اکتوبر 20, 2019

امارت اسلامیہ کا مستحکم مؤقف

امارت اسلامیہ کا مستحکم مؤقف

آج کی بات

امارت اسلامیہ نے اپنے قیام کے آغاز سے ایک ایسی پالیسی اپنائی ہے جس کی بنیاد اور محور اسلامی اقدار اور قومی مفادات پر مبنی ہیں۔ ہمارے اہداف میں جارحیت کا مکمل خاتمہ ، وطن کی آزادی اور اسلامی نظام کا نفاذ شامل ہیں۔ امارت اسلامیہ جن مقاصد کے لئے جدوجہد کررہی ہے اس نے کئی بار ثابت کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ کی بنیاد پر اپنے کاز پر سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔

امارت اسلامیہ نے افغانستان پر امریکی حملے کے آغاز کے ساتھ ہی یلغار کے خلاف جہاد کا آغاز کیا اور بار بار واضح کیا ہے کہ وطن عزیز میں جارحیت پسندوں کی موجودگی کو کسی صورت بھی قبول اور برداشت نہیں کیا جائے گا، امارت اسلامیہ کو ملک میں حملہ آوروں کے ایک چھوٹے فوجی اڈے کے بدلے حکومت دینے اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی و معاشی حمایت کرنے کی پیشکش کی گئی ہے لیکن امارت اسلامیہ کی اسلام دوست اور محب وطن قیادت نے ہر بار یہ پیشکش ٹکرا دی ہے اور ملک سے قابض قوتوں کے مکمل انخلا پر زور دیا ہے ۔

امریکہ کے ساتھ 18 برس کے طویل معرکے کے بعد بھی مخالف گروہ نے امارت اسلامیہ کو نہیں جانا، دشمن نے امارت اسلامیہ کو بھی ان حکمرانوں پر قیاس کیا ہے جو اپنے ذاتی مفادات اور ہوس اقتدار کے لئے اسلام اور وطن کے معاملات پر سمجھوتہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، امارت اسلامیہ کی قیادت نے اپنے اعلی اہداف کے حصول کے لئے دشمن کے زور اور زر کو نظرانداز کیا ہے اور وہ اپنے دینی اور قومی موقف پر ثابت قدمی کے ساتھ قائم ہے ۔

ہماری جدوجہد کسی حکومت ، تنظیم اور ادارے کا احسان مند نہیں ہے، امارت اسلامیہ کی جدوجہد عوام کے درمیان سے شروع ہوئی ہے اور عوام کی جانی اور مالی مدد سے کامیابی کی جانب تیزی سے گامزن ہے، افغان مجاہد عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ اپنے مقدس اہداف اور کاز پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنی جدوجہد سے دستبردار ہوجائیں گے، مظلوم اور مجاہد قوم کی امنگوں کے مطابق ملک کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ تک چین سے نہیں بٹھیں گے اور اس مقصد کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔

ان شاء اللہ

Related posts