نومبر 16, 2019

انگریز استعمار سے استقلال کی صدسالہ سالگرہ

انگریز استعمار سے استقلال کی صدسالہ سالگرہ

ہفتہ وار تبصرہ

رواں ہجری شمسی سال 28 اسد بمطابق 19 اگست انگریز استعمار سے افغانستان کی خودمختار کے حصول کے سو سال پورے ہونیوالے ہیں۔ ایک صدی قبل ہمارے مؤمن اور مجاہد اسلاف نے طویل جدوجہد کے نتیجے میں انگریز استعمار سے آزادی حاصل کرلی اور اس طرح افغانستان دنیا کا وہ ملک بن گیا،جس نے دیگر محکوم اقوام کو مغربی استعمار سے خودمختاری کے حصول کا الہام بخشا۔

خودمختاری یا سیاسی استقلال ہر ملت کا تسلیم شدہ حق ہے۔ ایک ملت اس وقت حریف  سمجھاجاتا ہے، جس کے پاس سیاسی خودارادیت ہو۔ اگرچہ موجودہ دنیا میں چند افراد صرف مادی مفادات کی تلاش میں ہے  اوراستقلال، حریت اور خودمختار حاکمیت کی طرح معنوی اقدار کو اعتناء نہیں کرتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسانی معاشرے اور افراد کے درمیان سب سے عظیم ثروت معنوی اقدار ہے۔ یہی معنوی اقدار ہے، جس نے انسان کو دیگر ذی روح موجودات سے امتیاز بخشا ہے، ورنہ مادی لحاظ سے ممکن انسان دیگر انواع سے کوئی برتری نہ رکھے۔

اگرچہ افغان مسلمان ملت لگارتار بیرونی حملوں کی وجہ سے  دیگر اقوام سے پسماندہ ہے۔ مگر  ان کی معنوی ثروت مندی کا ذخیرہ بہت غنی اور قابل رشک ہے۔ ہماری ملت نے نہ صرف انگریز استعمار سے خودمختاری کے حصول میں تقدم کا کارنامہ رکھتی ہے۔ بلکہ بیسویں صدی میں سوویت یونین کو محوہ اور کیمونزم کی ہتھکڑیوں سے آزادی کا فخر بھی اس ملت کی تاریخ میں درج ہے  اور اس وقت اکیسویں صدی میں امریکی استعمار سے خودمختاری کے حصول کا فخر بھی پورا ہونے کی حالت میں ہے۔

چونکہ اب انگریز استعمار سے خودمختاری کے حصول کے سو سال پورے  ہونیوالے ہیں،اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری ملت کی نوجوانوں کو اپنے مجاہد اسلاف کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاکہ نوجوان نسل سمجھ جائیں کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے،جس کےحصول کے لیے ہمارے اسلاف نے انگریز استعمار  کے خلاف طویل جدوجہد کی ہے۔آج ایک بار پھر مؤمن ملت کے بہادر فرزندوں نے اپنے سرپر کفن باندھ کر  قربانی کے میدان میں نذرانہ کیا، ملت کے فرزند سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان ملت صرف تب عزت کی زندگی گزار سکتی ہے،جب وہ خودمختار  اور کفری استعمار کے اثر سے محفوظ ہو۔

ہمارے نوجوانوں کو یہ  بھی سمجھنا چاہیے کہ موجودہ حالت عین سو سال کی حالت کو دہرا رہا ہے، ایک بار پھر اسی طرح استعمار ہمارے ملک آچکا ہے،  ہماری خودمختاری اور ارضی استقلال کو سلب کیا ہے، شاہ شجاع کی طرح ان کے کٹھ پتلیوں کو ملت مسلط کیاہے   اور ہمارے ملک کے تمام امورکو  اپنے کنٹرول میں لیا ہے۔ واحد فرق صرف نام اور چہرے ہیں اور بس۔

امارت اسلامیہ کا خیال ہے کہ کل کی طرح آج بھی استقلال کا حصول ایک دفعہ پھر جہاد فی سبیل اللہ اور عوام کی حمایت کی ضرورت ہے۔ افغان مجاہد ملت کے تمام طبقات کو اپنے ایمان اور ضمیر کی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دینا چاہیے۔ تو انہیں پوری قوت اور اخلاص کیساتھ مجاہدین کے شانہ بشانہ کھڑے رہنا چاہیے۔ حریت پسند جہادی جدوجہد کی حمایت کریں۔ تاکہ اللہ تعالی کی نصرت اور مجاہدین کی قربانی کی برکت سے غاصب ہمارے ملک سے محوہ اور سربلند ملت حقیقی آزادی کے حقیقی نعمت سے سرفراز ہوجائے۔

Related posts