افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا سب کے مفاد میں ہے

ہفتہ وار تبصرہ

افغانستان میں امریکی افواج کی لڑائی اٹھارہ برس کو پہنچی۔ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین لڑائی ہے۔ اس جنگ میں جس طرح افغان عوام کو بھاری نقصان پہنچا، تو امریکی فریق نے بھی وسیع تر مالی اور جانی نقصانات اٹھائے۔  افغان-امریکا جنگ اس وقت شروع ہوئی، جب امریکی افواج نے افغانستان پر جارحیت کی۔ مطلب یہ جنگ کی علت اور عامل افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی ہے ،اگر ہم چاہے کہ اس جنگ کو ختم کردیں، تو  امریکی افواج کو افغانستان سے نکلنا چاہیے۔

اس وقت افغانستان سے امریکی انخلا کے موضوع پر امارت اسلامیہ اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ افغان عوام ، امریکی عوام اور سیاستدانوں کی اکثریت مذاکراتی عمل سے مطمئن اور پرامید ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ امریکی افواج کے انخلا سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوجائیگا  اور فریقین کی جانی و مالی نقصانات کا روک تھام ہوجائے گا۔

مگر ان وسیع اور عام امیدوں سے مخالفت کرتے ہوئے بعض عناصر مخالف گانے بجا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی سینٹ کے رکن لینڈسی گراہم کی طرح چند جنگ طلب عناصر اور افغانستان میں وہ نام نہاد سیاستدان جو اپنی سیاسی بقاء بیرونی جارحیت میں دیکھ رہی ہے،  امریکی افواج کے انخلا سے مخالفت  اسی وجہ کررہا ہے۔

امریکی افواج کے انخلا کے مخالف جو جنگ کے دوام پر اصرار کررہا ہے، ان کے پاس اپنی مدعا کے لیے کوئی اخلاقی اور قانونی دلیل اور بنیاد نہیں ہے۔  وہ صرف اور صرف اپنی ذاتی مفادات کے فکر میں ہے، جسے جنگ کے دوام میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس نوعیت عناصر  کو عام عدالت میں خودغرض کہا جاتا ہے۔ وہ عناصر جو اپنی ذاتی مفادات کے لیے  عام مفادات کو قربان کرتے ہیں  اور اقوام کو جنگ، بدامنی اور  ہنگامی لہروں کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان اس فکر میں ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا کسی کے نقصان میں نہیں ہے، بلکہ تمام فریق کے فائدے اور مصلحت میں ہے۔  خودغرض اور جنگ طلب سیاستدان عام مصالح کو مدنظر رکھے۔ ان افراد کی حالت سےانہیں باخبر رہنا چاہیے، جو جنگ کے براہ راست قربانی ہیں۔

وہ عناصر جو افغانستان میں امریکی جارحیت کے دوام پر تاکید کررہا ہے ، انہیں گذشتہ اٹھارہ برس کی حالت کا دقت سے مطالعہ کرنا چاہیے۔  دوسری بات یہ ہے کہ جاری مذاکرات اور امریکی افواج کے انخلا کے موضوع اور  عوام کی امیدوں کو   بھی مدنظر رکھنی چاہیے۔ یہ کہ عوام اس عمل کے لیے پرامید ہیں، تو  بات واضح  ہے کہ اس میں اپنی بھلائی دیکھ رہی ہے۔ جو خودغرض سیاستدان اس عمل سے مخالفت کا اظہار کررہا ہے، وہ عناصر عملی طور پر عوام کی امیدوں اور سماجی شعور کیساتھ تصادم میں واقع ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*