مذکورہ قول کو ثابت کرنے کے لیے دلائل موجود ہیں، ایک قوی اور مشہود دلائل میں سے 2014ء کے انتخابات ہیں۔ عالمی برادری اور اہل وطن نے مشاہدہ کرلیا کہ دو مرتبہ لاکھوں ڈالر خرچ ہونے بعد الیکشن کا عمل  انجام ہوا،مگر آخر میں عوامی رائے اور الیکشن کا تمام عمل باطل اعلان ہوا۔ صدارتی محل کے حکمران امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جانب سے امریکی سفارت خانے میں منتخب کیے گئے۔

اگر موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے، تو ماضی کی نسبت الیکشن کے لیے شرائط بہت خراب ہے، عوام مزدور رژیم، جھوٹے امیدواروں اور الیکشن کے تمام دھوکہ پر مبنی عمل سے تنگ آچکے ہیں۔ عوام الیکشن میں حصہ نہیں لینا چاہتا۔ دوسری جانب اشرف غنی اور عبداللہ کی قیادت میں سرکاری مشینری کوشش کررہی ہے کہ الیکشن عمل منظم دھاندلی کے ذریعے اپنےاپنے مفاد میں استعمال کریں۔ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ آنے والے انتخابات ماضی کے الیکشن سے زیادہ متنازع، رسوا اور دھاندلی سے بھرے ہوئے ہونگے اور ایک بار پھر بات اس حد تک پہنچ جائیگی کہ یہ تمام عمل باطل اور استعمار کی ثالثی سے حکومت کی کرسی امیدواروں میں تقسیم کی جائیگی۔

امارت اسلامیہ استعمار کے زیر سایہ الیکشن کروانے کو مردود سمجھتی ہے۔ اہل وطن، بااثرشخصیات اورتمام  سیاسی فریق کو بتلاتی ہے کہ اس جھوٹے عمل سے بائیکاٹ کریں۔ اس لیے کہ اس جھوٹے عمل سے ملک کا بحران مزید خراب اور پیچیدہ ہونے کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں دیتا۔ ہمیں امید ہے کہ بااحساس اہل وطن،جنہوں نے ماضی میں اس طرح عمل سے بائیکاٹ کیا تھا،اس مرتبہ پھر ملک بھر میں بائیکاٹ کرتے ہوئے دشمنوں کی امیدوں پر پانی پھیر دے۔

Related posts