انٹیلی جنس موجودگی کا مطلب؟

آج کی بات

امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز امریکی ریاست نیو جرسی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘طالبان کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ وہاں ہماری مؤثر انٹیلی جنس قوت موجود رہے گی۔’

امریکی صدر کی اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے وہ اب بھی افغانستان کو ایک امریکی ریاست کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ جس طرح کوئی اپنی ریاست کے بارے میں فیصلے کرتا اور بیان دیتا ہے، ٹرمپ افغانستان کے بارے میں بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔ گویا افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا، اس میں کمی کرنا، اضافہ کرنا یا برقرار رکھنا اب بھی ان کی مرضی کا معاملہ ہے یا مذاکرات سے وہ بے خبر ہیں یا ان کے نزدیک مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں اپنی تمام تر وحشتیں آزما دیکھی ہیں۔ وہ اپنے استعماری نظریات اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ہر روز یہاں سے امریکی فوجیوں کی لاشیں جا رہی ہیں۔ امریکا نے ان تلخ حالات سے مجبور ہو کر مذاکرات کا انتخاب کیا۔

چوں کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاکہ قابض فوج کا انخلا یقینی بنایا جا سکے۔ وہ خواہ کسی بھی شکل میں ہو۔ امریکا کو افغانستان سے جانا ہوگا۔ یہاں کوئی امریکی موجودگی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امریکی خفیہ قوتوں یا کسی اور شکل میں اس کی موجودگی برقرار رکھنے پر کوئی بھی آمادہ نہیں ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کی موجودگی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان میں زیرو وَن، زیرو ٹو، زیرو تھری،ضربتی قطعہ، کمپائن اور داعش  وغیرہ کے نام سے قاتل کارندے ایجاد کیے گئے ہیں، جو دن رات افغان مظلوم عوام پر تشدد کرتے ہیں۔ امریکی اعتراف کے مطابق سی آئی اے کی ہدایت پر یہ قاتل کارندے دن رات افغان عوام کو تشدد کا نشانہ بناتے اور ہراساں کرتے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ گفتگو ماضی میں ان کے اظہار خیال سے واضح طور پر مختلف ہے۔ شاید انہوں نے اپنے مخالفین کو رام کرنے یا افغانستان میں کٹھ پتلی حکام کو جھوٹی تسلی کی خاطر یہ بیان دیا ہے۔ انٹیلی جنس موجودگی کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کا ہر ملک، خاص طور پر علاقائی ممالک اپنے مفادات اور نقصان جانچتے ہیں۔ حتی کہ بہت سے ممالک کے سفیر ، رفاہی ادارے ، کھلاڑی اور تاجر بھی انٹیلی جنس کا کردار ادا کرتے ہیں۔

بہر حال افغانستان میں غیرملکی موجودگی بارے افغان عوام کا مؤقف وہی ہے، جس کو امارت اسلامیہ نے کئی بار واضح کیا ہے۔ مذاکرات کی میز پر بھی پیش کیا ہے۔ آخر کار مدمقابل فریق نے تحریری طور پر یہ موقف تسلیم کیا ہے کہ سفارتی عملے کی موجودگی کے علاوہ کسی بھی شکل میں ایک فوجی فرد کو برقرار رکھنا بھی قابل قبول نہیں ہے ۔ چناں چہ افغان عوام بہت جلد اپنے وطن کو حملہ آوروں سے مکمل طور پر آزاد دیکھنے کے منتظر ہیں۔ لہذا امریکی حکام اور خاص طور پر ٹرمپ کو چاہیے وہ متنازع بیانات دے کر مذاکراتی عمل کو داغ دار نہ کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*