عوام امریکی انخلا چاہتے ہیں

آج کی بات

امارت اسلامیہ خالص عوامی تحریک ہے، جس نے دو دہائیوں کے دوران بہت سی تکالیف اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ امارت نے اسلام اور وطن کے معاملات پر کبھی سودے بازی نہیں کی ہے۔ ہمیشہ اسلامی شعائر، اعلی اقدار اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے قیادت نے بھی اَن گنت قربانیاں دی ہیں۔

امارت اسلامیہ کے غیور مجاہدین نے ایک طرف اللہ تعالٰی کی مدد اور اپنے مجاہد عوام کی حمایت سے اسلام اور ملک کا مضبوط دفاع کیا ہے ۔ حملہ آوروں اور کٹھ پتلیوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ دوسری طرف دشمن پر ہلاکت خیز اور جارحانہ حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہے۔ کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں بہت سے علاقوں کو سفاک دشمن سے پاک کیا ہے۔ مثالی امن قائم کیا ہے۔ اگر کابل انتظامیہ خود کو افغان سمجھتی ہے تو حملہ آوروں کے مفادات کی حفاظت کے لیے افغان عوام کے قتلِ عام کا سلسلہ بند کرے۔ افغانستان میں آباد قبائل اور اقوام کے درمیان نفرت اور تعصبات کو ہوا دینے کی کوشش نہ کرے۔ اختیارات امارت اسلامیہ کے سپردکرے، تاکہ ملک میں ایک اسلامی اور خودمختار حکومت قائم ہو سکے۔ ایک ایسی اسلامی حکومت، جس سے لوگ خوش ہوں۔ ان کی جان، مال، عزت اور وقار محفوظ ہو۔

حملہ آوروں کو چاہیے وہ ہوش کا ناخن لیں۔ افغانستان نکل جائیں۔ تاکہ افغان عوام اپنے ملک میں اپنی مرضی سے نظام تشکیل دیں۔ امارت اسلامیہ اپنی دھرتی، اقدار اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ امارت تب تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، جب تک کہ حملہ آور ہماری سرزمین نہیں چھوڑ دیتے۔

افغان عوام کا سب سے بڑا اور بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ حملہ آور قوتیں جلد از جلد ہمارا ملک چھوڑ دیں۔ افغان عوام کا قتلِ عام بند کریں۔ ہم امریکا اور یورپ سے جنگ لڑنے کے لیے وہاں نہیں گئے ہیں، بلکہ انہوں نے ہمارے ملک پر دھاوا بولا ہے۔ یہاں کشت و خون کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*