نومبر 19, 2019

ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے

ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے

ہفتہ وار تبصرہ

پیر اور منگل کی درمیانی شب (02 اور03 ستمبر) امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کابل شہر کے دامن میں گرین ویلیج نامی اس خصوصی محدود علاقے پر کامیاب کاروائی سرانجام دی،جس کے باشندوں کی اکثریت بیرونی اور ملکی فوجی عہدیداروں کی ہیں۔  باوجود کہ اس علاقے میں کوئی شہری یا  عام افغانی رہائش پذیر نہیں ہے، بلکہ سیکورٹی حساسیت کی وجہ اس علاقے کے قریب عام شہریوں کو جانے کی اجازت نہیں دیجاتی، چوں کہ یہ ایک خصوصی فوجی علاقہ ہے۔ مگر پھر بھی مجاہدین کے حملے کے بعد چند ذرائع ابلاغ نے شورمچایا کہ طالبان نے شہریوں کو نقصان پہنچایا ہے اور اس حملے کو انجام نہیں دینا چاہیے تھا۔

گرین ویلیج نامی فوجی علاقے پر ہونیوالے حملے کی اس حال میں مذمت کی جارہی ہے کہ دوسری جانب بیرونی افواج اور ان کے ملکی غلاموں  نے افغانستان کے طول و عرض میں عام افغانوں کے گاؤں، قصبوں اور مٹی کے گھروں پربمباری، چھاپے اور ظالمانہ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

حالیہ چند دنوں میں صرف صوبہ غزنی میں دو عوامی بازاروں کو تباہ کیے جاچکے ہیں۔ 31 اگست صوبہ غزنی ضلع گیلان کے جہانگیر بازارپر  امریکی فوجوں اور کمانڈو نے چھاپہ مارکر 22 دکانوں، ایک ہوٹل اور بازار کے تمام ملحقات کو بموں سے تباہ کردیا۔20 سے زائد موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کو نذرآتش کراور عوام کو کروڑوں افغانی کا نقصان پہنچایا۔اگلی رات بیرونی اور ملکی افواج نے صوبہ غزنی ضلع ناوہ کے مرکزی بازار پر شب خون مار کر2صحت کے  مراکز،4 ہوٹلوں،3 پٹرول پمپ اور سو سے زائد دکانوں کو آگ لگا دی، اسی طرح عام شہریوں کی متعدد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں نذرآتش کردیا۔ یہ تخریبی کاروائیاں ان ظالمانہ بمباریوں کے علاوہ ہیں، جو روزانہ دیہاتوں اور دورافتادہ علاقوں میں جاری ہیں،جن سے عام شہریوں کی زندگی تلف ہورہی ہے۔

وہ افراد جو گرین ویلیج نامی فوجی مرکز کو نشانہ بنانے پر انتقاد کررہا ہے، انہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ گرین ویلیج میں رہنے والے بیرونی اور ملکی افواج افغانستان کے گاؤں پر مظالم اور وحشت جاری رکھتے ہو اور خود فوجی مراکز میں آرام کی زندگی گزار رہے ہو۔

افغان عوام بےسہارا ہے اور نہ ہی ہمارے مظلوم ہموطن مہدورالدم ہیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان جو افغان عوام کی نمائندگی کررہی ہے، اپنی ملت کے خون کا حساب اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور عوام کے قاتلوں کو ضرور ان کے عمل کی سزا دیگی۔

وہ افراد جن کے مزاج پر گرین ویلیج کا حملہ بری لگی ہے،انہیں سب سے پہلے اسی اور دیگر فوجی مراکز میں تعینات چھاپہ مار قاتلوں کو اپنے ظالمانہ اعمال سے روکنا چاہیے۔ کیونکہ ان کے ظالمانہ حملوں، بمباری اور تخریبی کاروائیوں میں تمام نقصان عام مظلوم ملت کو پہنچتا ہے۔ ان کے ایسے اعمال جنگ کی صورتحال پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا،مگر صرف ان کے وحشناک چہرے کو رسوا اور ظالمانہ کردار کو ثابت کرسکتا ہے۔

Related posts