نومبر 16, 2019

مظلوم قوم کے زخموں کا مداوا

مظلوم قوم کے زخموں کا مداوا

آج کی بات

الفتح آپریشن کے آغاز سے افغانستان میں حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے فوجی اڈوں، دفاتر اور چوکیوں پر تابڑتوڑ حملے ہوئے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد میں قابض فوج کے اہل کار اور افسران ہلاک ہو گئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح کابل انتظامیہ کو بھی بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔ وسیع علاقوں، ان گنت چوکیوں اور دس سے زیادہ اضلاع پر مجاہدین کا کنٹرول قائم ہو گیا ہے۔

مشترکہ دشمن مجاہدین کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ اس لیے وہ اپنی شکست کا بدلہ عام شہریوں سے لیتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں وحشیانہ فضائی حملوں اور رات کے چھاپوں میں ہزاروں نہتے شہریوں کو شہید اور زخمی کیا ہے۔ مقامی بازاروں، دکانوں، کلینکس، مساجد، اسکولز اور مدارس کو تباہ کیا ہے۔ عام شہریوں کا جینا محال کر رکھا ہے۔

امارت اسلامیہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں، یوناما اور  مختلف تنظیموں سے بار بار مطالبہ کیا ہے کہ وہ حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی جانب سے افغان عوام کے خلاف جاری ظلم و سربریت روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ انہوں نے زیادہ تر واقعات کی مذمت تک نہیں کی ہے۔ امارت اسلامیہ جو عوام کے جان و مال کے تحفظ کی کوشش کرتی ہے۔ ماضی میں عوام کے حقوق کا دفاع کیا ہے۔ دشمن پر واضح کیا ہے کہ غیور مجاہدین عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کا بدلہ ضرور لیں گے۔ اس سلسلے میں کابل، قندوز، فاریاب، ہلمند، پکتیا، لوگر، بغلان، بلخ، فراہ، کنڑ، غزنی، میدان وردگ اور دیگر صوبوں میں حملہ آوروں اور افغان اجرتی فورسز پر متعدد فدائی، گوریلا اور براہ راست حملے کیے گئے۔ جس سے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

کابل اور لوگر میں قابض فوج پر فدائی حملے دشمن سے بدلہ لینے کی تازہ ترین مثال ہے۔ بدھ کے روز دارالحکومت کابل کے علاقے ‘قابل بائے’ میں گرین ویلج کیمپ پر فدائی مجاہدین نے حملہ کیا، جس میں درجنوں قابض فوجی، خفیہ اداروں کے اہل کار اور افغان محافظین ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دشمن کے اعتراف کے مطابق اسے لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

اسی طرح جمعرات کے روز کابل کے حلقہ نمبر 9 میں حملہ آوروں کے قافلے پر فدائی حملے میں 12 قابض اہل کار اور 8 افغان فوجی ہلاک ہوئے۔ اسی روز صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب پاد خواب کے علاقے میں قابض امریکی فوج کے خضر نامی اڈے کے سامنے فدائی حملے میں متعدد حملہ آور اور کابل انتظامیہ کی اسپیشل فورس کے کمانڈو ہلاک ہوگئے۔

مشترکہ دشمن پر حالیہ حملوں سے مظلوم قوم کے زخموں کا کسی حد تک مداوا ہوا ہے۔ مشاہدہ ہوا ہے کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین اپنے سروں کی قیمت پر اسلامی اقدار، قومی وقار، عوام کی جان، مال اور عزت کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہسفاک دشمن سے بدلہ لے رہے ہیں۔

الفتح آپریشن کے دوران مذکورہ فدائی حملوں کے علاوہ مختلف صوبوں میں دشمن پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں۔ اس کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ ہفتہ میں مجاہدین نے قندوز اور پل خمری شہروں کے متعدد علاقے فتح کیے۔ بھاری مقدار میں اسلحہ، فوجی سامان اور گاڑیاں غنیمت میں حاصل کیں۔ ان دو شہروں کا محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

 

Related posts