امریکی سینیٹر جنگ نہ مانگیں

آج کی بات

امارت اسلامیہ اور امریکی نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات نویں دور سے گزر رہے ہیں۔ ٹرمپ اپنی فوج واپس بلانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بلیک واٹر کی قاتلانہ ذہنیت والے کچھ امریکی سینیٹر کبھی کبھی افغانستان میں امریکی فوج برقرار رکھنے اور غیرمفید جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔

ان جنگ پسند سینیٹرز اور جرنیلوں کو چاہیے وہ ٹرمپ کی طرح مغربی اور بین الاقوامی ماہرین کی بات غور سے سنیں۔ پشتو میں ایک محاورہ ہے کہ ‘کم عقل جتنا دوسرے کو نقصان دیتا ہے، اس سے زیادہ خود کو نقصان پہنچاتا ہے۔

لینڈسی گراہم نامی ایک امریکی سینیٹر نے متعدد بار ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان سے مکمل انخلا نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو چاہیے وہ افغانستان میں فوجی تعداد کم نہ کریں۔ کیوں کہ اس ملک میں امریکی کی موجودگی امریکی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کانگریس کو اس حوالے سے ایک مراسلہ بھیج دیا ہے، تاکہ افغانستان سے مکمل انخلا کا راستہ روکا جا سکے۔ اس سے قبل بھی متعدد امریکی جرنیلوں نے ان جیسے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ امریکی فوجی افغانستان میں برقرار رہیں۔ وہ افغان حکومت کی مدد جاری رکھیں، تاکہ 18 برس سے افغان عوام کے قتل عام کا سلسلہ جاری رہے۔

ستم ظریفی یہ کہ انہوں نے ابھی تک اس حقیقت کا ادراک نہیں کیا کہ تقریبا دو دہائیوں سے قابض امریکا نے افغانستان میں کشت و خون کا بازار گرم رکھا ہے۔ امریکا چند ضمیر فروش افغان غلاموں کی حمایت سے خود بھی ہلاک ہو رہا ہے۔ وہ اب تک ہزاروں افغانوں کو بھی شہید کر چکا ہے۔ اس جنگ سے انہوں نے کوئی فائدہ حاصل کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں جیتنے کا کوئی امکان ہے۔ ایسی ناکام جنگ میں امریکا کو جانی اور مالی نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ یہ بھی امکان ہے کہ امریکا کو افغانستان میں شکست کے باعث پوری دنیا میں سیاسی اور عسکری ذلت کا سامنا کرنا پڑے۔ بالآخر وہ اپنے بین الاقوامی دشمنوں کے سیاسی، فوجی اور معاشی دباؤ کی وجہ سے اندر ہی اندر مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو جائے۔ لہذا لینڈسی گراہم جیسے امریکی سینیٹرز اور بعض جرنیلوں کو افغانستان میں قیام پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ وہ افغانوں کے قتل سے کھیل کا لطف نہ اٹھائیں۔ انہیں اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ افغان عوام مصائب کا شکار ہیں۔ ان کی زندگیاں اور گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مشکلات برداشت کی ہیں۔ البتہ وہ آزادی کے لیے جہاد سے تھکے ہیں اور نہ ہی اُکتائیں گے۔

کیوں کہ اس طرح کی جدوجہد مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ وہ اسے کبھی نہیں چھوڑ سکتے۔ اسی لیے مسلمان جہاد کی راہ میں موت اور زندگی کو اپنے لیے کامیابی سمجھتے ہیں۔ جب کہ ہمارا دشمن اس نعمت سے محروم ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*