اکتوبر 20, 2019

موسیٰ قلعہ: دشمن کی سربریت کی ایک مثال

موسیٰ قلعہ: دشمن کی سربریت کی ایک مثال

آج کی بات

قابض امریکی فوج اور ان کے غلاموں نے گذشتہ رات صوبہ ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے کونجک اور شواروز کے علاقوں پر چھاپہ مارنے کے بعد فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید اور زخمی ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، عینی شاہدین کے مطابق دشمن نے شادی کی ایک تقریب پر بمباری کی جس سے تین گاڑیاں اور چھ مکانات تباہ ہو گئے، ابتدائی معلومات کے مطابق دشمن کی اس ظالمانہ کارروائی میں 40 شہری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ مقامی لوگ ابھی تک تباہ شدہ مکانات کے ملبے سے خواتین اور بچوں کی لاشوں کو نکالنے تلاش کر رہے ہیں ۔

سفاک دشمن نے ایک بار پھر عام شہریوں ، مساجد ، مدارس ، ہسپتالوں ، اسکولوں اور مارکیٹوں پر حملوں اور چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے ، ملک کے مختلف حصوں میں آئے روز دشمن کے اسی طرح کے حملوں میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہوتے ہیں اور ایک منصوبے کے مطابق ان کے املاک اور عوامی مقامات کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کیا جاتا ہے ۔

اسی طرح گذشتہ رات صوبہ غزنی کے ضلع شلگر کے کمال خیل بازار اور خدو خیل گاؤں پر بھی مشترکہ دشمن نے چھاپے کے دوران 80 دکانوں کو آگ لگا دی اور مقامی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور چند افراد کو گرفتار کیا گیا ۔

ایک اور حملے میں صوبہ قندھار کے ضلع ارغستان کے علاقے زکری اور تحصیلدار قلعہ میں دشمن نے دس شہریوں کو شہید کر دیا ۔

صوبہ بدخشاں کے ضلع وردوج کے برابرہ کے علاقے میں حملہ آوروں کی بمباری میں 12 شہری شہید ہوگئے اور سترب گاؤں میں لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ۔

سفاک دشمن نے صوبہ پروان کے دارالحکومت کے قریب خلازئی کے علاقے میں عام شہریوں کے گھروں پر چھاپے کے دوران چھ شہریوں کو شہید کر دیا اور ان کی گاڑیاں جلا دیں ۔

اس کے علاوہ تین دن قبل حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے قاتلوں نے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی کے علاقے وزیر تور میں کام کرنے والے مزدوروں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 40 افراد شہید ہو گئے ۔

امارت اسلامیہ نے سویلین آبادی اور عوامی مقامات پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی جانب سے نہتے عوام پر جاری ظلم و سربریت کے خلاف آواز اٹھائے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ۔

دشمن مجاہدین سے آمنے سامنے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لئے مظلوم قوم پر ظلم و سربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے جو بزدلی کی انتہا ہے، دشمن یہ بات زہن نشین کرے کہ طاقت کے استعمال اور ظلم سے عوام کا عزم کمزور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی آزادی کا جذبہ ختم کیا جا سکتا ہے، گذشتہ دو دہائیوں میں ثابت ہوا کہ امریکی جارحیت کے خلاف جہاد دراصل عوامی مزاحمت ہے اور عوامی مزاحمت کو ختم کرنا محض ایک خواب اور خیال ہے اور اگر کسی نے یہ سوچا ہے تو یہ اس کی حماقت کی انتہا ہے ۔

امارت اسلامیہ نے ہمیشہ مظلوم عوام پر قابض امریکی فوج اور افغان کٹھ پتلی انتظامیہ کے ظلم کا بدلہ لیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مجاہد عوام کے حقوق کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا اور اسلام اور وطن کے دشمنوں سے ضرور انتقام لیا جائے گا ۔ ان شاء اللہ

Related posts