اکتوبر 20, 2019

ایک جہادی خاندان کی دل چسپ رُوداد

ایک جہادی خاندان کی دل چسپ رُوداد

 

عبد الستار سعید

افغانستان میں غازیوں اور تاریخی شخصیات کے علاوہ بہت سے ایسے خاندان بھی موجود ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کے دفاع اور آزادی کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ ایسا ہی ایک خاندان مرحوم حاجی جہان آکا کی فیملی ہے، جس نے سوویت یونین کی لشکر کشی سے لے کر امریکی جارحیت تک نسل در نسل جہاد کا محاذ آباد رکھا ہے۔ خلوص نیت کے ساتھ مقدس اسلامی شعائر کا دفاع کیا ہے۔ اس خاندان میں ایک بہادر جوان کمانڈر عزیز خان شہید ہے، یہاں اس کے کارناموں کا تذکرہ ضروری ہے۔ اس سے پہلے اس جہادی خاندان کے ایک اور مشہور کمانڈر ملا مدد خان کے بارے میں مختصر معلومات شیئر کریں گے، تاکہ اس خاندان کے پس منظر سے مکمل آگاہی ملے۔

خاندانِ ملا مدد خان اور سرخگان محاذ:

مرحوم حاجی جہان آکا کا تعقلق پشتون قوم کے ترکی قبیلہ کی ذیلی شاخ بدین خیل سے ہے۔ وہ کمیونسٹ انقلاب سے قبل افغانستان کے جنوبی صوبوں خصوصا زابل میں خانہ بدوشوں کی طرح رہتے تھے۔ حاجی جہان آکا ایک دین دوست اور بہادر شخص تھے۔ ان کے 8 بیٹے تھے، جن کے نام بالترتیب حاجی داروخان، شہید ملا مدد خان، شہید عزیز خان، شہید حبیب خان، امیر خان حقانی، عظیم خان، محبوب خان اور عبداللہ ہیں۔ حاجی جہاں آکا کے دوسرے بیٹے ملا مددخان کو اللہ نے سیرت اور صورت کے حسن سے نوازا تھا۔ جہان آکا نے اپنے اس بیٹے کو حصول علم کے لیے وقف کر دیا، جو کمیونسٹ انقلاب سے قبل صوبہ زابل کے مختلف دیہی مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ جب کمیونسٹوں کا دور شروع ہوا اور افغانستان میں روسی نظام مسلط ہوا، تب ملا مدد خان کی عمر بیس سال تھی۔ وہ تب زابل کے علاقے جلدک میں شیخ ملا اختیار اخند کے مدرسے میں زیرتعلیم تھے۔

کمیونسٹ یلغار میں جنوبی افغانستان میں جہاد کے بانی ملا موسی کلیم اخوند نے صوبہ زابل میں جہادی مہم کا آغاز کیا۔ جس نے مختلف علاقوں میں کمیونسٹوں پر حملے کیے۔ طالب علم ملا مدد خان نے ملا موسی کلیم کے ساتھ مل کر جہادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ چوں کہ تب اسلحے کی بھی کمی تھی، جب مجاہدین نے زابل کے ضلع شہرصفا پر حملہ کیا تو ملا مدد خان نے چاقو کے ساتھ حصہ لیا۔ ضلع کی فتح کے دوران دو مسلح فوجیوں پر چاقو سے وار کر کے ان سے ہتھیار حاصل کیے۔

اس کارروائی کے بعد ملا مدد خان نے بہادر، دیانت دار اور باصلاحیت غازی کی حیثیت سے شہرت پائی۔ اس وقت ملا موسی کلیم اور ان کے نائب ملا عبدالغفور نیازی نے قلات کے جنوب میں سورغر کے پہاڑی علاقے سرخگان میں ایک محاذ تشکیل دیا تھا، ملا مدد خان نے ایک بہادر اور کامیاب گروپ رہنما کے طور پر اس محاذ میں اپنی خدمات انجام دیں۔ ملا موسی کلیم اور ملا عبدالغفور نیازی کی شہادت کے بعد کمانڈر غیاث الحق کو سرخگان محاذ کا امیر اور ملا مدد خان کو ان کا معاون مقرر کیا گیا۔ اسی وقت سے ملا مدد خان معاون مدت کے نام سے مشہور ہوئے۔ آج تک لوگ اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔ سرخگان محاذ نہ صرف زابل، بلکہ افغانستان کے جنوب اور جنوب مغربی حصے کی سطح پر ایک اہم جہادی محاذ سمجھا جاتا تھا۔ زابل کے علاوہ دیگر قریبی صوبوں کے متعدد سرکردہ مجاہدین، مثلا قندھار کے کمانڈر عبدالرزاق اور غزنی کے قاری عبداللہ دانش ابتدائی طور پر اس محاذ میں خدمات انجام دیتے تھے۔ اس محاذ کے مجاہدین صوبہ زابل کے دارالحکومت قلات اور اس صوبے سے گزرنے والی کابل-قندھار مرکزی شاہراہ پر کارروائیاں کرتے تھے۔ زابل کے ضلع شاہ جوئی سے ضلع شہرصفا تک اس شاہراہ پر مختلف علاقوں میں سوویت فوج پر مجاہدین حملے کرتے تھے۔

اس محاذ کے معاون اور جہادی کمانڈر ملا مددخان شہید ایک بہادر اور مدبر مجاہد تھے، جن کے بہترین کارناموں کی بدولت ہزاروں مجاہدین سوویت قبضے کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہوئے۔ حتی کہ ان کے محاذ میں بیک وقت 2500 سے زائد مسلح اور فعال مجاہدین مصروف تھے۔ کمانڈر ملا مددخان کو سوویت مخالف جہاد میں اہم مجاہدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں ان کا نام مولوی جلال الدین حقانی، ہلمند کے ملا محمدنسیم اخندزادہ ، کابل کے مولوی شفیع اللہ اور مختلف حصوں میں مشہور جہادی رہنماؤں کی فہرست میں درج کیا جاتا ہے۔ بعدازاں ملا مدد خان کو سرخگان محاذ کا امیر مقرر کیا گیا۔ وہ کمیونزم کے خلاف سال بھر جہادی مورچے میں فعال کردار ادا کرتے۔ چند محدود دن کے لیے گھر جاتے اور پھر واپس جہادی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے۔ وہ دشمن کے خلاف کارروائیوں میں ہَرَاوَل دستے کا کردار ادا کرتے۔ انہوں نے ایک بار قلات پولیس ہیڈکوارٹر اور ایک بار صوبائی اسمبلی فتح کی۔ دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کے علاوہ بھاری مقدار میں اسلحہ بھی حاصل کیا۔ تازی کے مقام پر سوویت فوج پر حملے کرتے تھے۔ یہاں دشمن کا بڑا فوجی اڈہ قائم تھا، ان کی کارروائیوں سے بڑی تعداد میں روسی فوجی ہلاک ہوئے۔ ملا مددخان 1987 میں روسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔ اللہ تعالی ان کی خدمات اور شہادت قبول فرمائے۔

کمانڈر عزیز خان جہادی صف میں:

شہید ملا مددخان کے بعد ان کے والد حاجی جہاں آکا نے مزید اپنے تین بیٹوں عزیز خان، حبیب خان اور امیر خان حقانی کو جہاد کے لیے وقف کر دیا، جنہوں نے روس کی شکست تک محاذ کو آباد رکھا۔ کمانڈر عزیز خان حاجی جہاں آکا کے تیسرے بیٹے اور شہید ملا مدد خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ انہوں نے کم عمری اور جوانی کا دور دنیا کی سرگرمیوں اور کاروبار میں گزرا۔ شہید ملا مددخان کی شہادت کے وقت وہ ایران میں کاروبار کرتے تھے۔ بھائی کی شہادت کے بعد وہ گھر لوٹے اور جہادی محاذ کا رخ کر کے اپنے بھائی محاذ سنبھال لیا۔ کمانڈر عزیز خان نے بھی اپنے بھائی کی طرح سرخگان کے محاذ کو بہترین انداز سے سنبھالا۔ سوویت یونین کے انہدام تک صوبہ زابل، خصوصا دارالحکومت قلات کے مضافات میں حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران انہوں نے کئی اہم فتوحات حاصل کیں۔ ان کے کارناموں میں سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ کمیونسٹ ملیشیا کے کمانڈر جنرل عبدالجبار قہرمان کے فوجی قافلے کا جس جوان مردی سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ جنرل عبدالجبار قہرمان نے بڑے فوجی قافلے کے ساتھ قندھار کی جانب سے قلات میں محصور اہل کاروں کو چُھڑانے کے لیے حملہ کیا تو کمانڈر عزیزخان نے منہ توڑ جواب دیا۔

مئی 1990 میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کی صوبائی مراکز سے گرفت ختم ہو رہی تھی۔ اسی دوران مجاہدین نے قلات کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کی ہدایت پر جنرل عبدالجبارقہرمان ایک بڑے فوجی قافلے کے ساتھ قندھار سے زابل روانہ ہوا، تاکہ صوبائی دارالحکومت قلات پر چڑھائی کر کے مجاہدین کو پیچھے دھکیل سکے۔ اس قافلے میں سیکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں فوجی شامل تھے۔ فوجی قافلہ جیسے ہی قندھار سے زابل کی حدود میں داخل ہوا، قندھار اور زابل کے مجاہدین نے ضلع شہرصفا کے مقام پر حملے شروع کر دیے۔ قلات سے شہرصفا تک مجاہدین نے بارودی سرنگیں بچھائیں۔ سڑک کے دونوں اطراف سے فوجی قافلے پر حملہ کیا۔ کمانڈر عزیزخان نے جلدک کے علاقے میں مجاہدین کی قیادت کی اور عبدالجبار قہرمان کے قافلے کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ مجاہدین کی اس کامیاب کارروائی میں قافلے کی سیکڑوں گاڑیاں تباہ اور غنیمت میں حاصل کر لی گئیں۔ عبدالجبار قہرمان نے فوجی وردی اتار کر سادہ کپڑے پہنے اور میدان جنگ سے فرار ہوگیا ۔

اس سال کے آخر اور نئے سال کے آغاز پر ڈاکٹر نجیب اللہ کی کمیونسٹ حکومت بھی ختم ہوگئی۔ کمیونسٹوں کا اقتدار مجاہدین کو مل گیا۔ بدقسمتی سے کچھ جہادی رہنماؤں نے ایک صالح اور مستحکم اسلامی نظام کے بجائے باہمی تنازعات اور بدعنوانی کا رخ کر لیا، جس کے باعث انارکی اور انتشار پھیل گیا۔ جگہ جگہ اقتدار کے چھوٹے چھوٹے جزیرے قائم کیے گئے۔ افغانستان ایک بحران سے نکلتے ہی دوسرے بحران کا شکار ہوگیا۔ کمانڈر عزیزخان اس دوران اپنے علاقے میں مقیم رہے۔ انہوں نے اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی۔ حتی کہ طالبان کی تحریک شروع ہوگئی ۔

اسلامی تحریک کے ساتھ اتحاد اور خدمات:

قندھار میں امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد کی جانب سے فساد اور فتنوں کے خلاف طالبان تحریک کا آغاز ہوا۔ قندھار کے ضلع پنجوائی اور میوند کی فتوحات کے بعد ضلع ڈنڈ میں اس کا مرکز قائم کیا گیا۔ اس تحریک کی آواز آس پاس علاقوں تک بھی پہنچ گئی۔ اس وقت کمانڈر عزیزخان قندھار گئے، جہاں انہوں نے ملا محمد عمر مجاہد سے ملاقات کی ۔ انہوں نے طالبان سے اظہار یکجہتی کیا۔ جب طالبان نے قندھار شہر اور دیگر علاقے فتح کیے اور زابل پہنچ گئے تو کمانڈر عزیزخان نے چار اسٹینگر میزائل اور کئی ٹینک سمیت تمام بھاری اور ہلکے ہتھیاروں طالبان کے حوالے کر دیے۔ کمانڈر عزیزخان نے ملا محمد عمر مجاہد کی ہدایت کے مطابق اپنے تمام مجاہدین کو تحریک میں ضم کر دیا۔ اس میں ایک سرگرم گروپ کی حیثیت سے اپنے جہادی کیریئر کا آغاز کیا۔

کمانڈر عزیز خان نے اپنے مجاہدین کے ہمراہ غزنی اور میدان وردگ کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ جب میدان شہر میں مجاہدین نے مورچے قائم کیے تو انہوں نے ملا مشر اخوند کے نائب کی حیثیت سے طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ کچھ وقت کے لیے فرنٹ لائن کے انچارج کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ میدان شہر کی جنگوں کے دوران وہ اکثر میدان جنگ میں ہوتے تھے۔ جب 1996میں مجاہدین نے ملا بورجان شہید کی قیادت میں دارالحکومت کابل فتح کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا تو کمانڈر عزیز خان اپنے دوستوں کے ساتھ میدان شہر کی طرف سے کابل میں داخل ہوئے۔ مخالفین کا تعاقب جاری رکھتے ہوئے کابل سے باہر گلدرہ کے علاقے تک پہنچ گئے۔ اسی علاقے میں مجاہدین نے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ وہ قیادت کے حکم کے مطابق آٹھویں بریگیڈ ڈویژن کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ انہوں نے یہاں سے شمالی صوبوں کی جنگوں میں جہادی فرائض انجام دیے۔

کمانڈر عزیز خان نے میدان شہر کی طرح شمالی صوبوں کی جنگوں میں بھی نہایت بہادری سے خدمات انجام دیں۔ فتحِ کابل کے فورا بعد جب جنگ کی پہلی لائن کے کمانڈر ملا خان محمد ‘پرانی سڑک’ کے مقام پر شہید ہوئے تو اس معرکے کی کمان ملا عزیز خان کے سپرد کی گئی۔ صوبہ پروان فتح کرنے میں موصوف نے کلیدی کردار ادا کیا۔ سالنگ کے مقام تک پیش رفت ہوئی۔ سالنگ کے درّے میں دشمن کے اچانک حملے میں وہ گرفتار ہو گئے، لیکن کچھ گھنٹوں بعد مجاہدین نے اس علاقے پر حملہ کیا تو کمانڈر عزیز خان اور ان کے دیگر گرفتار ساتھی دشمن کی گرفت سے آزاد کرا لیے گئے۔

شہادت اور مقام شہادت:

کمانڈر عزیز خان طویل جہادی زندگی اور مخلصانہ خدمات کے بعد 1998 میں کابل کے شمال میں کاریز میر کے علاقے میں دشمن کے راکٹ حملے میں شہید ہو گئے۔ شہادت کے بعد انہیں آبائی علاقے میں شہید بھائی ملا مدد خان کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ سرخگان شہداء قبرستان افغانستان میں ایک بڑا قبرستان شمار کیا جاتا ہے۔ اس قبرستان میں روس اور امریکا کے خلاف جہاد میں شہید ہونے والے مجاہدین مدفون ہیں۔ اس سلسلے میں روس کے خلاف سرخگان محاذ کے شہداء کی تعداد 780 تک ہے اور موجودہ جہاد کے شہداء کے ساتھ تمام شہدا کی تعداد ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ کمانڈر عزیز خان کے بعد جہادی ذمہ داری ان کے بھائی حبیب خان کے حوالے کر دی گئی۔ جب وہ بھی شہید ہو گئے تو اُن کی جگہ کمانڈر امیرخان حقانی کو جانشین مقرر کیا گیا۔ امیر خان حقانی اِس وقت امارت اسلامیہ کی مرکزی شوری کے ممبر ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصے تک ملٹری کمیشن کے نائب کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اپنے شہید بھائیوں ملا مدد خان، عزیز خان اور حبیب خان کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ انہوں نے امریکی جارحیت کے خلاف جہاد میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

شہید عزیز خان کے قریبی دوستوں ملا عبدالغفور اخندزادہ ، ملا محمد شفیق اور ملا محمد نواب نے ان کی اچھی خصوصیات کے سلسلے میں کہا کہ ‘کمانڈر عزیزخان مثالی جرات اور ہمت کے ساتھ اچھے اخلاق کے حامل تھے۔’ انہوں نے کہا کہ وہ عام لوگوں کے ساتھ بہت محبت سے ملتے تھے۔ عسکری امور میں غضب کے منصوبہ ساز تھے۔ اسی وجہ سے امارت اسلامیہ ہمیشہ بھاری عسکری ذمہ داریاں ان کے سپرد کرتی تھی۔ انہوں نے اپنے رہنما کا مشن بہترین انداز سے جاری رکھا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کی مشکلات برداشت کرتے ہوئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹے ہیں، جن میں سے ایک امریکا کے خلاف جہاد میں شہید ہو گیا ہے۔ زابل اور قریبی صوبوں میں لوگ اس خاندان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صوبہ بھر میں ان کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کے کارنامے یاد کیے جاتے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اس خاندان کی قربانیاں قبول فرمائے۔ پسماندگان کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Related posts