اکتوبر 20, 2019

اشیائے ضرورت پر پابندی حل نہیں

اشیائے ضرورت پر پابندی حل نہیں

آج کی بات

پچھلے دو ہفتوں سے خاص طور پر قندوز، بغلان، تخار اور بدخشان میں مجاہدین کے حملوں نے زور پکڑا ہے۔ حتی کہ قندوز اور بغلان کے مراکز ابھی بھی مجاہدین کے محاصرے میں ہیں۔ نصف درجن سے زیادہ اضلاع فتح ہو گئے ہیں۔ وہاں سے کٹھ پتلی انتظامیہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔

دوسری طرف کابل انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ دس دن بعد نام نہاد انتخابات ہوں گے۔ جس طرح ایک طرف انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے، دوسری طرف مزدور فوج نے مجاہدین کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔ وہ مجاہدین کے زیرکنٹرول علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر سکتی ہے اور نہ ہی اپنے زیرکنٹرول علاقوں کا دفاع کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے دشمن نے حملہ آوروں کی مدد سے ظالمانہ ہوائی حملوں اور رات کے چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دِہ ہے۔

کابل انتظامیہ نے اپنی فوج کی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے گذشتہ دو ہفتوں سے صوبہ بدخشان کے ضلع جرم میں وادی خستک کے عوام کے لیے مرکزی شاہراہ بند کر دی ہے۔ اشیائے خورد و نوش لے جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ اسی طرح عوام کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ ادویات، ایندھن م، اور دیگر بنیادی چیزیں وہاں لے جانے پر پابندی ہے۔ یہ حقیقت کابل انتظامیہ سمیت سب کو معلوم ہے کہ کابل انتظامیہ جیسے اقدامات کرنا مجاہدین کے لیے نہایت آسان ہے۔ وہ بھی قومی شاہراہوں پر ناکے لگا کر اشیائے ضرورت پر پابندی لگا سکتے ہیں، مگر یہ غیرانسانی عمل ہے۔ مجاہدین نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں ہے۔ تاہم کابل انتظامیہ اب اس ظالمانہ اقدام کے ذریعے مجاہدین کو بھی ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ جس سے عام لوگوں کو اذیت پہنچے گی۔

کابل انتظامیہ مجاہدین سے اپنے جانی نقصان کا بدلہ نہیں لے سکتی۔ وہ اپنے کنٹرول سے نکلنے والے علاقوں پر دوبارہ قبضہ نہیں کر سکتی۔ اس لیے وہ ردعمل میں عام شہریوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں تنگ کر رہی ہے۔ قابض فوج کے ڈرون اور فضائی حملوں میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنوا رہی ہے۔ اب مجاہدین کے زیرکنٹرول علاقوں میں خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت کی رسائی پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ کابل انتظامیہ تمام اسلامی، انسانی، افغانی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے اگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری طور پر اس طرف توجہ نہ دی تو نہ صرف وہ بھی اس جرم میں دشمن کے ساتھ شریک تصور کی جائیں گی۔ مجاہدین بھی مجبور ہوں گے کہ وہ ان علاقوں کی سپلائی بند کر دیں، جو کابل انتظامیہ کے کنٹرول میں ہیں۔ تب تک یہ سپلائی لائن بند رکھیں گے، جب تک کابل انتظامیہ اسی طرح کی گھٹیا اور بزدلانہ سرگرمیوں سے باز نہیں آتی۔ اس کی ذمہ داری بھی کابل انتظامیہ اور اس کے غیرملکی اتحادیوں پر ہوگی۔

لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا اس علاقے کے لوگوں کی مشکلات پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔ ظالم ملیشیا کی اس طرح کی کارروائیوں کی روک تھام کی کوشش کریں۔ بصورت دیگر خدانخواستہ اسی طرح کے ردعمل کے انجام سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔ پھر کابل انتظامیہ اور قابض قوتیں ذمہ دار ہوں گی۔

Related posts