اکتوبر 20, 2019

جنگی جرائم جولائی2019

جنگی جرائم جولائی2019

سیدسعید

یکم جولائی 2019 کو صوبہ فراہ کے دارالحکومت کے قریب دہیک نامی علاقے میں امریکا کے ڈرون حملے میں چار شہری شہید ہوگئے۔ 2جولائی کو سفاک دشمن نے صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغا کے شہر زرغون میں چھاپے کے دوران دو عام شہریوں کو شہید اور عام لوگوں کو بہت بڑا مالی نقصان پہنچایا۔ حملہ آوروں نے ضلع چرخ کے ابجوش گاؤں پر بھی چھاپہ مارا۔ وہاں گھروں کے دروازے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیے۔ تین عام دیہاتیوں کو شہید اور چھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ 3جولائی کو  حملہ آوروں اور افغان فوجیوں نے صوبہ اروزگان کے ضلع دہراود کے گاری بازار کے علاقے پر چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران مقامی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور 93 دکانوں کو نذر آتش کر دیا۔ 5جولائی کو صوبہ پکتیا کے ضلع چمکنی کے علاقے جگ اور گوڑ میں فوج کی فائرنگ سے دو بچے شہید اور تین زخمی ہوگئے۔ اسی دن صوبہ ہرات کے ضلع شين ڈنڈ کے علاقے کوک میں حملہ آوروں کے دو مختلف ڈرون حملوں میں دو عام شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ قابض اور اجرتی فوج نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع چک میں گردن مسجد کے گاؤں پر چھاپہ مارا اور پانچ شہریوں کو شہید کر دیا۔

6جولائی کو صوبہ بادغیس کے ضلع غورمارچ کے علاقے غلیم لاغ پر امریکا اور افغان فوج کے چھاپے کے دوران دو عام شہری شہید ہوگئے۔ اسی دن غزنی دارالحکومت کے علاقے سپندہ میں ضلع شلگر کے دو ڈاکٹر ‘ڈاکٹر گل احمد اور ڈاکٹر موسیٰ خان’ ڈرون حملے میں شہید ہوگئے۔ اگلے دن غزنی کے دارالحکومت کے قریب پیرزادہ گاؤں کے پیش امام ‘مولوی احمد’ اور محلے کے ایک معمر شخص امریکی ڈرون حملے میں شہید ہوگئے۔ اسی طرح ضلع شلگر کے علاقے گیرو گاؤں کے قریب حملہ آوروں کے ڈرون حملے میں شہری عبدالہادی اور ان کی دو بیٹیاں شہید ہوگئیں۔ جب کہ 8جولائی کو حملہ آوروں نے صوبہ بغلان کے ضلع ڈنڈ شہاب الدین کے علاقے کتب خیل میں ایک مکان پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک خاندان کے سات افراد شہید ہوگئے۔ اس دل خراش واقعے کے خلاف مقامی لوگوں نے لاشوں سمیت دارالحکومت پل خمری- مزار شریف مرکزی شاہراہ بند کر کے شدید احتجاج کیا۔ اسی طرح 8جولائی کو صوبہ ہرات کے ضلع شين ڈنڈ کے علاقے سنگچال کاریز پر حملہ آوروں کے ایک ڈرون حملے میں دو عام شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ قابض فوج اور افغان فوج نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع چک کے علاقے تنگی سیدان میں ایک ہسپتال پر چھاپہ مارا۔ دو ڈاکٹروں سمیت چار افراد کو شہید کر دیا۔ ایک ماہر ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا اور ہسپتال کے تمام طبی آلات اور سامان جلا دیا۔

10جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے گاؤں محب خیل میں اجرتی فوج کی فائرنگ سے ایک خاندان کے 6 افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ جب کہ امریکی اور افغان فوج نے صوبہ فراہ کے ضلع بکوا میں ایک ہسپتال پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود تمام طبی سامان اور ایمبولینس کو نذر آتش کر دیا۔ قریبی دکانوں سے قیمتی سامان لوٹ لیا۔  اسی طرح صوبہ غزنی کے ضلع شلگر کے گاؤں باگو میں ایک مسافر گاڑی پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں سوار تین شہری موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ اسی طرح گاؤں اسماعیل میں بھی ایک ڈرون حملے میں ایک نوعمر نوجوان شہید ہوگیا۔ اگلے دن صوبہ اروزگان کے ضلع چورہ کے قلعہ راغ کے علاقے میں فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے دو دیہاتی شہید ہوگئے۔ جب کہ  12جولائی کو صوبہ ہرات کے ضلع پشتون زرغون کے علاقے کشمیرآباد میں سنگوری ملیشیا کے اہل کاروں کی فائرنگ سے 6 شہری زخمی ہوگئے۔ اسی دن صوبہ فراہ کے ضلع گلستان کے سرخ دیوال بازار کے علاقے میں حملہ آوروں نے ایک مسافر گاڑی پر ڈرون حملہ کیا، جس میں سوار چار شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ امریکی اور افغان فوج نے صوبہ فراہ کے ضلع بالابلوک کے علاقے سیاہ جنگلات میں چھاپے کے دوران متعدد گھروں سے قیمتی سامان لوٹنے کے بعد چھ خواتین اور بچوں کو شہید اور زخمی کر دیا۔

13جولائی کو صوبہ پکتیا کے ضلع احمدخیل کے علاقے تنگی خولی میں افغان فوجیوں کی فائرنگ سے دو افراد شہید اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔ سفاک دشمن نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع جغتو کے لاغریو، کمال خیل، چوپان اور بلندخیل دیہاتوں پر چھاپہ مارا۔ گھروں کے دروازے دھماکہ خیز مواد سے توڑ دیے۔ کئی مویشی ہلاک ہو گئے اور چار بھائیوں سمیت سات شہریوں کو شہید کر دیا گیا۔ اگلے دن صوبہ بغلان کے ضلع گزرگاہ نور کے علاقے دھن جراب میں لیویز اہل کاروں کی فائرنگ سے دو عام شہری شہید ہو گئے۔ اسی طرح قابض فوج نے صوبہ دائی کنڈی کے ضلع گیزاب کے علاقے خلچ میں خواتین اور بچوں سمیت 23 شہریوں کو شہید کر دیا۔ اگلے دن صوبہ لوگر کے ضلع محمدآغی کے علاقے زرغون شہر میں افغان فوج نے شہید اختر محمد مڈل اسکول کے ایک طالب علم ‘ہمت اللہ’ کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد فوج کی فائرنگ سے مزید دو عام شہری شہید اور نو زخمی ہوگئے۔ صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب میں افغان فوج کی اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں دو شہری شہید ہوگئے۔ امریکی طیاروں نے صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب کمال خیل کے علاقے میں ایک مسجد پر بمباری کی۔ جہاں لوگ قرآن پاک کی تفسیر سننے کے لیے بیٹھے تھے۔ اس حملے میں کمال خیل کی مسجد مکمل طور پر شہید اور اس میں موجود 24 افراد شہید اور دس زخمی ہوگئے۔ اسی دن صوبہ جوزجان کے ضلع قرقین میں لیویز اہل کاروں نے ایک جید عالم دین ‘مولوی اللہ داد سخاوی’ کو شہید کر دیا۔

16جولائی کو صوبہ بادغیس کے ضلع ابکمری میں قابض فوج کے فضائی حملے میں پانچ شہری شہید اور سات زخمی ہوگئے۔ اگلے دن صوبہ سمنگان کے ضلع دروی دواب کے علاقے راوی میں پولیس اہل کاروں نے ایک طالب علم اور ایک کسان کو شہید کر دیا۔ ایک دن بعد اس صوبے کے ضلع تگاب کے گاؤں حاجیان میں پولیس کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک خاتون شہید ہوگئی۔ صوبہ ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے علاقے میاں دشت میں قابض فوج نے عام شہریوں کے مجمعے پر ڈرون حملہ کیا۔ جس میں 17 شہری شہید ہوگئے۔ ان میں اکثر ایسے لوگ تھے، جو دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور محنت مزدوری کے لیے یہاں آئے تھے۔ صوبہ ہلمند کے ضلع کجکی کے علاقے گندم ریز میں ڈرون حملے میں 8 شہری شہید ہوگئے، جو میدان وردگ سے یہاں آئے تھے۔

18 جولائی کو کابل کے ضلع موسہی کے گاؤں شتک پر افغان فوج کے چھاپے کے دوران دو عام شہری شہید ہوگئے، جب کہ نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی دن صوبہ ننگرہار کے ضلع دسر خرود کے علاقے کاکو خیل اور کڑسو میں افغان فوج کے چھاپے میں تین شہری شہید ہوگئے۔ اگلے دن صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے علاقے اکازو میں امریکی فوج کی بمباری میں دو خواتین اور تین بچے شہید ہوگئے۔ اسی طرح اسی ضلع کے علاقے خواجہ میں ایک گھر پر ڈرون حملے میں ایک خاتون شہید اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔

20جولائی کو صوبہ فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے کوہ صیاد میں افغان فوجیوں نے ایک شخص کے گھر کو آگ لگا دی، جس میں ایک شخص شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ اسی دن صوبہ ننگرہار کے ضلع سرک خرود کے علاقے چمتلی میں پولیس کی فائرنگ سے دو بھائی شہید ہوگئے۔ اگلے دن لوگر کے ضلع برکی برک کے علاقے دشت خاک میں قابض فوج نے خانہ بدوشوں کے ایک خیمے پر بمباری کی، جس میں پانچ خواتین اور چار بچے شہید اور چھ افراد زخمی ہوگئے۔ صوبہ بلخ کے ضلع چہاربولک کے علاقے خان آباد میں پولیس اہل کاروں کی فائرنگ سے دو خواتین شہید ہوگئیں۔ جب کہ 23جولائی کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے علاقے جوئی گنج میں قابض فوج کے فضائی حملے میں دو مکانات کو نقصان پہنچا اور ایک شہری ‘استاد عبدالوہاب’ شہید اور دو بچے زخمی ہوگئے۔ صوبہ بلخ کے ضلع چمتال کے علاقے آسیا خان پر امریکی فوج کے ڈرون حملے میں ایک خاتون اور ایک شخص شہید اور ان کا مکان تباہ ہوگیا۔

25جولائی کو سفاک دشمن نے صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ کے دیہاتوں کنڈہ لغو، لغرجو، مروردار اور لوگر پر چھاپہ مارا۔ دو مساجد اور تین عام شہریوں کو شہید کر دیا۔ اگلے دن امریکی اور افغان فوج نے صوبہ فراہ کے ضلع پشتکوہ کے کاریزک کے علاقے میں متعدد مکانات، ایک مدرسے اور ایک مسجد کو شہید کر دیا۔ جب کہ 27جولائی کو صوبہ بادغیس کے ضلع جوند کے علاقے ریگی میں حملہ آوروں نے عام شہریوں کی گاڑی پر ڈرون حملہ کیا، جس سے گاڑی میں سوار چار شہری شہید ہو گئے۔ اگلے دن صوبہ پروان کے ضلع سیاگرد کے علاقوں قمچاق اور دشت میں افغان فوج نے مقامی گھروں، مساجد اور مدرسوں پر چھاپے مارے۔ کچھ مکانات، مدارس اور مساجد کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ 17 نہتے شہریوں کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کر دیا۔ جب کہ 30 شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ صوبہ فراہ کے ضلع بالابلوک میں افغان فوج کی فائرنگ سے تین بچے شہید اور دو زخمی ہو گئے۔

29جولائی کو صوبہ فراہ کے ضلع بالابلوک کے علاقے پیو میں افغان فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے تین شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اسی طرح قابض فوج نے ایک مسافر گاڑی پر ڈرون حملہ کیا، جس میں تین شہری شہید ہو گئے۔ اسی دن صوبہ اروزگان کے ضلع دہراود کے علاقوں زرتالی اور شینغولی میں سفاک دشمن کے فضائی حملے میں تین شہری شہید ہو گئے۔ اگلے دن امریکی اور افغان فوج نے صوبہ ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے گندمک پر چھاپے کے دوران چھ شہریوں کو شہید اور دو کو زخمی کر دیا۔ جب کہ ایک ہائی اسکول اور تین مکانات کو تباہ کر دیا۔ اسی دن صوبہ فاریاب کے ضلع گرزیوان میں دون قلعہ کے علاقے میں افغان فوج کی فائرنگ سے 6 خواتین اور بچے شہید اور زخمی ہو گئے۔ صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے نہرسراج یونیورسٹی میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں 6 شہری شہید ہو گئے۔

ذرائع: بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال، لراوبر، نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس۔

Related posts