نومبر 16, 2019

اور کوئی آپشن ہے نہیں

اور کوئی آپشن ہے نہیں

اکرم تاشفین

امریکی صدر ایک کاروباری شخص ہے۔ اسے ڈیلنگ اور سودے بازی کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ہروقت کسی بھی ٹریک پر چلتے ہوئے یک دم مڑ جانا اور دنیا بھر کو حیران کردینا اس کی عادت ہے۔ یہ الگ بات کہ ان کی اس عادت  نےانہیں فائدہ کم نقصان زیادہ پہنچا یا ہے۔ یہ ڈیلنگ کے لیے دباو ڈالتا ہے۔ دباو ڈالنے کے لیے مخالف  کو زچ اور حیران کرتا ہے۔ یہ اس کا "طریقہ واردات” ہے۔ اس طرح مخالف بدحواس ہوکر جلد بازی میں  وہ کچھ کر بیٹھتا ہے جو وہ عام حالات میں نہیں کرنا چاہتا۔ افغان امن مذاکرات کے 9طویل مراحل کے دوران اس کے طرح طرح کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔  وہ چونکاتا ہے، حیران  کرتا ہے اور خدشات میں ڈالتا ہے اور پھر واپس پرانے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ یہ ان کا طریقہ واردات تو ہوگا ، ناکام یا کامیاب،مگر اس الٹ پھیر نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

آج انہوں نے امن مذاکرات کے آخری دستخط اور اعلان سے قبل مذاکرات معطل کرنے اور امارت اسلامیہ کے رہنماوں سے ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ گذشتہ ایک سال کی طویل ترین جد وجہد ،  دماغ سوزی اور ذہنی کشمکش کے بعد امریکی  اور امارت اسلامیہ کےمذاکراتی ٹیموں کے درمیان   جو متفقہ معاہدہ طے ہوااور پوری باریک بینی سے اس کا متن تیار گیا ٹرمپ نے حسب عادت ایک ٹویٹ سے سب پر پانی پھیر دیا۔ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ، اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ فوجی جس جنگ میں امریکا نے مروائے ہیں اور اپنی تاریخ کا سب سے زیادہ مالی خسارہ  جس پر اٹھایا ہے ، اس خونی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے اہم ترین مذاکرت پر اس قدر غیر سنجیدگی کا مظاہر دنیا کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے.

صدر ٹرمپ نے اچانک مذاکرات معطل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے ان کے خیال میں وہ اس سے بہتر نتائج حاصل کرپائیں گے۔ اس سے قبل وہ شمالی کوریا کے صدر کیم جونگ کے ساتھ بھی ایسا کرچکے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے امریکی ناراضگی کی ڈرسے امارت اسلامیہ ٹرمپ کی بلیک میلنگ کا شکار ہوجائے گی، اسے  مذاکرات کی ناکامی کا خطرہ لاحق ہوجائے گا اور وہ غیر مشروط جنگ بندی پر راضی ہوجائے گی۔ جیسا کہ امریکی بیانات سے معلوم ہورہا ہے۔  امریکا کا یہ خیال غلط اور بے سود ہے۔ 2001 میں ایک اسامہ بن لادن کی حوالگی کے مطالبے کے جواب میں بھی امارت اسلامیہ نے کسی دباو کا شکار ہوئے بغیر ہمیشہ اصولی انداز میں اپنا موقف رکھا، امریکا سے مذاکرات کے لیے قانونی راستوں کے استعمال کی پیش کش کی۔ اسامہ بن لادن کے خلاف عدالتی ٹرائل کے ذریعے محکمانہ کارروائی  کی دعوت دی۔ بلاکسی معاہدے، کسی قانونی کارروائی ، محض امریکی دباو میں آکر اس وقت بھی اسامہ بن لادن کی حوالگی کو مسترد کردیا تھا۔ حالانکہ بڑی قربانیوں کے بعد اس وقت امارت اسلامیہ نے اپنی حکومت قائم کی تھی ۔ وہ ایک خطہ زمین کے مالک تھے اور افغانستان کے 95 فیصد رقبے پر حاکم تھے۔ اگر اصولی طریقہ کار سے ہٹ کر محض دباو اور بلیک ملنگ سے فیصلے کرنے ہوتے تو امارت اسلامیہ اس وقت اپنی حکومت بچانے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہوجاتی۔ اگر اس وقت عظیم ترین قربانیوں کے لیے ہم نے خود کو پیش کیا تو آج کیا چیز رکاوٹ ہے جہاد کو جاری رکھنے سے۔ آج جب امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے حوصلے آسمانوں کو چھور ہے ہیں۔ جتنا معاہدہ قریب آرہا ہے مجاہدین تھک ہار کر آرام کرنے کے لیے بیٹھنے کی بجائے مزید جنگ جاری رکھناچاہتے ہیں۔ محاذوں پر تازہ دم مجاہدین ٹوٹ ٹوٹ کر آرہے ہیں۔ شہید یا غازی بننے کے لیے آخری معرکے میں پورے ملک سے امارت اسلامیہ کے نوجوان جوق درجوق آرہے ہیں۔ 32 ہزار فدائی نام لکھوائے اپنی باری کے انتظار میں اب بھی بیٹھے ہیں۔ وہ اس جلدی میں ہیں کہ ان کی باری آنے سے قبل امن معاہدہ طے نہ ہوجائے۔ ایک دوسرے پر سبقت کے لیے جلدی مچی ہوئی ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کی بلیک ملنگ ان کے لیے محض ایک مذاق ہے اس سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں ۔ اگر ٹرمپ کو آگے جنگ لڑ کر اپنی کامیابی کا اتنا ہی یقین ہوتا تو بخدا وہ کبھی جنگ چھوڑ کر مذاکرات پر اصرار نہ کرتا۔ 2013 میں جس دن قطر میں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کا افتتاح ہوا تھا  اس دن سے امارت اسلامیہ کو مذاکرات کے حوالے سے امریکی کوششوں میں سنجیدگی نظر نہیں آئی اسی لیے تو ہمیشہ ایسی کوششوں کو ہم نے مسترد کیا۔ اس بار امن کے قیام اور افغان عوام کو امن کا تحفہ دینے کے لیے اس بار امارت اسلامیہ نے امریکی دعوت کا مثبت جواب دیا۔ امریکا کے فطری شاطرانہ پن سے پہلے بھی ہمیں خدشات رہتے تھے کہ یہ اتنی آسانی سے کیوں کر امن قائم کرنے پر تیار ہوجائیں گے؟ مگر بہر حال دل کو تسلی دیتے رہے، کہ بالآخر ٹرمپ نے امریکی فطرت آشکارا کرہی دی۔

اب بھی کچھ نہیں گیا امارت اسلامیہ امن کے قیام کے لیے اب بھی آمادہ ہے ۔امریکا دھوکہ دہی کے اپنے فعل سے باز آجائے اور امن کے قیام میں سنجیدہ ہو۔ دنیا کو یہ باور نہ کرائے کہ امریکا ایک شدت پسند اور جنگجو ملک ہے۔ وگرنہ یہ گز ہے اور  یہ میدان۔   ملا بردار کا پہلے بھی اعلان یہی تھا کہ خود نہیں نکلو گے تو بزور بازو نکال کے رہیں گے۔ اور کوئی آپشن سرے سے ہے نہیں۔

Related posts