اکتوبر 20, 2019

قبضے کی سوچ نری حماقت ہے

قبضے کی سوچ نری حماقت ہے

آج کی بات

امریکا کے افغانستان پر ناجائز قبضے کے اٹھارہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ قابض قوتوں اور ان کی کٹھ پتلی کابل انتظامیہ کو کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کٹھ پتلی نظام بکھرنے اور حملہ آوروں کو بدترین شکست کا سامنا ہے۔ امریکی حکام یہ بات نوٹ کر لیں کہ جو جنگ وہ 18 برس میں نہیں جیت سکے، وہ اس کے بعد بھی نہیں جیت سکتے!!

اس کے برعکس امارت اسلامیہ کے زیرقیادت جاری جہاد اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے۔ دشمن کے اعتراف کے مطابق افغانستان کے آدھے سے زیادہ رقبے پر امارت کا کنٹرول ہے۔ اس کنٹرول کا دائرہ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ اللہ کی مدد اور اپنے عوام کی حمایت سے مجاہدین پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ فتوحات حاصل کر رہے ہیں۔ دشمن کو شکست دینے کا اچھا تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔

امریکا نے افغانستان کی جنگ میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس نے ایسی مستحکم حکومت بھی قائم نہیں کی، جس پر عوام اعتماد کریں۔ امریکی سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کابل انتظامیہ بدعنوان اور سیاسی و انتظامی طور پر ناکام اور ایک کمزور ہے۔

وہ افغانستان میں امریکی جنگ کی بقا پر زور دیتی ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتی کہ اگر جنگ کے ذریعے فتح حاصل ہوتی تو بش اور اوباما یہ جنگ جیت چکے ہوتے۔ کیوں کہ تب افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ قابض فوجی موجود تھے۔  وہ نہ صرف کامیابی حاصل نہیں کر سکے، بلکہ انہیں بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر امریکی حکام اب بھی جنگ پر اصرار کرتے ہیں تو یہ ان کی بہت بڑی بیوقوفی ہوگی۔

تاریخ اور تجربے نے ثابت کیا ہے کہ افغانستان میں کبھی بھی بیرونی قوت کو کامیابی نہیں ملی ہے۔ جس نے جتنا زور آزمایا ہے، اتنا ہی اس کو شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکا کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اپنی غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہیے۔ افغانستان سے تمام فوجیں واپس بلائی جائیں، تاکہ افغان عوام بھی ظلم و جبر سے چھٹکارا حاصل کریں۔ امریکا بھی جان و مالی نقصان سے بچ جائے۔

 

Related posts