دسمبر 06, 2019

جنگی جرائم اگست2019

جنگی جرائم اگست2019

سید سعید

یکم اگست کو امریکی نے صوبہ بادغیس کے ضلع جوند کے علاقے قالی گردک میں شادی کی تقریب پر بمباری کی۔ جس میں پانچ شہری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی دن صوبہ فراہ کے ضلع بکواہ کے علاقے کاریز میلے میں ڈرون حملے میں ایک کار تباہ ہوگئی اور دو شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ 3اگست کو امریکی اور افغان فوج نے صوبہ اروزگان کے ضلع دہراود کے علاقے چتو میں چھاپہ مارا۔ گھروں کی تلاشی لی اور پھر اس علاقے پر بمباری کر دی، جس سے چھ شہری شہید ہوگئے۔ اسی دن مشترکہ دشمن نے صوبہ غزنی کے ضلع زنخان کے گاؤں لولہ پر چھاپہ مارا۔ گھروں اور مسجد کے دروازوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا اور دو شہریوں کو شہید کر دیا۔ جب کہ افغان فوج نے صوبہ غزنی کے ضلع خوگیانی کے عام کلینک اور چہار کلا گاؤں پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے بعد علاقے کو بمباری سے نشانہ بنایا گیا، جس سے کلینک کو نقصان پہنچا اور چھ بچے اور خواتین زخمی ہوگئیں۔

4اگست کو صوبہ غزنی کے ضلع گیرو کے گاؤں ادریس خیل کے قریب امریکی ڈرون حملے میں چار شہری شہید ہوگئے۔ 5اگست کو صوبہ لغمان کے ضلع علی نگار کی وادی نورلام میں افغان فوج نے ایک مکان پر چھاپہ مارا اور تین شہریوں کو شہید کر دیا۔ اگلے دن صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے مہاجر میں پولیس کمانڈر بصیرک نے لوگوں کے روایتی اجتماع پر حملہ کیا۔ عوام کی گاڑیاں جلا دیں اور پانچ شہریوں کو شہید کر دیا گیا۔ اسی دن صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے نہر سراج دیخ چال میں دشمن کے چھاپے میں دو عام شہری شہید ہو گئے اور چھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ جب کہ 6اگست کو صوبہ غزنی کے ضلع گیلان کے علاقے خیرالدین چیمبر میں ڈرون حملے میں موٹرسائیکل سوار دو شہریوں کو شہید کر دیا گیا۔ اس ضلع کے نیو کاریز کے علاقے میں عام شہریوں کی گاڑی پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں سوار صوبہ خوست کے پانچ شہری شہید ہو گئے۔ اسی دن صوبہ فاریاب کے ضلع پشتون کوٹ کے علاقے موقانی میں ڈرون حملے میں چار خواتین اور ایک بچہ شہید ہوگیا۔ جب کہ صوبہ پکتیکا کے ضلع سرحوضی کے گاؤں مارزکو میں لوگوں کے گھروں اور گاؤں کی مسجد کے دروازے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیے، جس میں دو عام شہری شہید ہوگئے۔ اسی دن صوبہ فاریاب کے ضلع قیصار کے مرکز میں پولیس نے ایک شخص کو شہید اور ایک خاتون کو زخمی کر دیا۔ جب کہ صوبہ فراہ کے ضلع فراه رود میں پولیس کی فائرنگ سے چار شہری شہید ہوگئے۔

11اگست کو امریکی اور افغان فوج نے صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت کے علاقے کولالگو میں چھاپہ مارا اور گیارہ شہریوں کو شہیدکر دیا۔ جن میں کالج کے اساتذہ، طلباء اور عام شہری شامل تھے۔ انہیں اپنے گھروں سے نکال کر ان پر اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں نے اس کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو کڑی سزا دی جائے۔ صوبائی حکام نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ یہ کہا کہ یہ آپریشن ان کی معلومات کے بغیر کیا گیا ہے۔ جب کہ 13اگست کو صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے مرکز میں افغان فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت تین افراد شہید اور تین بچے زخمی ہوگئے۔ علاقہ مکینوں نے لاشوں سمیت گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا، جس پر پولیس نے گولیاں چلا دیں، جس سے مزید پانچ مظاہرین شہید اور زخمی ہوگئے۔اگلے دن 14اگست کو صوبہ فاریاب کے مرکزی علاقے دولت آباد میں افغان فوج کی فارئرنگ سے چار خواتین اور بچے شہید اور زخمی ہوگئے۔

15اگست کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب میں قابض فوج کی بمباری سے 6 شہری زخمی ہوگئے۔ صوبہ ہلمند کے ضلع کجکی کے علاقے اذان میں امریکی ڈرون حملے میں ایک کار میں سوار تین شہری شہید ہوگئے۔ اگلے دن 16اگست کو صوبہ غزنی کے ضلع گیلان کے علاقے حضرت شاہ بازار میں امریکی فوج نے عام مسافر گاڑی پر ڈرون حملہ کیا، جس میں سوار خواتین اور بچوں سمیت نو شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ 18اگست کو صوبہ کابل کے ضلع موسہی کے گاؤں شنکی کے قریب امریکی ڈرون حملے میں دو عام شہری شہید ہوگئے۔ اسی طرح صوبہ ہلمند کے ضلع کجکی کے علاقے بند میں امریکا نے ایک گاڑی پر ڈرون حملہ کیا، جس میں دو عام شہری (باپ اور بیٹا) شہید ہوگئے۔ جب کہ صوبہ زابل کے ضلع شہر صفا کے علاقے حاجی عبدالعزیز پمپ کے قریب امریکی اور افغان فوج کے ایک چھاپے میں چار شہری شہید اور چار زخمی ہو گئے۔ جب کہ افغان فوج نے صوبہ فاریاب کے ضلع خیبر کے مضافات میں واقع جامع مسجد اور مدرسے ‘ابوذرغفاری رضی اللہ’ پر بمباری کی۔ جس سے مسجد اور مدرسے کے کمروں کو نقصان پہنچا۔ کتابیں اور دیگر تعلیمی سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ اسی طرح صوبہ اروزگان کے ضلع چہارچینو میں امریکی اور افغان فوج کے چھاپے میں تین شہری شہید اور تین زخمی ہو گئے۔

19اگست کو صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب دادوخیل کے علاقے میں قومی سلامتی کی اسپیشل فوج نے دو شہریوں کو دھماکہ خیزمواد سے تباہ کر دیا۔ طلوع نیوز نے اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق شہدا کے اہل خانہ نے بتایا کہ این ڈی ایس کے اہل کاروں نے آدھی رات کو ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور گھر میں گھس کر دو افراد ‘محمد امین، جو حال ہی میں سعودی عرب سے آئے تھے اور 16 سالہ بیٹے’ کو گھر کے احاطے میں نصب بم پر بٹھا کر اڑایا۔ محمد امین کے والد محمد رحیم نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے بیٹے اور پوتے نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ اس واقعے کی تصدیق لوگر کے پولیس چیف نے بھی کی۔ ان کے مطابق تحقیقات کے لیے ایک وفد مقرر کیا  گیا ہے اور تحقیقات کے بعد اس واقعے کی تمام تفصیلات میڈیا کو بتائیں گے۔ اسی دن افغان فوج نے صوبہ فاریاب کے ضلع چہل گزی کے علاقے ہزار قلعہ پر بمباری کی، جس سے ایک مکان تباہ ہوگیا اور خواتین اور بچوں سمیت دس شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔ جب کہ صوبہ لوگر کے صدر مقام دشتک میں مشترکہ فوج کے چھاپے میں دو شہری شہید ہوگئے۔

20اگست کو صوبہ اروزگان کے ضلع چہارچینو کے علاقے ہوشی میں اجرتی فوج کی بمباری سے 8 شہری شہید ہوگئے۔ اگلے دن صوبہ قندھار کے ضلع میوند کے علاقے بندتیمور میں قابض فوج کی بمباری سے دو عام شہری شہید ہو گئے۔ جب کہ صوبہ اروزگان کے مرکز ترین کوٹ کے علاقے خانقی میں امریکی اور داخلی فوج کے چھاپے میں 5 شہری شہید اور ایک مسجد کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا۔ اسی طرح صوبہ لوگر کے ضلع اذری کے علاقے قاسم خیل پر قابض فوج کے چھاپے میں خواتین اور بچوں سمیت 7 شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

22اگست کو افغان فوج نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع چک کے گاؤں علی ہمت میں شادی کی تقریب پر ڈی توپ کے گولے داغے۔ جس سے ایک طالب علم ‘قدرت اللہ’ موقع پر شہید، جب کہ چھ خواتین اور بچے زخمی ہو گئے۔ صوبہ نیمروز کے ضلع خاشرود کے قلعہ نو علاقے میں امریکی اور افغان فوج کی مشترکہ کارروائی میں دو شہری شہید ہوگئے۔ اگلے دن صوبہ لغمان کے ضلع علی نگار کے علاقے سنگر میں سفاک دشمن کے چھاپے کے دوران تین شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ صوبہ ہلمند کے ضلع نوزاد کے علاقے انگور میں ڈرون حملے میں دو شہری شہید اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔ جب کہ 24اگست کو صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے قلعہ گز کاریز میں امریکی فوج نے ایک شہری گاڑی ڈرون پر حملہ کیا، جس میں سوار 3 شہری شہید ہوگئے۔ اسی طرح صوبہ کابل کے ضلع موسہی کے علاقے میاں خیل اور شادخانہ پر قابض فوج کی چھاپہ مار کارروائی میں محلے کی مسجد کے پیش امام اور دو کسان شہید ہوگئے۔ اگلے دن 25اگست کو قابض فوج نے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کے علاقے رخہ پر چھاپہ مارا۔ ایک خاتون اور تین افراد کو شہید کر دیا گیا۔

26اگست کو قابض فوج نے لوگر کے ضلع پل عالم میں الحاج سدو خان ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے ایک ڈاکٹر ‘خیال محمد عادل’ کو شہید کر دیا گیا۔ اگلے دن افغان فوج نے صوبہ بدخشان کے ضلع جرم کے علاقے اب راغک میں رہائشی مقام پر بمباری کی، جس سے دو مکانات کو نقصان پہنچا اور مقامی لوگوں کو بہت بڑا مالی نقصان پہنچا۔ صوبہ زابل کے ضلع ارغنداب کے علاقے سرخ سنگھ میں افغان فوج کی فائرنگ سے دو بچے شہید اور ایک خاتون اور ایک معصوم بچہ زخمی ہوگئے۔ جب کہ 28اگست کو صوبہ خوست کے مرکز کے قریب مرتضی خیل کے علاقے میں فوج نے ایک عالمِ دین ‘مولوی فضل الرحمن’ کو شہید کر دیا۔ اسی دن صوبہ لغمان کے ضلع علی شنگ کے علاقے شمکت میں سفاک دشمن کے چھاپے میں پانچ شہری شہید ہو گئے۔ شمکت کلینک کی پرانی عمارت اور نئی عمارت کو تباہ اور طبی سامان کو آگ لگا دی گئی۔ جب کہ صوبہ کابل کے ضلع پغمان کے علاقےبرہ ارغندی میں سفاک دشمن نے چھاپے میں دو عام شہریوں کو شہید کر دیا اور پانچ دیہاتیوں کو حراست میں لے لیا۔ اسی طرح صوبہ غزنی کے ضلع ناوا کے گاؤں ملک الدین میں قابض فوج نے چھاپے کے دوران چار دیہاتیوں کو شہید اور چار دیگر شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

29اگست کو صوبہ بدخشان کے ضلع زیباک کے علاقے تیزاب میں فوج کی فائرنگ سے ایک شہری شہید اور متعدد مویشی ہلاک ہوگئے۔ اگلے دن اجرتی فوج نے صوبہ بدخشان کے ضلع جرم کے علاقے فرغامیر میں متعدد شہری مکانات کو نذر آتش کر کے لوگوں کو بہت بڑا نقصان پہنچایا۔ صوبہ فاریاب کے ضلع المار کے علاقے بخاری قلعہ میں سفاک دشمن کی بمباری سے ایک شہری زخمی اور دو مکانات تباہ ہو گئے۔ نیز اسی ضلع کے علاقے خدائے مت میں افغان فوج کی فائرنگ سے ایک شہری شہید ہوگیا۔ ضلع گریزوان کے علاقے دو نقلعہ میں اجرتی فوج کی بمباری سے دو بچے اور ایک معمر شخص زخمی ہوگئے۔ جب کہ قابض فوج نے صوبہ غزنی کے ضلع گیلان کے بازار جہانگیر پر چھاپہ مارا۔ تین دکان داروں کو شہید کر دیا۔ بائیس دکانوں اور ایک ہوٹل پر بمباری کی اور لوگوں کی متعدد گاڑیاں جلا دیں۔ مشترکہ فوج نے صوبہ غزنی کے ضلع گیرو میں موسی خیل، عبداللہ قلعہ، باتورکلی، پمپ اور بازار پر چھاپے مارے۔ ایک مسجد اور ایک شہری کو شہید کر دیا گیا۔ متعدد دکانیں دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیں اور متعدد گاڑیاں جلا دیں۔ اسی طرح صوبہ زابل کے علاقے شاجوئی کے گاؤں موسی زئی غونڈی پر قابض فوج نے چھاپہ مارا۔ جس میں 2 شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ صوبہ بلخ کے ضلع نہرشاہی کے علاقے شہرک میں قابض فوج نے چھاپے کے دوران متعدد لوگوں کے گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا۔ مقامی لوگوں پر تشدد کیا اور تین شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

31اگست کو امریکی اور افغان فوج نے صوبہ بدخشاں کے ضلع بہارک اور وردج کے درمیان تین دیہاتوں میں چالیس مکانات کو جلا دیا۔ اسی طرح امریکی فوج نے صوبہ غزنی کے ضلع ناوہ کے بازار پر چھاپہ مارا۔ جس میں 100 دکانیں، 2 کلینک، 4 ہوٹل، 3 آئل پمپ اور عام شہریوں کی کثیر تعداد میں گاڑیاں جلا دیں۔

ذرائع: ‘بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس۔’

 

Related posts