اکتوبر 20, 2019

حقائق اور اشرف غنی کی لاف زنی

حقائق اور اشرف غنی کی لاف زنی

آج کی بات

دو روز قبل کٹھ پتلی سربراہ اشرف غنی نے انتخابی مہم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجاہدین ایسے جنگجو ہیں، جو بلا معاوضہ لڑتے ہیں۔ مَیں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ وہ حکومت میں شامل ہو جائیں۔ مَیں ان کے لیے تنخواہ مقرر کروں گا۔’

اشرف غنی کو بتایا جانا چاہیے کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین معاوضے یا دیگر دینوی مراعات کے لیے نہیں، خالص اللہ تعالی کی رضا، اعلائے کملۃ اللہ اور وطن عزیز کی آزادی کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔ وہ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ وہ اسے اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔

اشرف غنی نے ایک ایسے وقت میں مجاہدین کو حکومتی اہل کار بننے اور انہیں تنخواہ دینے کا اعلان کیا ہے کہ گزشتہ روز صوبہ فاریاب کے ضلع دولت آباد میں کابل فوج نے مظاہرہ کیا اور الزام لگایا کہ ایک سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے، انہیں تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

تنخواہوں کی تاخیر یا عدم فراہمی کا یہ معاملہ صرف صوبہ فاریاب اور فوجی جوانوں تک محدود نہیں، یہ سلسلہ پورے ملک چل رہا ہے۔ جس کے باعث فوجی اہل کاروں کے حوصلے پست ہو گئے ہیں۔ اشرف غنی نے انتخابی تقریب سے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ انہوں نے افغانستان کے قومی مفاد کے خلاف کچھ نہیں کیا ہے۔ کوئی میرے خلاف ایسا کچھ ثابت نہیں کر سکتا۔ حالاں کہ اشرف غنی نے خود امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کیا، جو افغانستان کی تاریخ پر بدنما داغ ہے۔

ان کے دور میں ہزاروں نہتے شہری فضائی حملوں اور چھاپوں میں شہید، زخمی اور پابند سلاسل ہوئے۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔

اشرف غنی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر امن دشمن شخص کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے انتہائی شرم ناک انداز میں کہا کہ مَیں ہر گاؤں، ہر ضلع اور ہر صوبے سے امن کی صدا بلند کرتا ہوں۔ آپ مجھے ووٹ دیں، میں امن قائم کروں گا۔ چوں کہ یہ اظہر من الشمس ہے اور قوم بھی جانتی ہے کہ درحقیقت اشرف غنی بجائے خود امن کے کتنے گہرے مخالف ہیں!

قطر میں امارت اسلامیہ اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کے دوران اشرف غنی نے کتنی شدید مخالفت اور مزاحمت کی تھی۔ اشرف غنی یہ بات ذہن نشین کریں کہ وہ ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ وہ جھوٹے دعوؤں کے ذریعے قوم کو نہیں ورغلا سکتے، جس کے ذریعے وہ اگلے پانچ سالوں تک ایک بار پھر عوام پر خون ریز دور کی حکمرانی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

Related posts