طالبان حکومت عظیم نعمت ہے

آج کی بات

امارت اسلامیہ عوام کی کوکھ سے جنم لینے والی ایک تحریک تھی۔ اس نے افغانستان اور افغان عوام کے بہت سی اقدار اور مفادات کو محفوظ کیا ہے۔ ملک اور قوم کو غیرملکی حملہ آوروں اور ان کے غلاموں کے شر، ظلم اور دہشت سے بچایا ہے۔ امارت اسلامیہ کے غیور مجاہدین نے افغان عوام اور وطن عزیز کی روحانی اور مادی ترقی کے درخت کو اپنے لہو سے سیراب کیا ہے۔

افغانستان اور افغان عوام کے سامنے امارت اسلامیہ کی چند ان کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہیں، جن کا دشمن نے بھی اعتراف کیا ہے۔

امارت اسلامیہ نے فساد پر مبنی نظام ختم کر دیا۔

انارکی کا خاتمہ کیا۔

طوائف الملوکی کا خاتمہ کیا۔

ملک کو تقسیم ہونے سے بچایا۔

سرحدات کا تحفظ کیا۔

خودمختاری کو یقینی بنایا۔

تعلیم کو فروغ دیا۔ ہزاروں مدارس اور اسکولز قائم اور فعال کیے۔

بدعنوانی اور فحاشی کا خاتمہ کیا۔

امارت اسلامیہ نے وطن عزیز میں عملی طور اسلامی نظام نافذ کیا۔

مثالی امن قائم کیا۔

انصاف کا بول بالا کیا۔

وفاق کو مضبوط کیا۔

ٹاپی منصوبے کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ معاہدہ کیا۔

قومی شاہراہوں کی مرمت اور تعمیر کے

سرکاری اداروں کو فعال بنایا۔

کرزئی کے دور میں چھپنے والے موجودہ جاری کرنسی نوٹ امارت اسلامیہ نے ڈیزائن کیے تھے۔

قومی، علاقائی، لسانی اور نسلی تعصبات کا خاتمہ کر کے اخوت اور ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

اگر تعصب کی عینک اتار کر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو کسی بھی حکومت اور تنظیم نے افغانستان اور افغان عوام کو امارت اسلامیہ کی طرح ترقی نہیں دی ہے۔ حملہ آوروں کی توپوں، ٹینکوں اور ڈالرز کا سہارا لے کر اقتدار تک پہنچنے والے چند عناصر ہی امارت اسلامیہ کی حکمرانی سے خوف زدہ ہیں۔ وہ بچگانہ ذہنیت اور پروپیگنڈے کے ذریعے امارت اسلامیہ اور عوام کے مابین دراڑ پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، تاکہ وہ کچھ عرصے کے لیے اپنے اقتدار کو دوام بخش سکیں۔

امارت اسلامیہ وطن عزیز اور مظلوم عوام کی آزادی، فلاح و بہبود اور خوش حالی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ اس کے لیے بہت قربانیاں دی گئی ہیں۔ امارت تب تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، جب تک ملک آزاد اور اس میں اسلامی نظام نافذ نہ ہو جائے۔ اسلامی نظام کے نفاذ میں روحانی فوائد کے ساتھ مادی مفادات بھی پوشیدہ ہیں۔ مذکورہ بالا فوائد چند زندہ مثالیں ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*