نومبر 19, 2019

الله تعالی کی مدد اور عوام کا تعاون

الله تعالی کی مدد اور عوام کا تعاون

آج کی بات

مجاہدین نے الفتح آپریشن کے سلسلے میں حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فوجوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہر روز درجنوں حملہ آور اور کابل فوجیوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ وسیع علاقے فتح کیے جاتے ہیں۔

ایک دن کی فاتحانہ کارروائیاں:

صوبہ پروان کے ضلع بگرام کے علاقے صیاد میں ایک فدائی مجاہد ‘محمد محسن’ نے قابض امریکی فوج پر فدائی حملہ کیا، جس میں 2 ٹینک تباہ، 7 فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

صوبہ قندھار کے ضلع میوند کے علاقے قلعہ شامیر رنگریزان میں کابل فوج کے 7 ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کر دیا، جن میں سوار تمام فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

صوبہ میدان وردگ کے دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں چہاربند، مکتب اور سہاکو میں مجاہدین کے حملے میں دشمن کے 3 ٹینک تباہ اور 13 فوجی ہلاک ہوگئے۔

صوبہ ہرات میں ضلع فارسی کا ضلعی افسر چار محافظوں سمیت مجاہدین کے حملے میں ہلاک ہوگیا۔

صوبہ بلخ کے ضلع شولگری کے علاقے سیاہ آب میں مجاہدین کے ایک چھاپے میں دشمن کے 2 ٹینک تباہ اور ان میں سوار تمام فوجی ہلاک ہو گئے۔

صوبہ لوگر کے ضلع برکی براک کے علاقے ‘دوشیخ’ میں مجاہدین کے حملے میں کابل انتظامیہ کے 2 ٹینک تباہ اور متعدد اہل کار ہلاک ہوگئے۔

ان حملوں میں دشمن کے جانی نقصان کے علاوہ بھاری مقدار میں اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور گولہ بارود بھی غنیمت میں ملا ہے۔ اہم علاقوں سے دشمن کا صفایا ہوا ہے۔ مفتوحہ علاقوں میں چوروں، لٹیروں، غاصبوں، اغوا کاروں اور قاتلوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ انہیں شرعی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے جرم کی سزا دی جاتی ہے۔ عام لوگ مجاہدین کی آمد کے موقع پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ گرم جوشی سے ان کا استقبال کرتے ہیں۔ اچھے مستقبل کی توقع رکھتے ہیں۔

مجاہدین نے عوام کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کو اولین ترجیح دی ہے۔ اپنے خون سے عوام کے حقوق کا دفاع کیا ہے۔اسلامی اقدار اور قومی مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ اپنے اعلی اہداف کو ترجیح دی ہے۔ دشمن کے مذموم مقاصد اور منصوبوں کو ناکام بنایا ہے۔

مجاہدین اللہ کی مدد اور مجاہد عوام کی حمایت سے کامیابی کی منزل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اگر اللہ کی مدد اور عوام کی حمایت نہ ہوتی تو مجاہدین فتوحات اور کارنامے حاصل نہ کرسکتے۔ کیوں کہ مجاہدین کے وسائل دشمن کے وسائل کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

Related posts