نومبر 16, 2019

مضبوط موقف کیا ہے؟

مضبوط موقف کیا ہے؟

آج کی بات

اشرف غنی کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘کابل انتظامیہ طالبان سے کمزور فریق نہیں، بلکہ ایک مضبوط سیاسی اور فوجی موقف کے طور پر بات کرے گی۔’

پوری قوم کو معلوم ہے امارت اسلامیہ اپنے اصولی موقف کی وجہ سے ایک نااہل اور ناکام انتظامیہ کو بطور حکومت تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی آج تک اسے تسلیم کیا ہے۔ کابل انتظامیہ کس دلیل کی بنیاد پر اپنے لیے مضبوط موقف کی بات کرتی ہے؟ جو شخص امریکی کروز مزائل اور ڈرون کے ذریعہ کابل درآمد کیا گیا ہے، جو قریب 20 سالوں سے اپنی قوم کے خلاف نیویارک اور واشنگٹن کی حفاظت کے لیے لڑ رہا ہے، جس نے جان کیری کے حکم پر اقتدار کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، جس نے بدعنوانی اور کرپشن میں عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے، جس نظام میں صدر اپنے نائب اور عملے کے ساتھ دست و گریبان رہا ہو، جو حکمران اپنے ایک ملازم کو برطرف کرنے سے قاصر ہو، جس کے تنازعات حل کرنے میں امریکی وائسرائے کردار ادا کرتا ہے،  وہ کس موقف کی بنیاد پر خود کو بااختیار سمجھ رہا ہے؟

ایوان صدر میں فحاشی اور رشوت کے ڈراموں نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ظلم اور درندگی کی کوئی مثال ایسی باقی نہیں رہی، جسے افغانستان میں نہیں دُہرایا گیا۔صوبہ لوگر میں ایک غریب شخص سعودی عرب سے حال ہی میں واپس آیا تھا۔ اسے اپنے اہل خانہ کے سامنے بم پر بٹھا کر بم تباہ کیا گیا۔ جو حکام اپنی قوم کے خوف سے کنکریٹ کی مظبوط دیواروں اور امریکی ٹینکوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں، جس کٹھ پتلی ادارے کے آقا نے اسے مذاکرات سے بے خبر رکھا ہو، آخر کار وہ ادارہ بھی مضبوط موقف کی بات کر رہا ہے۔ وہ امریکا سے اپنی فوج برقرار رکھنے کی منتیں کر رہا ہے۔ جو انتظامیہ جو امریکا کی مالی اعانت سے چلتی ہے، امریکی امداد اور فوج کے بغیر وہ چند ہفتے برقرار نہیں رہ سکتی، کیا وہ مضبوط موقف کے ساتھ بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

یہ ہرگز مضبوط موقف نہیں ہے۔ مضبوط پوزیشن کا موقع آپ کے محسنوں نے بھی ضائع کر دیا ہے، جن کے زیر سایہ آپ لوگوں نے 18 برس سے مظلوم عوام پر ظلم کا بازار گرم رکھا ہوا ہے۔ وہ بھی امن مذاکرات کے عمل کے دوران مضبوط پوزیشن کا دعوی نہیں کرتے ہیں۔ آج آپ کو 99 فیصد عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ حتی کہ آپ کا نام سننے سے نفرت کرتے ہیں۔ پھر آپ مضبوط پوزیشن کی بات کیسے کریں گے؟ کابل انتظامیہ کو چاہیے وہ مزید احمقانہ سیاست سے گریز کرے۔ قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے۔ امریکا اور نیٹو جیسی طاقتوں نے بھی آخرکار ہوش سے کام لیا ہے۔ حقائق کا ادراک کیا اور زمینی حقائق تسلیم کیے۔ آپ کا سب کچھ ان کے ساتھ جُڑا ہوا ہے تو پھر کیوں ہوش کے ناخن نہیں لیتے۔ پھر کیوں قوم کی دشمنی سے دستبردار نہیں ہوتے اور اللہ کی رحمت سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے محروم کرتے ہو؟

مضبوط پوزیشن کا دعوی کرنا ان لوگوں کا حق ہے، جنہوں نے اسلام، وطن اور قوم کے دفاع کے لیے اپنی جسموں سے بم باندھ کر امریکا کا مقابلہ کیا اور اس کو شکست دی۔ مضبوط موقف کا دعوی کرنا ان لوگوں کا حق نہیں ہے، جو حملہ آوروں کے زیرسایہ قوم پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ آپ لوگ حملہ آوروں کی بندوق اور حکم پر اٹھارہ برس سے اپنے لوگوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے وہ اپنے مستقبل پر غور کریں، اللہ سے ڈریں اور شرم محسوس کریں۔

Related posts