نومبر 16, 2019

سو سالہ یوم آزادی کون منائے؟

سو سالہ یوم آزادی کون منائے؟

آج کی بات

نیٹو، امریکا اور انگریزوں کے سہارے مسلط شدہ کٹھ پتلی حکمران ملک کی آزادی کا سو سالہ جشن ان حالات میں منا رہے ہیں کہ ہزاروں غیرملکی حملہ آور فوجی یہاں موجود ہیں۔ افغانستان کی سرزمین اور فضا پر ان کا قبضہ ہے۔ قاتل ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کو مقتل گاہ بنا دیا ہے۔ انگریز اور امریکا کے غلام ایک طرف بڑی وضاحت کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اگر امریکا اور مغرب فوجی اور معاشی امداد بند کر دیں تو ایک ماہ بھی ان کی حکومت نہیں چل سکتی۔ فوج کا زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن جب ملک کی آزادی کا وقت اور موقع آتا ہے تو سب سے پہلے یہ لوگ جشن مناتے اور خود کو اس کا حق دار سمجھتے ہیں۔

19 برس سے جاری تاریخی جدوجہد اور آزادی حاصل کرنے کے لیے تاریخ ساز معرکے کے بعد امارت اسلامیہ نے امریکا کو مجبور کیا کہ وہ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلائے۔ افغان عوام کی خودمختاری اور اقدار کا احترام کرے۔ کابل انتظامیہ ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور قابض فوج کے انخلا کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ تاکہ ملک میں مستقل امن و استحکام پیدا نہ ہو۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ حکمرانوں میں سے کوئی بھی جشن آزادی کی تقریب میں انگریزوں کے خلاف ایک لفظ بولنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔ پھر بھی جشن منانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

یہ جشن منانے کا کون سا طریقہ ہوگا کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے کابل اور دیگر شہروں میں بین الاقوامی ڈانسرز کو بلا کر رقص اور موسیقی کی محفل کا اہتمام کر کے افغان عوام کی دینی اور قومی اقدار کا مذاق اڑاتے ہیں۔

بلاشبہ یوم آزادی منانا ان افغانوں کا حق ہے، جو آزادی کے حقیقی جذبے سے سرشار ہیں۔ آزادی کی قدر سمجھتے ہیں۔ آزادی حاصل کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ جشن آزادی منانا ان افغانوں کو زیب دیتا ہے، جو آج بھی انگریزی پالیسی سے  نفرت کرتے اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ اپنے ہم اسلاف مجاہدین کے نقش قدم پر چل کر اپنی دھرتی کی خودمختاری یقینی بنائیں گے۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملک کو قابض قوتوں کے ناجائز قبضے سے آزاد کرائیں گے۔ چناں چہ وہ قابض امریکی اور انگریز فوج کے خلاف نبزد آزما ہیں۔ آزادی کے حصول کے لیے تاریخی جدوجہد کر رہے ہیں۔

اس عزم کے بغیر اگر کوئی شخص حقِ خودارادیت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ ماہ اسد کی 28 تاریخ کے غازیوں، مجاہدین اور فاتحین کی روح اور تاریخ سے ظلم اور غداری ہوگی۔

اللہ تعالی سے دست بدعا ہیں کہ جس طرح انگریز سامراج کے خلاف ہمارے اسلاف کی مدد کی تھی، اسی طرح موجودہ انگریز استعمار، امریکا اور اس کے غلاموں کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کرے۔ انہیں ہمت دے کہ وہ فتح مبین حاصل کر کے افغان سرزمین کو قابض فوج اور کٹھ پتلیوں کے جبر سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر کے اسے امن کا گہواہ بنائیں۔

 

Related posts